محمد سمیع سواتی بھائی کا محبت نامہ ملا کہ لالہ بمورخہ 22 فروری FTC کراچی میں جمیعت کا سوشل میڈیا کنونشن منعقد ہورہا ہے، آپ نے آنا ہے۔ حالانکہ نہ جانے کا میرے پاس بہترین جواز تھا کہ اس شام میں نے کراچی آرٹس کونسل میں کچھ حسینوں کو وقت دیا تھا جن کو بعد میں فائیواسٹار ہوٹل کی مدہم روشنیوں میں بتانا تھا کہ پشتونوں کیساتھ کیا کیا ظلم ہوئے ہیں اور ان زخموں کا مرہم اب آپ جیسی نازنینوں کے پاس ہے۔
جمیعت کیساتھ احترام کا رشتہ بچپن سے چلا آرہا ہے۔ والد صاحب نواز شریف کو سپورٹ کرتے آئے ہیں۔اور والدہ نے اپنا ووٹ ہمیشہ جمیعت کے صندوق میں ڈالا ہے۔ گھر میں سیاسی بحث مباحثوں سے ہم بچے کچھ حد سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ سو 2001 میں والد نے جمیعت جوائن کی اور والدہ نے ن لیگ۔ پھر پاکستان میں دھرنے شروع ہوئے سو بچوں کا دل رکھنے واسطے ابا جمیعت کیساتھ کھڑے رہے اور والدہ نے عمران خان کو ملک کا نجات دہندہ سمجھ لیا۔
ایف ٹی سی پہنچا تو ہر سُو پگڑیوں کی بہار، لہلہاتے شلوار قمیضوں کیساتھ رنگ برنگی داڑھیاں۔ مجھے ایسا لگا جیسے طالبان نے کراچی فتح کرلیا ہو۔
قریب گیا تو بیشتر علماء “لالہ” کا نعرہ مستانہ بلند کرتے۔ گلے لگتے اور بغل گیر ہوجاتے۔ خالص محبت اسے کہتے ہیں۔
اندر ہال میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اپنے یار غار نوفل ربانی بھی آئے ہوئے ہیں۔ صہیب جمال بھائی بھی موجود تھے۔ کافی سارے فیس بکی دوستوں کو موجود پاکر ایک گوناگوں خوشی ہوئی۔
جمیعت کے دوستوں نے بڑی ہی گرمجوشی سے استقبال کیا۔ اسٹیج پر مولانا عطاءالرحمن صاحب اور راشد سومرو صابب کی موجودگی سوشل میڈیا کے دوستوں کے حوصلے بڑھانے کیلئے کافی تھی۔
میڈیا کی کافی تعداد موجود تھی۔ جن میں ایک اکلوتی نازنین ایسی بہار دکھا رہی تھی۔ جیسے بنوں میں رنبیر کپور بغیر برقعہ پہنے گھومے ۔ میری نظریں اس نازنین سے نہیں ہٹ رہی تھیں بلکہ اکیلا گناہنگار میں بھی نہیں تھا۔ اسٹیج سے مولانا عطاءالرحمن صاحب بھی ترچھی نظر سے انھیں گاہے بگاہے دیکھ کر استغفار پڑھ لیا کرتے تھے۔
مقررین نے وہی باتیں کیں جو آپ نے ویڈیو میں دیکھیں ہیں اور شاید سنی بھی ہوں گی۔
سوشل میڈیا کی افادیت کیساتھ نقصان پر بھی باتیں ہوئیں۔ ڈاکٹر دانش، انیق ناجی، بول چینل کے ایک اینکر اور اوریا مقبول جان نے کافی اچھی باتیں کیں۔
صہیب جمال بھائی نے جمیعت کے کارکنان سے درخواست کی کہ وہ اسلام کے داعی ہیں لہذا ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ الفاظ کے چناو میں حد درجہ اختیاط کریں۔
میں نے سوشل میڈیا کی افادیت بیان کی کہ آپ کے ہاتھ اب ایسا ٹول لگ چکا ہے کہ آپ کو کسی مین اسٹریم میڈیا کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ خود صحافی ہو۔ سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ نقیب اللہ محسود کی شہادت سے شروع ہونیوالی تحریک نے ملک کو ہلا دیا ہے۔ بس ایک اختیاط کریں کہ خبر کی تصدیق کے بعد اپنا ردعمل دیں۔ اگر کوئی آپ کی تعریف کرے تو بنا سوچے سمجھے ان کے پیچھے چلنے کی بجائے اپنے سینئرز سے اس بابت ضرور ہدایات لے لیں۔
مولانا عطاءالرحمن صاحب کو غالباًًً ابھی تک سوشل میڈیا کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے۔ انھوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ سوشل میڈیا جھوٹ کی بنیادوں پر کھڑا ایک خوبصورت دھوکہ ہے۔اور اصل صحافی ٹی وی والے ہیں۔
راشد سومرو صاحب کا لہجہ اور برتاو نہایت ہی آمرانہ تھا۔ مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ راشد سومرو صاحب جمیعت کو سیاسی جماعت کے بجائے آرمی یونٹ سمجھ رہے ہیں اور کارکنان کو یونٹ کے جوان۔جو ان کے ہر حکم کو ماننے کے پابند ہیں۔ مجھے شدید حیرت اس بات پر بھی ہوئی کہ یہ سب مولانا فضل الرحمن صاحب کے سامنے ہوتا رہا۔
جمیعت کے قائدین کو اب یہ ماننا ہوگا کہ جب تک وہ خود کو ڈیجیٹلائزڈ نہ کریں گے،ان کیلئے مشکل ہوگی۔
جمیعت کے کچھ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس جو اپنی مدد آپ کے تحت پارٹی کے پیغام کو پھیلا رہے ہیں۔ جن میں سر فہرست نوفل ربانی، یوسف خان، خالد جان داوڑ، عطاءالرحمن روغانی، فضل بڑیچ، عنایت شمسی، ضیاء چترالی، قطب الدین، سلیم جاوید اور سمیع سواتی ہیں۔ یہ سب ایکٹیوسٹس جس طرح دن رات پارٹی بیانیہ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس پر راشد سومرو صاحب کا یہ کہنا کہ خبردار وہ پارٹی قائدین کے فیصلوں کے خلاف اُف بھی نہیں کریں گے۔ میرے نزدیک اس طرح کا طرزعمل قابل مذمت ہے۔اور یہ نری شخصیت پرستی ہے۔
عابد آفریدی کے دونوں بیٹوں کے جھلسنے کی خبر سن کر میں نے فورا ًًً کنونشن کا پروگرام ادھورا چھوڑ دیا اور مولانا صاحب کو نہیں سنا۔ مگر آج “نکے دا ابا” کی گونج ہر طرف سنائی دے رہی ہے۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں