حنا سے ثنا ء تک۔۔محمود چوہدری

امریکہ میں شاید کوئی آپ کو ایساامریکی مل جائے جسے نائن الیون کے بارے علم  نہ ہو لیکن اٹلی میں آپ کو ایسا کوئی اطالوی نہیں ملے گا جو اخبار پڑھتاہو اور اسے حنا سلیم کے بارے کچھ پتہ نہ ہو ۔بیس سالہ حنا سلیم کوبارہ سال پہلے اس کے والد نے اٹلی میں ذبح کر دیا تھا۔ اسکا والدہی اسے بچپن میں  پاکستان سے اٹلی لایا اور اسے انہی سکولوں میں تعلیم دلوائی جہاں مردو عورت کے مساوی حقوق،مردو عورت کی برابری ، عورت کی اپنی مرضی ، عورت کی اپنی آزادی ،اور اس کا اپنا اختیارجیسے اصول سکھائے اور پڑھائے جاتے ہیں ۔حنا سلیم کا جرم یہ تھا کہ اس نے جو پڑھا ان اصولوں پر یقین بھی کر بیٹھی ۔ اس نے اٹلی میں جاب شروع کر دی تو یہ سمجھ بیٹھی کہ زندگی کے دیگر اہم فیصلوں میں بھی وہ خودمختارہے ۔ والد اسے اتنی زیادہ خود مختاری دینا نہیں چاہتا تھا ۔دونوں کا جھگڑا ہوا ۔ وہ علیحدہ رہنے لگی، باپ نے بہانے سے گھر بلایا اس کے گلے پر چھری چلائی اوراس کی لاش گھرکے صحن میں دبا دی۔

اس اپریل بارہ سال پرانی کہانی پھر دھرائی گئی ہے ۔اب کی بار ظلم کا شکار ہونے والی لڑکی کا نام ثنا ءہے ۔ ثنا ءچیمہ کو بھی والدبچپن میں اٹلی لے آیا تھا،اس نے بھی یہیں تعلیم حاصل کی او رڈرائیونگ سکول  میں جاب کرلی ۔وہ گاڑی چلانا سکھاتی تھی ۔لوگوں کو قانون ، راستوں اور منزلوں کا ادراک دیتی تھی ۔ ثناءچیمہ کے ذہن میں بھی یہ بات سما گئی کہ وہ بھی اپنی منزلوں کے راستے کا انتخاب خود کر سکتی ہے ۔ اسے لگا کہ شاید وہ بھی اپنے فیصلوں میں آزاد ہے ۔ اسے پاکستان بلایاگیا ۔ اسکے والد اس کی شادی برادری میں کرنا چاہتے تھے لیکن اس نے انکار کیا ۔وہ کسی پاکستانی سے محبت کرتی تھی ۔ 19اپریل کو اسے واپس اٹلی آناتھالیکن اٹھارہ اپریل کو اس کے والدنے بھی اپنے بھائی اور بیٹے کی مدد سے اسے قتل کر دیا۔محلے والوں کو بتایا گیاکہ ثناءکو ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور وہ فوت ہوگئی ہے اگلے دن اسے جلد ی میں دفنا بھی دیاگیا ۔ ثناءچیمہ اپنی دوستوں سے سوشل میڈیا پر رابطے میں تھی ۔ دوستوں نے اطالوی میڈیا کو بتایاکہ ثنا ءقتل کر دی گئی ہے ، اطالوی میڈیاکی ہر اخبار نے اس خبر کو اپنا موضوع بنایا ۔خبر سوشل میڈیا پر مشہور ہوئی، پاکستانی پولیس نے نوٹس لیا ، اس کی قبر کشائی کروائی گئی اور فرانزک رپورٹ سے یہ ثابت ہو گیا کہ اسے گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا

بارہ سال پہلے حنا سلیم کاغیرت کے نام پر قتل ہوا تو پورے اٹلی میں تھرتھلی مچ گئی ، اٹلی کی سیاست ، صحافت اور ثقافت میں ایک بھونچال پیدا ہو گیا ۔ وہ اٹلی جس کی کوکھ سے مافیا نے جنم لیا تھا ، جہاں بھتہ خوری اور غنڈہ گردی کے نام پر لوگوں کو سر بازار گولی مار دی جاتی ہے ، جنہوں نے گاڈ فادراور مافیا جیسی بدنام زمانہ اصطلاحیں دنیا کو  دیں تھیں ۔ وہاں ایک بیس سالہ لڑکی کے قتل پرہونے والا ردعمل طوفانی تھا جس میں اٹلی میں بسنے والے پاکستانیوں کو ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کی تہذیب ، ثقافت اور رسم و رواج کو تنقید کا نشانہ بنا یاگیا ۔اٹالین سکول کے بچوں سے لیکر اساتذہ تک پاکستان کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں کمر بستہ ہو گئے ۔اخباروں میں یہ تک لکھا گیا کہ حنا سلیم کے والد نے اسے قبر میں دباتے وقت اس کا منہ قبلہ طرف کیا ہوا تھا یعنی اس کے قتل کو مذہب کے ساتھ زبردستی جوڑا گیا ۔ اس کے قتل کے ٹھیک پانچ سال بعد ایک کتاب بھی اطالوی لائبریریوں کی زینت بنی جس میں اس کی پوری کہانی لکھی گئی

حنا سلیم کے قتل سے کچھ دن پہلے ہی اطالوی وزیر داخلہ جولیانو آماتو نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایسا قانون لانا چاہتے ہیں کہ اٹلی میں رہنے والے غیر ملکی پانچ سال بعد ہی اطالوی شہری بن سکیں لیکن ایک اس واقعہ نے پورے اٹلی کاماحول تبدیل کر دیا   حنا سلیم کی تصویرخواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ہر ایسوسی ایشن کے دفتر کے لئے لازمی ٹھہری ۔ ایک مراکشی لڑکی اس کے قتل پر پراپیگنڈہ کر کے اپنی سیاست چمکانے اوراطالوی پارلیمنٹ کی سیٹ جیتنے میں بھی کامیاب ہوگئی ۔ہمارے شہرکی پولیس انسپکٹر نے بھی اپنے دفتر میں حنا سلیم کی بہت بڑی تصویر لگا رکھی تھی ایک دن میں نے اسے پوچھ ہی لیا ۔ کہ اس تصویر کا آپ کے آفس میں کیا مطلب ہے ؟ کیا آپ کے ملک میں قتل نہیں ہوتے ، کیا جرائم کے حوالے سے اٹلی خودپوری دنیا میں بدنام نہیں ہے ؟ کیا اٹلی میں ہر سال 100سے زیادہ عورتیں قتل نہیں ہو جاتیں ؟ کیا اس قتل کو اس لئے اتنا بدنام کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک غیرملکی نے کیا ہے ؟خاتون انسپکٹر نے سپاٹ چہرے سے میری طرف دیکھا ۔ اور کہنے لگی”مجھے یہ غیر ملکی نہیں ،بس ایک عورت لگتی ہے ۔ ایک بیس سالہ لڑکی جس نے اڑنے کے سپنے دیکھے ، جس نے آزاد فضاءمیں اپنی مرضی سے جینے کی خواہش کی ، جو آزاد پیدا ہوئی تھی ۔ لیکن اسے ایک مرد کی غلامی تسلیم نہ کرنے کی سزا ملی ۔ہمارے لئے حنا سلیم دقیانوسی تصورات سے بغاوت کا استعارہ ہے.

حنا سلیم کے باپ کواطالوی عدالت نے تیس سال قید کی سزاسنائی ۔ ہمارے شہر میں ایک بین الثقافتی کانفرنس تھی ،اس کانفرنس میں وہ جج بھی مدعو تھا جس نے حنا کے والد کو سزا سنائی تھی ۔ میں نے اس سے سوال کیا کہ کیا۔ ساؤتھ اٹلی میں ارینجڈ میرج کا رواج نہیں ہے ؟ کیا اٹلی میں 1981ءتک غیرت کے نام پر قتل کا قانون موجود نہیں تھا ۔ وہ کہنے لگا بالکل موجود تھا ۔ میں نے کہا تو پھر حنا سلیم کے غیرت کے نام پر قتل میں آپ کے سارے معاشرے میں اتنا ہیجان کیوں موجود ہے ۔ اس کے چہر ے پر گہری سنجیدگی عود آئی کہنے لگاغیرت کا غصہ ایک پارٹنر کی بے وفائی کی صورت میں تو سمجھ میں آتا ہے لیکن میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک والد اپنی بیٹی کو صرف اس لئے قتل کردے کہ وہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینا چاہتی تھی ۔

حنا سلیم کے واقعہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے  ردعمل کے بعد بھی اٹلی میں رہنے والے تارکین وطن والدین نے کچھ نہیں سیکھا ۔ اٹلی میں ہی سال 2009ءمیں 18سالہ مراکشی لڑکی ثنا ءدفانی کو اس کے مراکشی باپ نے اسی وجہ سے قتل کر دیا تھا کہ اس کا بوائے فرینڈ ایک اٹالین لڑکا تھا ۔اس مراکشی کو عمر قید کی سزا دی گئی ۔ سال 2010ءمیں ایک پاکستانی نے اپنے بیٹے کے ساتھ ملکر اپنے 46سالہ بیوی شہناز بیگم کو صرف اس لئے قتل کر دیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی اپنے رشتہ داروں کے ہاں کرنا چاہ رہی تھی ۔ اس پاکستانی کو عمر قید اور اس کے بیٹے کو 20سال قید کی سزا دی گئی ۔

پاکستان میں ہر سال تین سو خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوجاتی ہیں ۔ چودہ صدیوں میں انسان نے صرف اتنی ترقی کی ہے کہ پہلے وہ بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیتا تھا اب کچھ باپ بیٹی کو جوان کر کے صرف اس لئے قتل کر دیتے ہیں کہ وہ آداب غلامی قبول نہیں کرتیں  ۔ہر مرد کے اندر ایک ڈکٹیٹر گاؤ  تکیہ لگا کر بیٹھا ہے ۔ اس کی غیرت کا تعلق کسی معاشرے کسی مذہب سے نہیں ہے بلکہ اس کا نفس امارہ صرف اس بات سے تسکین محسوس کرتا ہے کہ کمزور اس کا حکم بجالائیں۔ اسی لئے آپ کوہر باپ یہ کہتے ہوئے ملے گا کہ میری بیٹی بہت اچھی ہے۔ جانتے ہیں کیوں ؟ کیونکہ بیٹے اپنی زندگی اپنی مرضی سے جیتے ہیں اور صرف بیٹی ہی ہے جو باپ کی ہربات میں ہاں میں ہاں ملاتی ہے ۔اور اگر ہاں میں ہاں نہ ملائے تو پھرحنا سلیم یا ثنا ءچیمہ جیسا انجام اس کا مقدر بنتا ہے۔

یورپی میڈیا جانے کیوں ہر بات میں ہمارے مذہب کو کھینچ لاتا ہے حالانکہ مذہب ا س معاملے میں بڑا واضح ہے ۔۔ جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے ساری انسانیت کو قتل کیا ۔ اگر مذہبی فرائض کو پورا کرنے کے نام پر باپ قتل کرتے ہوتے تو کوئی باپ اپنے بیٹے کو بھی قتل کرتا ۔ یورپ میں اگر کسی کا بیٹا کوئی گوری گرل فرینڈ رکھے تو فخرکیا جاتا ہے ۔ دینی احکام کی بجاآوری  میں قرآن کا پیغام واضح ہے کہ لا اکراہ فی الدین ”دین میں کوئی جبر نہیں “یہ تصوربھی ہمارے معاشرے میں غلط ہے کہ اولاد کے گناہ کا بوجھ والدین کے سر ہوگا ۔ قرآن مجید میں بڑا واضح ہے کہ کوئی آدمی کسی دوسرے کا وزن نہیں اٹھائے گا ہر آدمی اپنے اعمال کا خود جواب دہ ہے۔

ایسا کوئی بھی واقعہ ہوجائے تو یورپ میں موجود ہماری کمیونٹی کا خیال ہوتا ہے کہ ایسے واقعات کو چھپایا جائے تاکہ ملک کی بدنامی نہ ہومیرے خیال میں ملک کی شہرت کسی انسانی جان سے زیادہ ضروری نہیں ہے ۔ ایسے واقعات کے بعد ہمیں یک زبان ہو کر ان کے خلاف  اپنی نفرت کا اظہار کرنا چاہیے تاکہ دنیا کو یہ پیغام ملے کہ ہم ایسی ظالمانہ ، جاہلانہ اور سفاکانہ رسوم کے خلاف ہیں اور یہ کہ یہ واقعات ہمارے مذہب اور ہمارے ملک کے کلچر کی نمائندگی نہیں کرتے ۔ ہمیں اپنی کمیونٹی کے اندر بھی ایسے واقعات کے خلاف گفتگو کرنی چاہیے تاکہ کوئی جاہل ان واقعات کو عزت نہ سمجھ بیٹھے ۔ یقین نہیں آتا تو اٹلی کی کوئی بھی اخبار اٹھا کر دیکھ لیں جس عزت کی خاطر ثناءچیمہ کو قتل کیا گیا اس کا جنازہ اب ہر ملک میں نکل چکا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

Save

Facebook Comments

محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”حنا سے ثنا ء تک۔۔محمود چوہدری

  1. بات آپ کی درست ہے لیکن جو والدین اتنی محنت سے پال ہوس کر بڑا کرتے ہیں جب وہی اولاد ان کے ماتھے کا کلنک اور باعث رسوائی بن جائے تو وہ یہ انتہائی قدم اٹھا جاتے ہیں
    جو کہ شرعی اخلاقی سماجی اور قانونی کسی طور پر بھی جائز نہیں

Leave a Reply