عزت مآب ٹرمپ مدظلہ العالی کی ارض حرمین آمد
ڈاکٹر ندیم عباس
تمام مسلمانوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ دنیا کے طاقتور ملک امریکہ کے منتخب صدر جو امریکہ میں مسلمانوں کو سواگت کرنے کے لیے بیقرار رہتے ہیں وہ ارض حرمین تشریف لا رہے ہیں ۔یہاں وہ اسلام پر لیکچر دیں گے جس میں وہ اس مقدس سرزمین پر کھڑے ہو کر پوری طاقت کے ساتھ دنیا کو بتائیں گے کہ اسلام امن کا دین ہے. اسی لیے ان کے شایانِ شان استقبال کے لیے پوری دنیا سے بخشووں کو ارض حرمین بلایا گیا ہے تاکہ اسلام کے تحفظ کا کام پوری دلجمعی کے ساتھ کیا جا سکے۔شنید ہے کہ بخشوؤں کی بڑی تعداد ان کا خطاب براہ راست سنے گی۔
عالم اسلام وائٹ ہاؤس کے گدی نشین کا شکر گزار ہے کہ انہوں نے اپنے قیمتی اوقات میں سے کچھ وقت امتِ مسلمہ کے لیے نکالا ۔یہ تو عالی جناب کی غریب پروری ہے ویسے تو آپ سے پہلے والوں اور آپ کے اقدامات سے امت مسلمہ افغانستان سے لیکر صومالیہ تک انتہائی چین کی نیند سو رہی ہے معذرت چاہتا ہوں کہیں مشترک لفظی آپ کی طبیعت پر گراں نہ گزرے یہ لفظ چین میں چ پر زبر ہے زیر نہیں ہے ۔
ویسے آپ نے ہمارے ہاں تشریف لا کر ہمیں عزت بخشی ۔یہ جناب کا بڑا پن اور غریب پروری ہے ورنہ ہم تو سوتے جاگتے جناب کے قصیدے پڑھتے ہیں، آپ جیسا حکمران ہی عالم اسلام کے بتیس ملکی اتحاد کی قیادت سنبھال سکتا ہے کیونکہ ہمیں مجاہد فی سبیل اللہ کی ضرورت ہے جو بغیر لالچ کے کام کرے اب ایسی مخلوق غلام قوموں میں پیدا نہیں ہوتی۔ اس لیے ہوا میں مسلمانوں زمینوں پر پھول برساتے شاہینوں کی طرح اسے بھی درآمد کرنا پڑتا ہے، ہم نے سنا ہے آپ کے ہاں لوگ ایوان صدر میں جس طرح داخل ہوتے ہیں اسی طرح واپس آ جاتے ہیں اسی لیے تو جناب کو اھلا و سھلا کہہ رہے ہیں ویسے ہم مسلمان صفائی کو ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اس لیے جب اقتدار ہمارے ہاتھ میں آتا ہے تو ہم خزانے سے لیکر لوگوں کی جیبوں تک کی صفائی کرتے ہیں تاکہ لوگ یاد رکھیں کہ ہم نے ان کے لیے انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی خدمات سرانجام دی ہیں ۔
محترم ٹرمپ صاحب ہم امید کرتے ہیں کہ آپ افغانستان،عراق اور شام کے بعد اب کسی اور مسلمان ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کا اعلان فرمائیں گے بلکہ ہمیں یقین ہے کہ یمن میں جاری امن مشن کو مزید وسعت دیں گے تاکہ وہاں برسائے جانے والے پھولوں سے جو شہر آباد ہو رہے ہیں وہ رہتی دنیا تک یمنیوں کو یاد رہیں اور دنیا کے آزاد فکر انسان ان علامات کو دیکھ کر آپ کی عوام سے محبت کا اندازہ لگائیں۔ ویسے تو اندر کی بات اب تک یہی ہے کہ جب آپ کے عطا کردہ پھول ہم آبادیوں پر گراتے ہیں تو ان کے استقبال کے لیے بڑی تعداد میں بچے اور عورتیں جمع ہو جاتی ہیں ،ہم نے کئی بار پھولوں کی رم جھم کرنے کے بعد دیکھا ہے کہ وہ خوشی کے عالم میں کسی چیز کو آگ لگا کر دھواں بنا لیتے ہیں۔ اس میں ہمیں اشارہ دے دیتے ہیں کہ آپ کے پھول مل گئے ہیں اور تو اور جناب کچھ بچوں اور عورتوں کو اتنی خوشی ہوتی ہے کہ ان کی آوازیں ہم تک پہنچ رہی ہوتی ہیں اور ہم ہاتھ ہلا ہلا کر ان کے لیے مزید خوشی کا انتظام کرتے ہیں ۔
جناب کا اقبال بلند ہو فلسطین کی طرف بھی آپ کی توجہ درکار ہے وہاں کافی عرصے سے خاموشی ہے۔ اسی طرح لبنان میں کچھ سر پھرے جمع ہیں ہم نے سنا ہے افغانستان میں کوئی بڑا سا پھول گرا کر آپ نے بہت سے لوگوں کو زمین کے سینے میں پناہ دی ہے۔ یہ حکمت عملی بہت اچھی ہے یہ دنیا مشکلات کا گھر اور اللہ کے بندوں کے لیے قید خانہ ہے ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ اس کامیاب تجربے کو مزید آگےبڑھائیں اگر نصیبِ دشمناں کہیں روپے پیسے کی کمی ہے تو حکم فرمائیں ہم اپنی دولت سمیت آپ کے چرنوں پر نچھاور ہو جائیں گے ۔
ہمیں معلوم ہوا کہ آپ کچھ دھیمی دھیمی آوازوں سے پریشان ہیں ، آپ اس پریشانی کو دل سے نکال دیجیے ہم نے کافی سارے بخشو آپ کی اسی پریشانی کو دور کرنے لیے اکٹھے کیے ہیں، ہمیں ان سے لڑنے کا بڑا تجربہ ہے۔ بس ہمیں آپ کی آشیرباد چاہیے باقی ہم دیکھ لیں گے، ہم یہ سارا کام صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں گے، ہمیں اس کے لیے کسی سے کوئی اجر نہیں چاہیے ہم تو فقط یہ چاہتے ہیں کہ جناب اسی طرح چین کی نیند سوئیں جیسی چین کی نیند آپ کے عطا کردہ امن سے عراق،شام اور یمن کے بچے سو رہے ہیں ۔
زیادہ سمع خراشی پر معذرت چاہتا ہوں،آخر میں یہ بات آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے خطاب کی کامیابی کے لیے ہم نے حرمین میں بہت سے لوگوں کو دعا پر لگا رکھاہے ۔کافی سارے بکرے خرید لیے ہیں جن کو روزانہ کی بنیاد پر آپ کے صدقے کے طور پر ذبح کیا جا رہا ہے تاکہ جب آپ تشریف لائیں تو” ستیں خیراں ہون” اور جب آپ خطاب فرمائیں تو آپ کا خطاب ایسا پر اثر ہو کہ مسلمانوں کی عظمت رفتہ بحال ہو جائے ۔آپ کی برکت سے تیل کے مزید کنوئیں دریافت ہو جائیں۔ سونے کی کانیں نکل آئیں بلکہ سونے کی کان والا آپشن زیادہ بہتر ہے کیونکہ تیل لانے لیجانے پر کافی محنت کرنا پڑتی ہے اور سونے کا کاروبار صاف ستھرا کاروبار ہے ۔
امید ہے رہتی دنیا تک آپ کی اسلام دوستی کی مثال دی جاتی رہے گی اور آپ کا خطاب امت مسلمہ میں نئی روح پھینک دے گا ۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں