جب امریکا کو اتحادیوں کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے اتحادوں کی عظمت یاد آ جاتی ہے، اور جب طاقت کا نشہ چڑھتا ہے تو وہی اتحادی بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ آج ٹرمپ یہ شکایت کرتا نظر آتا ہے کہ امریکا نے نیٹو کی ہمیشہ مدد کی مگر اب اتحادی آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکا کی مدد کے لیے آگے نہیں آ رہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ دنیا بھی یادداشت رکھتی ہے۔کچھ دن پہلے تک یہی ٹرمپ صاحب فرماتے تھے “مجھے برطانیہ کی مدد نہیں چاہیے، میں کلا ای کافی آں۔متھے رنگ دیاں گا”اس کے بعد کبھی اسپین کو دھمکیاں،اس معاملے سے قبل کبھی گرین لینڈ کے معاملے پر نیٹو اتحادیوں کو ٹرول اور کبھی اتحادی ممالک کو یہ سبق کہ “امریکا تمہارا محافظ نہیں”۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کے طاقت کے توازن نے ایک نئی شکل اختیار کی۔ سنہ 1949 میں نیٹو کا قیام عمل میں آیا۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد سوویت یونین یا کمیونزم کا مقابلہ کرنا تھا۔ امریکا نے اس اتحاد میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ہنری ٹرومین کی قیادت میں امریکا نے نہ صرف یورپ کی معاشی بحالی کے لیے کام شروع کیا بلکہ یورپی دفاع کو مضبوط بنانے میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔یہ وہ دور تھا جب امریکا اتحادیوں کو صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد سے بھی جوڑ رہا تھا۔ یورپ کو معلوم تھا کہ امریکا مشکل وقت میں ساتھ دے گا اور امریکا کو یقین تھا کہ یورپ بھی اس کے ساتھ کھڑا ہو گا۔
یہ اعتماد سنہ 1950 کی دہائی میں اس وقت سامنے آیا جب کورین وار شروع ہوئی۔ اس جنگ میں امریکا اکیلا نہیں لڑا بلکہ برطانیہ، کینیڈا اور دیگر اتحادی بھی شامل ہوئے۔ یہی وہ ماڈل تھا جس نے سرد جنگ کے پورے دور میں مغربی اتحاد کو مضبوط رکھا۔لیکن اتحاد ہمیشہ مکمل ہم آہنگی سے نہیں چلتے۔ سنہ 1956 میں سوئز کرائسز کے دوران امریکا نے اپنے ہی اتحادیوں برطانیہ اور فرانس کی مخالفت کی مگر بنیادی اعتماد برقرار رہے تو نظام چلتا رہتا ہے اور امریکا نیٹو اتحاد بھی چلتا رہا۔
سنہ 2003 میں عراق وار نے مغربی اتحاد میں بڑی دراڑیں پیدا کیں۔ بُش کی حکومت نے عراق پر حملے کا فیصلہ کیا مگر فرانس اور جرمنی نے اس کی مخالفت کی۔ اس وقت بھی واشنگٹن میں کچھ حلقوں نے اتحادیوں کو “ناشکرے” قرار دیا تھا۔لیکن وقت کے ساتھ تعلقات دوبارہ بحال ہوئے کیونکہ اتحاد کی بنیاد محض طاقت نہیں بلکہ طویل المدتی مفادات ہوتے ہیں۔مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب ٹرمپ نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا کہ نیٹو اتحادی امریکا پر بوجھ ہیں۔ انہوں نے کئی بار کہا کہ اگر یورپی ممالک دفاعی اخراجات نہیں بڑھاتے تو امریکا ان کے دفاع کا پابند نہیں۔
اسی دوران برطانیہ، جرمنی اور دیگر یورپی اتحادیوں کو سرِ عام تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔کبھی ان کو دھمکی آمیز بیانات دیے گئے تو کبھی یورپی رہنماؤں کو یہ تاثر دیا گیا کہ امریکا اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اس طرح کے بیانات نے وہ اعتماد کمزور کیا جس پر اتحاد قائم ہوتے ہیں۔آج اگر ٹرمپ یہ توقع کرتا ہے کہ ہر بحران میں اتحادی فوراً صف بندی کر لیں تو اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دوستی اور اتحاد بینک اکاؤنٹ کی طرح ہوتے ہیں۔ اگر آپ برسوں تک اس میں اعتماد جمع نہ کریں تو مشکل وقت میں نکالنے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔
اور سو باتوں کی ایک بات۔ جب امریکا پاپولرازم کی زد میں آ کر ٹرمپ جیسا کارٹون منتخب کر لے تو اسے کسی بیرونی دشمن اور دوست کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ احمقانہ حرکات اور مسلسل زبان درازی کئی پاپولر سیاستدانوں کو ان کے ملک سمیت لے بیٹھی ہے۔ پاپولرازم سیاست کی وہ پرانی مگر ہمیشہ نئی لگنے والی بیماری ہے جس میں رہنما خود کو عوام کا واحد ترجمان اور باقی سب کو عوام کا دشمن قرار دے دیتا ہے۔ یہ نظریہ نہیں بلکہ ایک اندازِ سیاست ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جس میں دلیل کم اور نعرہ زیادہ ہوتا ہے اور پیچیدہ مسائل کا حل اکثر ایک سادہ جملے میں پیش کر دیا جاتا ہے “میں آؤں گا تو سب ٹھیک کر دوں گا۔”
پاپولرازم کی جڑیں تاریخ میں بہت پیچھے تک جاتی ہیں۔ قدیم روم میں بھی ایسے سیاست دان موجود تھے جو خود کو عوام کا نمائندہ اور سینیٹ کو اشرافیہ کی بیٹھک قرار دیتے تھے۔ جولیس سیزر نے یہی تو کیا تھا۔ اس نے رومی سینٹ کے خلاف عوامی حمایت کو استعمال کرتے ہوئے اقتدار کی سیڑھیاں تیزی سے چڑھیں۔اور پھر جب روم نے سیزر کو بھگت لیا تو اس کا خاتمہ بروٹس کو کرنا پڑا۔ بیسویں صدی میں پاپولرازم نے ایک نیا اور زیادہ خطرناک روپ اختیار کیا۔ جرمنی میں ایڈولف ہٹلر نے قوم پرستی، معاشی غصے اور عوامی بے چینی کو ملا کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جس نے لاکھوں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس بیانیے میں ہر مسئلے کا ذمہ دار ایک “دشمن” تھا۔ کبھی بیرونی طاقتیں اور کبھی اندرونی نظام کی کمزوریاں۔ نتیجہ تاریخ کے بدترین سانحوں میں سے ایک جنگ عظیم دوم کی صورت میں سامنے آیا۔لاطینی امریکا میں بھی پاپولرازم نے گہرا اثر چھوڑا۔ ارجنٹینا کے رہنما یوان پیرون نے مزدور طبقے کو متحرک کر کے ایک ایسی سیاست کو فروغ دیا جس میں نظام کے خلاف نفرت کا درس تھا۔ پیروں ازم نے کئی دہائیوں تک ارجنٹائن کی سیاست کو متاثر رکھا اور ارجنٹائن کو ہر لحاظ سے تباہ کر کے ٹلا۔
مگر اس بار اس کا سب سے بڑا ہتھیار سوشل میڈیا ہے۔ امریکا میں ٹرمپ نے اسی حکمتِ عملی کو استعمال کرتے ہوئے خود کو “واشنگٹن اسٹیبلشمنٹ” کے خلاف عوام کی آواز کے طور پر پیش کیا۔ یورپ میں وکٹر اوربان اور دیگر رہنماؤں نے بھی اسی طرز کی سیاست کو فروغ دیا۔پاپولرازم کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ یہ عوامی جذبات کو براہ راست چھوتا ہے۔ جب معیشت کمزور ہو یا زوال پذیر ہو ، عدم مساوات بڑھ جائے اور عوام کو لگے کہ سیاسی اشرافیہ ان سے دور ہو چکی ہے تو پاپولسٹ بیانیہ فوراً مقبول ہو جاتا ہے۔ ایک ہی نعرہ ہوتا ہے “ہم اور وہ” یعنی ہم حق پر ہیں اور باقی سب باطل۔ ان کے نعروں میں نہ معاشی پالیسی کی باریکیاں ہوتی ہیں اور نہ سفارتی توازن کی پیچیدگیاں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سیاست صرف نعرے سے نہیں چلتی۔ ریاست ایک پیچیدہ نظام ہے جسے جذبات کے بجائے اداروں، پالیسیوں اور طویل المدتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب پاپولرازم حد سے بڑھ جائے تو ملک کمزور اور معاشرہ تقسیم ہو جاتا ہے۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ پاپولرازم ایک طاقتور سیاسی ہتھیار تو ہے مگر اگر اسے حد سے زیادہ استعمال کیا جائے تو یہی ہتھیار ریاست اور معاشرے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔اور ٹرمپ کے کیس میں تو یہ دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ ابھی ایران جنگ کا سرا ہاتھ نہیں آیا اور آج فرما دیا “کیوبا پر جب چاہوں گا قبضہ کر لوں گا۔ مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔”


