بابر اعوان، آعظم سواتی، علیم خان، فیاض الحسن چوہان اور اب اسد عمر آٹھ ماہ میں پانچ وزراء تبدل کیے جاچکے ہیں لیکن جو آج ہورہا ہے وہ تشویشناک ہے اسد عمر اور غلام سرور خان کے حوالے سے اطلاعات سہہ پہر کے وقت آئیں تھیں اس وقت کی اطلاعات یہ ہیں کہ علی محمد خان اور عامر محمود کیانی کو بھی وفاقی کابینہ سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ فواد چوہدری سے بھی وزارت اطلاعات کا قلمدان واپس لے کر انہیں وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی سونپ دی گئی ہے یعنی کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے اور محترمہ فردوس عاشق اعوان کو معاون خصوصی برائے اطلاعات جبکہ عبد الحفیظ شیخ کو معاون خصوصی برائے خزانہ مقرر کر دیا گیا ہے، اعظم سواتی کی کابینہ میں واپس ہوئی ہے، شہر یار آفریدی سے بھی داخلہ کا قلمدان لے کر وزارتِ سفیران دے دی گئی ہے…
یہ تبدیلیاں طوفانی ہیں جو یقیناً آنے والی بربادی کی نوید سنا رہی ہیں لیکن سب سے اہم تبدیلی اسد عمر کی ہے کیونکہ اسد عمر وہ صاحب تھے کہ جن کو عمران خان اور پوری پی ٹی آئی کا بلیو آئیڈ بوائے کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا
یہ وہ صاحب تھے کہ جن کے بارے میں عمران خان کہا کرتے تھے کہ اسد عمر کی پاکستان کو ضرورت ہے
یہ وہ صاحب تھے کہ جن کے بارے میں ہم آج سے دس سال پہلے سے یہ جانتے تھے کہ جب بھی کبھی پی ٹی آئی کی حکومت آئے گی تو عمران خان وزیراعظم ہوں گے اور اسد عمر وزیر خزانہ ہوں گے
جب اس طرح کے آدمی کے استعفے کی افواہیں گردش کریں تو لوگ سوال تو پوچھتے ہی ہیں؟
افواہوں کا جواب فواد چوہدری تو یہ کہہ کر دیتے رہے کہ یہ اپوزیشن کی خواہشات ہیں ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے اسد عمر نے غالب کا مصرع پڑھ کر دیا تھا کہ “ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے”
پی ٹی آئی کے حامیوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو جواب آیا کہ تم لوگوں کا دماغ خراب ہے ابھی وہ آئی ایم ایف سے ڈیل فائنل کرکے آیا ہے جس کو ہٹانا ہو تو کیا اس کو آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے؟؟ ہمارا منہ بند ہو گیا
یہ ہمارا کلچر ہے جونیجو وطن سے باہر گئے واپس آنے پر انکو پتہ چلا کہ وہ اب وزیراعظم نہیں رہے
بینظیر بھٹو کی دونوں حکومتیں جس شام کو گئیں اس کی دوپہر کو انکو یہ شک بھی نہیں تھا کہ آج حکومت کا آخری دن ہے
لیکن ان سب واقعات کے ساتھ ساتھ ہماری تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ بھی ہے کہ پرویز مشرف سری لنکا سے واپس آ رہے تھے انکو معلوم ہوا کہ وہ اب آرمی چیف نہیں رہے تو ہوا یہ کہ حکومت نہیں رہی جبکہ پرویز مشرف نو سال تک رہے…
لیکن ہم بات کر رہے ہیں سابق وزیر خزانہ جنابِ اسد عمر کے استعفے کی اب چونکہ اسد عمر نے پریس کانفرنس کر کے خود یہ اعلان کیا ہے کہ وہ وزارت خزانہ چھوڑ رہے ہیں اور وزارت پٹرولیم کہ جس کی پیشکش انہیں وزیر اعظم نے کی کہ وہ اسکو قبول کرنے سے بھی معذرت کر چکے ہیں اور کابینہ کا حصہ بھی نہیں رہنا چاہتے تو چند سوالات دماغ میں اٹھتے ہیں
آج کی پریس کانفرنس میں کی جانے والی باتوں سے ایک بات واضح ہوگئی کہ اسد عمر کے استعفے کی وجہ انکی خراب پرفارمنس نہیں ہے کیونکہ اگر پرفارمنس ہی وجہ ہوتی تو پوری کابینہ سمیت وزیراعظم کے سب گھر جاتے
آج لیے جانے والا دوسرا استعفیٰ غلام سرور خان کا ہے جوکہ پیٹرولیم کے وزیر تھے انکے استعفیٰ کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ انکی پرفارمنس سے وزیراعظم مطمئن نہیں تھے لیکن اس قسم کی کوئی بات اسد عمر کے حوالے سے نہیں آئی

یہاں ٹائمنگ بہت اہم ہے کیونکہ یہی وزیر موصوف ابھی آئی ایم ایف سے ڈیل فائنل کرکے آئے تھے اور ابھی تو حکومت نے اپوزیشن اور عوام کو یہ بھی بتانا تھا کہ کن شرائط پر آئی ایم ایف سے ڈیل ہوئی ہے لیکن ہوا یہ ہے کہ اسُی وزیر نے آج استعفیٰ دے دیا ہے
اب یہاں ہم اسد عمر سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ اگر آپ نے یہ فیصلہ ایکدم کیا ہے تو اسکی وجہ کیا ہے؟ اور اگر آپ پہلے سے اس بات پر غور کر رہے تھے تو آپ آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے کیوں پہنچ گئے؟ اب صورتحال یہ ہے کہ قوم کو یہ تک نہیں معلوم کہ آئی ایم ایف سے کیا بات ہوئی کن شرائط پر آپ کو وہاں سے قرضہ ملا اور کتنا ملا اور ابھی اس ڈیل کی دستاویز کی سیاہی بھی نہیں سوکھی تھی کہ آپ ہاتھ جھاڑ کر گھر جا چکے ہیں…
ہم جنابِ وزیراعظم سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ وہ آدمی کہ جس کو ابھی دو دن پہلے آپ نے آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے بھیجا تھا اسکو آپ نے ایکدم سے کیسے جانے دیا؟ کیوں آپ نے اسکو روکا نہیں؟ کیوں اس نے آپکی وزارت پٹرولیم کی آفر کو رد کرکے کابینہ سے علیحدگی اختیار کرلی؟ آخر ایسی کیا وجہ بنی کہ آپکا اوپننگ بیٹسمین آپکا سب سے ہونہار کھلاڑی دائرے کے آوورز میں ہی رئٹائر ہرٹ ہوگیا؟
آج اسد عمر نے اپنی پریس کانفرنس میں اشارہ دیا ہے کہ سازشیں کرنے والے سازشیں کرتے رہیں میں تو اکانومی کے استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کر نے آیا تھا جو کہ میں نے کیا.. کیا قوم یہ سوال نہیں پوچھ سکتی کہ اسد عمر صاحب بتائیں کہ پی ٹی آئی میں کیا ہو رہا ہے کون کس کے خلاف سازش کر رہا ہے؟ کیا یہ نہیں پوچھا جا سکتا کہ اسد عمر یہ بتائیں کہ وہ شاہ محمود کے گروپ میں ہیں یا جہانگیر ترین کے؟ مبینہ طور پر اسد عمر شاہ جی سے قریب تھے تو یہ استعفیٰ یہ نہیں بتاتا کہ آج بھی پی ٹی آئی میں جہانگیر ترین نا اہل ہوتے ہوئے بھی شاہ محمود قریشی سے زیادہ طاقتور ہیں؟
میں اپنے وزیر اعظم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس ملک پر رحم کریں یا نہ کریں اپنی جماعت پر رحم کریں کیونکہ جہاں سے ہم دیکھ رہے ہیں آپ ہمیں ڈوبتے نظر آ رہے ہیں، یہ بات بار بار ثابت ہو رہی ہے کہ معاملات آپ کے ہاتھ میں نہیں ہیں، جہاں سے ہم دیکھ رہے ہیں تو آپ ہمیں جونیجو، میر ظفر اللہ جمالی اور شوکت عزیز سے بھی زیادہ بے بس اور بے اختیار نظر آ رہے ہیں، خان صاحب آپکو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس ملک کے کروڑوں لوگوں نے آپ سے بہت سنجیدہ کاموں کی امید لگائی ہیں لیکن جہاں سے ہم دیکھ رہے ہیں ہمیں آپ کے اندر معمولی ترین کاموں کی صلاحیت بھی نظر نہیں آ رہی، وفاقی کابینہ میں مذید تبدیلیوں کی خبریں گرم ہیں جس کا اشارہ خود اسد عمر نے اپنی پریس کانفرنس میں کر دیا ہے تو یہاں ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسد عمر کے استعفے کے بعد کوئی بھی شخص اپنی کرسی کو محفوظ سمجھ سکتا ہے؟ کیا کوئی بھی اس پریشر میں کتنی دیر اور کتنا موثر کام کر سکتا ہے کہ جب اسکو یہ گارنٹی نہ ہو کہ کل میری وزارت ہوگی بھی کہ نہیں، جنابِ وزیراعظم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ اپنی جماعت کے ساتھ ساتھ ملکی استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، ذرا خود سوچیں کہ آپ کے وہ سپورٹرز جو کل تک اسد عمر کے نام کے ڈانڈے بجا رہے تھے آج کس مشکل کا شکار ہو جائیں گے؟
آخر میں صرف اتنا کہ کیا اسد عمر پی ٹی آئی کے چودھری نثار تو نہیں بن گئے کہ جس کو پہلے ہی خبر ہوجاتی ہے کہ جہاز ڈوبنے والا ہے لہذا چھلانگ لگانے کا وقت آن پہنچا ہے اللہ اس ملک کی حفاظت فرمائے کیونکہ میرے اور اس ملک کے بائیس کروڑ لوگوں کے پاس اس ملک کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں