نظریاتی اختلاف ، پارٹی کی بنیاد پر اختلاف ، دھڑوں کی سیاست کی بنیاد پر اختلاف ، یہ تمام تر اختلافات اپنی جگہ لیکن ایک دوسرے کی عزت اور احترام ہم سب کا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے ۔حضرت محمّد ﷺ ہمارے لئے رول ماڈل ہیں کیا کبھی کوئی ایسا موقع آیا کہ حضور اکرم ﷺ نے اپنے سخت ترین مخالف کو بھی غیر شائستہ الفاظ یا القابات سے پکارا ہو ؟۔۔۔سیاسی پارٹیز پر تنقید ،غلط پارٹی پالیسیوں پر تنقید،کرپٹ ریاستی اداروں پر اور ان کے سربراہوں پر تنقید ، کرپٹ سیاستدانوں پر تنقید ضرور ہونی چاہیے لیکن اخلاق کے دائروں کے اندر رہتے ہوئے ۔الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے جہاں بہت سارے فائدے ہوئے وہاں نقصان بھی ہوا ، الیکٹرانک میڈیا کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ پاکستان کا سیاسی کارکن پہلے سے زیادہ با شعور ہوا اور اگر نقصانات کی بات کی جائے تو ا س کی فہرست بڑی لمبی ہے ، ایک نقصان یہ ہوا کہ اینکر پرسن اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑ ھانے کے چکر میں اخلاق کی تمام تر دیواریں پھلانگ گیا ، پھر اسی کو کاپی پیسٹ کرتے ہوے ایک عام سیاسی کارکن بھی اسی راہ پر چل نکلا ۔

رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے نکال دی جو طوفان بدتمیزی سوشل میڈیا نے برپا کیا وہ شاید الیکٹرانک میڈیا بھی نہ کر سکا تھا ، سوشل میڈیا پر اختلاف کی بنیاد پر گالم گلوچ کرنا ، برے القابات سے نوازنا ، محب وطن کو غدار کہہ دینا ، نا جائز الزامات لگانا ، تو کوئی مسلہ ہی نہیں ۔کہیں ایسا نا ہو کے ہم مالی کرپشن سے تو چھٹکارہ حاصل کر لیں لیکن اخلاقی کرپشن میں دہنس جائیں اگر ایسا ہوا تو پھر اس سے نکلنا بھی کسی انقلاب سے کم نہ ہوگا ۔سیاسی کارکنان سے گزارش ہے کہ اختلاف رائے تو دنیا کے آغاز سے ہی شروع ہوگیا تھا لہٰذا آپ بھی اختلاف اور اتفاق دلیل کے ساتھ ضرور کریں لیکن خدارا اخلاقی قدروں کو پامال نہ کریں ۔قوموں کے زوال کی وجہ مالی کرپشن کے ساتھ ساتھ اخلاقی کرپشن بھی ہوا کرتی ہے ۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں