گوادر میں مزدوروں پر حملہ، چینی قیادت کو پیغام ؟

گوادر میں مزدوروں پر حملہ، چینی قیادت کو پیغام ؟
طاہر یاسین طاہر
سی پیک ایک ایسا اکنامک منصوبہ ہے جس کے بارے شنید ہے کہ اس سے پاکستان اور خطے کی تقدیر بدل جائے گی۔اس معاشی ترقی سے دنیا بھی استفادہ کرے گی۔ سی پیک کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چائنہ نے جس منصوبے میں سرمایہ کاری کی،اب اس منصوبے میں دنیا کے کئی ممالک بھی شامل ہونے کے لیے دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔حال ہی میں عرب ریاست عمان نے بھی اس منصوبے کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا جبکہ ایران،کو اس منصوبے میں شمولیت کی باقاعدہ دعوت بھی دی گئی ہے اور ایران اب اس منصوبے کا حصہ بننے کو تیار بھی ہے۔بھارت کو اس منصوبے سے شروع دن سے ہی تکلیف ہے اور بلاشبہ وہ اس منصوبےکے خلاف سازشوں کا جال بچھا چکا ہے۔چین کی اس بڑی سرمایہ کاری کو غیر محفوظ ظاہر کرنے کے لیے وطن دشمن طاقتیں کئی طرح کے کھیل،کھیل رہی ہیں۔بہرحال اس روٹ اور اس سے منسلک تجارتی قافلوں،اور دیگر جزئیات کی حفاظت کرنے کے لیے ایک مشترکہ فورس بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔
یہ امر بھی واقعی ہے کہ اس منصوبے سے منسلک قومی یکجہتی کے اظہار کے لیے وزیر اعظم پاکستان،اپنے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ اس وقت چین کے دورے پر ہیں۔ وزیر اعظم کا اپنے ساتھ چاروں وزرائے اعظم کو چین کے دورے پر لے جانا ،دراصل چینی قیادت ،اور دنیا کو دکھانا ہے کہ اس منصوبے کی اہمیت اور اس کی افادیت سے پوری پاکستانی قوم آگاہ ہے اور اس پر پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت ہم آواز بھی ہے۔گوادر کا منصوبہ ہو یا سی پیک کا منصوبہ، یا کوئٹہ میں ہونے والی فرقہ وارانہ بنیادوں پر دہشت گردی۔ہم اس کو عالمی سازشوں کے تناظر سے ہٹ کر نہیں دیکھ سکتے۔ یہ بات درست ہے کہ بلوچستان لسانی بنیادوں پر عالمی طاقتوں کی سازشوں کا مرکز ہے۔
یاد رہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے پاکستان کے اہم ترین صوبے بلوچستان کے شہر گوادر میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 10 افرادجاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔میڈیا کا لیویز ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ فائرنگ گوادر کے علاقے پشگان میں سڑک پر ہونے والے تعمیراتی کام پر مامورمزدوروں پر کی گئی جس کے نتیجے میں 8 مزدور موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ دو نے راستے میں دم توڑا۔تاہم وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے میں 8 مزدوروں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بلوچستان لبریشن آرمی کے ترجمان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ مزدور ایک سڑک کی تعمیر میں مصروف تھے جب مسلح افراد نے انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا۔فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ مقتولین کا تعلق سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز سے ہے۔واقعے کے بعد فرنٹیئر کور، پولیس اور لیویز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جبکہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ “را سے مالی مدد لینے والے پاکستان کی ترقی نہیں دیکھنا چاہتے، وعدہ کرتا ہوں دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے”۔
یاد رہے کہ گذشتہ سے پیوستہ روز ہی سینیٹ میں ڈپٹی چیئرمین مولانا عبد الغفور حیدری کے قافلے پر بھی بلوچستان کے شہر مستونگ میں حملہ ہوا تھا،جس کے نتیجے میں 26 افراد شہید جبکہ مولانا سمیت 42 افراد زخمی ہو گئے تھے۔اس امر میں کلام نہیں کہ بلوچستان میں اس سے پہلے بھی بالخصوص دوسرے صوبوں کے مزدوروں کو تشدد کر کے قتل کر دیا جاتا رہا ہے،اور ان سارے واقعات کی ذمہ داری بھی بلوچستان لبریشن فرنٹ یا دیگر بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں ہی قبول کرتی رہی ہیں، جبکہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والی دہشت گردی کی ذمہہ داری طالبان،لشکر جھنگوی اور اسی فکر کی دیگر تنظیموں نے ہمیشہ قبول کی ہے۔اب جبکہ وزیر اعظم اپنے چاروں وزرائے اعلیٰ سمیت چین میں ہیں، تو دو ،دنوں میں دہشت گردی کے دو واقعات سے چینی قیادت کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ آپ کی تقریباً 46 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری محفوظ نہیں ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ دشمن دن بدن اپنی کارروائیوں میں تیزی لائے گا۔مگر ریاستی اداروں کو آپریشن ضرب عضب،اور رد الفساد کو با لخصوص ان علاقوں میں تیز تر کرنا ہو گا،نیز وہ سپیشل فورس جو سی پیک کی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہے اسے بھی اپنا فعال کردار ادار کرتے رہنا چاہیے۔بھارت،افغانستان کی ایجنسیاں سازشیں کرتی ہی رہیں گی، مگر ان سازشوں کے طفیل کم نصیب مزدوروں اور عام انسانوں کو ،سی پیک یا کسی بھی دوسرے معاشی و فکری نظریے کی بنا پر دہشت گردی کا شکار ہونے سے بچانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

Facebook Comments

اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply