ایمن الظواھری کا امریکا کے خلاف جہاد کا اعلان

القاعدہ لیڈر ایمن الظواھری نے کہا ہے کہ یروشلم کو دارالحکومت تسلیم کرکے اپنا سفارت خانہ منتقل کرنے پر امریکا کے خلاف جہاد کرنا لازمی ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق پانچ منٹ پر مشتمل اپنے ویڈیو پیغام میں القاعدہ رہنما ایمن الظواھری نے امریکا کی جانب سے اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ممالک اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں اس لیے اب مسلمانوں کو امریکا کے خلاف جہاد کے لیے  اٹھنا  ہوگا۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کی باگ ڈور سنبھالنے والے ایمن الظواھری نے موجودہ فلسطین اتھارٹی پر بین المقدس کا سودا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسامہ بن لادن نے امریکا کو مسلمانوں کا پہلا دشمن قرار دیا تھا۔ جو مسلسل مسلم کش پالیسی پر گامزن ہے جس کے خلاف جہاد کرنا لازمی ہو گیا ہے۔ القاعدہ کی جانب سے یہ ویڈیو  تل ابیب بھی مسلمانوں کی سرزمین ہے کے نام سے جاری کی گئی ہے۔

Facebook Comments

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply