نواز شریف کو سپریم کورٹ کے پانچ”صادق اور امین” ججوں نے نااہل کرکے گھر بھیج دیا ہے جبکہ اِن پانچ ججز میں سے چار جنرل مشرف کی آمریت کو قبول کرکے جج بنے تھے. کسی بھی ملک کے کسی وزیراعظم کو انتہائی معمولی”جرائم” کے تحت ہمیشہ کے لیے سیاست سے باہر کرنے کی یہ پہلی مثال ہے اور وہ بھی اُس وقت جب خلاء پُر کرنے کے لیے کوئی دوسرا پائے کا پاپولسٹ لیڈر موجود نہیں ہے. حکمرانوں کو نکالنے کا یہ کوئی پہلا اور انوکھا واقعہ نہیں ہے. خاص طور پر پاکستان میں تو کسی بھی وزیر اعظم کو پانچ سال کی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی ہے. چونکہ عوامی سطح پر نواز شریف کے لیے کوئی بڑی ہمدردی بھی نہیں پائی جاتی ہے اِس لیے نواز شریف کو نکالنے والوں کو کوئی خاص محنت نہیں کرنی پڑی. رہی سہی کسر مقدمہ اور تحقیقات کے دوران شریف خاندان کی غلط حکمت عملی نے پوری کر دی. حکمران خاندان اتنا ناقابل ہے کہ انتہائی بچگانہ غلطیاں کرتا رہا.
پاکستان میں عسکری اسٹیبلشمنٹ چونکہ ریاستی معاملات میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے کمزور سیاسی کلچر کو پسند کرتی ہے، لہذا ایک کرپٹ اور نااہل مگر مضبوط نواز شریف کو فارغ کرنے کے لیے براہ راست مارشل لاء کی بجائے عدالتوں کو استعمال کرنے کی پرانی پاکستانی تاریخ دہرائی گئی.جب ذوالفقار علی بھٹو کو عدالت کے ذریعے ہمیشہ کے لیے باہر کیا جا رہا تھا تو اکثریتی سیاسی لوگ کوئی مزاحمت کی بجائے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے معاون تھے. اُس میں نواز شریف بھی شامل تھا. نواز شریف اُس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو غیرسیاسی طریقوں اور بہانوں سے گراتے اور کمزور کرتے رہے ہیں. حتی کہ بدنام زمانہ “این آر او” کے بعد بھی نواز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بہت تنگ کیا تھا. آج نواز شریف خود اُنہی سازشوں کے تحت عسکری اسٹیبلشمنٹ کے انتہائی سستے ہتھیار کا شکار بن کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سیاست سے باہر کر دئیے گئے ہیں.
دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اور جماعت اسلامی کی کون سی ایسی جدوجہد ہے جس کے تحت نواز شریف فارغ ہوئے ہیں….؟ عمران خان اور سراج الحق تو محض مدعی ہیں اور اْن کا کردار کسی کرائے کے قاتل کے سوا کچھ بھی نہیں ہے. سارے کام تو عدالت اور سیاسی میدان سے بہت دور عسکری اسٹیبلشمنٹ کی میزوں پہ طے پایا ہے. ابھی بہت سے انکشافات منظر عام پر آنے ہیں. عمران خان کا اتنا وقتی فائدہ ضرور ہوا ہے کہ ایک مضبوط حریف کو راستے سے ہٹا دیا گیا ہے مگر عسکری اسٹیبلشمنٹ کے سامنے عمران خان سابقہ وزیر اعظم کی نسبت انتہائی معمولی کردار ہوں گے. چونکہ نواز شریف کو کسی عوامی تحریک کی بجائے غیرسیاسی طریقے سے نکالا گیا ہے اِس لیے سیاسی لوگوں کے لیے یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے. بلکہ غیرسیاسی حکمرانوں کے پہلے سے مضبوط دل مزید مضبوط ہو گئے ہیں. محنت کش عوام کے لیے کوئی خاص معاملہ نہیں ہے. نہ عوام اِس معاملے کا حصہ ہیں اور نہ عوام کی حالت و”اہمیت” میں کوئی فرق پڑنا ہے. عوام کے سر سے ایک آقا کو ہٹا کر دوسرا آقا بٹھایا جانے والا ہے. آئیے نئے آقا کا انتظار کرتے ہیں. عوام کے پاس آقاؤں سے جان چھڑانے کا واحد راستہ طبقاتی بنیادوں پہ عوامی جدوجہد کے زریعے نظام کو بدل کر پرولتاریہ کی آمریت کا قیام ہے.
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں