ماجد ایک بڑے اخبار میں کالم نویس تھا۔ اُس کا اندازِ بیان اِس طرح تھا کہ ہر کوئی اُس کا مداح بنتا جا رہا تھا۔ سیاست ہو یا پھر معاشرت، جرائم پر لکھنا ہو یا کہ ملک میں موجود اُونچ نیچ پر۔ تبصرے اور تجزیے میں اُس کو کمال حاصل تھا۔ اِسی وجہ سے وہ ملک کے ایک معروف اخبار کے لئے لکھا کرتا تھا۔ اخبار کے مالک کا اُس کے ساتھ رویہ کافی دوستانہ تھا۔ اور وہ کبھی بھی ماجد کے کسی تحریر سے بد دل نہیں ہوتا تھا خواہ موضوع کتنا ہی حساس کیوں نہ ہوتا۔ ایک دن اُس نے ایک کالم لکھا اور اُس کالم کے اخبار میں چھپنے کے تیسرے دن ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے ماجد کی زندگی میں ایک طوفان مچا دیا۔
دوپہر کی سخت گرمی میں ایک شخص شہر کی گلیوں اور مختلف بازاروں میں گھومنے اور آوارہ گردی کرنے کے بعد ایک ایسی جگہ کے اندر داخل ہوا جہاں بڑے بڑے ٹریلر اور ٹرک کھڑے تھے۔ ایک طرح سے وہ اُن بڑی گاڑیوں کی پارکنگ سی تھی۔ وہ بڑھتا ہوا اُن بڑی گاڑیوں کے درمیان چلتا گیا اور جب سامنے سے اُس جگہ کے گرد بنی ہوئی دیوار اُس کی راہ میں حائل ہوئی تب وہ دائیں مڑا اور کچھ دور چل کر ایک نلکے کے پاس رک گیا۔ اُس نے نلکا کھولا اور اپنی ایک جیب سے ایک پلاسٹک کی سفری بوتل نکال کر اُس کا ڈھکن کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔ شاید وہ سختی سے بند ہوگیا تھا۔ تاہم کچھ دیر کوشش کے بعد اُس نے بوتل کا سِرا کھولا اور نلکے میں سے آنے والا ٹھنڈا پانی اُس بوتل میں بھرنے لگا۔ بوتل بھرتے ہی وہ اُٹھا اور نلکا بند کرتے ہوئے ایک طرف دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا۔ پانی کی بوتل اُس نے اپنے قریب رکھتے ہوئے پہنے ہوئے بڑے سے کوٹ میں دوسری جیب سے ایک اخبار میں لپٹی ہوئی کوئی چیز نکال لی۔ لرزتے ہاتھوں سے اُس نے اخبار میں لپٹی موجود چیز نکالی اور کھانے لگا۔
ایک ہاتھ میں اُس نے وہ اخبار کا ٹکڑا پکڑا ہوا تھا۔ اور وہ اُس میں سے جیسے کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اُس کے ہاتھ کھانے سے رک گئے اور منہ میں موجود غذا کو وہ چبانا بھول چکا تھا۔ اُس کی نگاہیں مسلسل اُس اخبار کو گھور رہی تھی۔ کچھ لمحوں بعد اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے کچھ قطرے گرتے ہوئے اُس اخبار کے تراشے میں جذب ہو گئے۔ اُس نے اخبار کو غصے سے ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے ہوا میں اُچھال دیا اور دوسرے ہاتھ میں موجود کھانے کی چیز کو پرے پھینکتے ہوئے پانی کی بوتل کھول کر پانی غٹا غٹ پینے لگا۔
“صاحب کوئی شخص آپ سے ملنے آیا ہے”۔ ماجد جو کہ ایک کالم لکھنے میں مصروف تھا ملازم کی آواز سنتے چونک پڑا۔
“کون ہے؟”
“سر میں نہیں جانتا کہہ رہا ہے کہ ماجد کے ساتھ ملنا بہت ضروری ہے کوئی خبر دینی ہے”۔
“ٹھیک ہے اُسے اندر بھیج دو” ماجد نے کچھ سوچتے ہوئے ملازم سے کہا۔
کچھ دیر بعد ایک شخص اندر داخل ہوا۔ اُس کے سر کے بال سلیقے سے سنورے ہوئے تھے۔ بدن پر ایک اچھا لباس اور پاوں میں جوتے چمک رہے تھے۔ شکل و صورت سے وہ ایک نفیس انسان معلوم ہو رہا تھا۔ اُس نے داخل ہوتے ہی ماجد کو سلام کیا۔ ماجد نے سلام کا جواب دیتے ہوئے اسے ایک کرسی پر بیٹھے کا اشارہ کیا۔
“میں آپ کا ایک گمنام چاہنے والا ہوں” اُس شخص نے آتے ہی ماجد سے کہا۔
“یہ تو میری خوش نصیبی ہے کہ کوئی مجھے چاہتا ہے” ماجد نے جواب دیا۔
” اصل میں آج میں آپ کو ایک حقیقی کہانی سنانے آیا ہوں چونکہ آپ لکھنے والے ہیں اِس لئے میں نے سوچا کہ آپ دل سے میری بات کو سمجھیں گے اور سوچیں گے اُس پر” اُس شخص نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“جی جی ضرور میں تو سچ اور حق بات لکھنا اپنا فرض سمجھتا ہوں” ماجد نے جواب دیا۔
” تب مجھے اپنی بات شروع کردینی چاہیے ” اُس نے اجازت مانگتے ہوئے کہا۔
“ہاں ضرور بسم اللہ” ماجد اُس کی طرف دیکھنے لگا۔
ایک خوبصورت صبح تھی۔ نیلے آسمان پر سورج کی روشنی پوری آب و تاب کے ساتھ زمین کو روشن کر رہی تھی۔ وہ صبح جلدی اٹھنے کا عادی تھا۔ اِس لئے جیسے ہی اُس کے کانوں میں صبح سویرے معصوم پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں پڑتی وہ اُٹھ کھڑا ہوتا اور کالج جانے کی تیاری میں لگ جاتا۔ کالج میں اُس کی بہت عزت تھی۔ وجہ یہ تھی کہ وہ ایک ہونہار اور قابل لڑکا تھا۔ اساتذہ سے لیکر کلاس کے سب دوستوں تک اُس سے خوش رہتے۔ اِسی طرح ماہ و سال گزرتے گئے اور اُس نے اپنی تعلیم پوری کرلی۔ تعلیم کے بعد اُس نے نوکری ڈھونڈنے کی کوشش شروع کی۔ وہ ہر اُس جگہ گیا جہاں پر اُس نے کوئی اشتہار دیکھا۔ وہ ہر روز صبح اپنی عادت کے مطابق اُٹھتا اور رات کے اخبار میں سے نکالے گئے تراشوں کے پتے پر جاکر نوکری ڈھونڈتا رہتا۔
اِس طرح نوکری ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک عرصہ گزر گیا۔ گھر سے اب اُس کو نوکری ڈھونڈنے کی بجائے کوئی دوسرا کام کرنے کا مشورہ ملنے لگا۔ مگر ایک دن اُس نے آخری کوشش کی اور ایک پتے پر پہنچا۔ کچھ دوسرے لوگ بھی آئے تھے۔ جب اُس کی باری آئی تو انٹرویو لینے والے شخص کے پاس ایک لڑکا پہلے سے بیٹھا ہوا تھا۔ مگر وہ داخل ہوا۔ انٹرویو لینے والے نے اُس کی ڈگری اور دوسرے کاغذات دیکھ لیے اور کچھ دیر بعد اُس سے کہا کہ وہ اُس کو ٹیلی فون پر اطلاع کردیں گے۔ جب وہ وہاں سے اُٹھا اور باہر جاتے ہوئے یہ بات سنی۔ اُس کے بعد ٹیلیفون کبھی نہیں آیا۔
” فکر نہ کریں یہ سب تو معمول پورا کرنے کے لئے ہے آپ کی نوکری پکی ہے پیسہ لائے ہو نا؟”
اُس دن کے بعد وہ کہیں بھی نوکری ڈھونڈنے نہیں گیا۔ اسے لگا کہ گھر والے ٹھیک کہتے ہیں کہ کوئی دوسرا کام شروع کرنا چاہیے ۔ لہذا اُس نے یہ سوچا کہ وہ اپنا کوئی کام شروع کرے مگر اُس کے کئے پیسہ چاہیے تھا۔ جو کہ اُس کے پاس نہ تھا۔ نوکری کی بجائے اب وہ کام ڈھونڈنے نکلا تو اُس میں بھی در بدر کی ٹھوکریں کھانے لگا۔ آخر کار ایک کام مل گیا وہ ایک سروس سٹیشن پر گاڑیوں کو دھونے کا کام تھا۔ اُس نے سوچا کہ یہ کام اُس کے قابل نہیں مگر وہ مجبور ہو کر اُس میں لگ گیا۔ ہر روز انہی سوچوں میں گزرنے لگا کہ جو وقت اُس نے تعلیم حاصل کرنے میں لگایا کاش وہ وقت پھر لوٹ کر آجاتا۔ مگر ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔
ایک دن ماں نے اُس کے لئے ایک رشتہ ڈھونڈا۔ وہ اُن کے گھر چلے گئے۔ لڑکی والے اچھے لوگ تھے۔ باتوں باتوں میں جب اُس کے کام کی بات آ نکلی تو اُس نے اپنے کام کے بارے میں اُن کو بتایا۔ اُن لوگوں نے بتایا کہ وہ انہیں ٹیلی فون کرکے بتائیں گے اپنا جواب۔ مگر وہ ٹیلیفون کبھی نہیں آیا۔
ایک دن وہ ایک نئی ماڈل کی گاڑی دھونے میں مصروف تھا۔ اُسے وہ گاڑی بہت اچھی لگی تھی۔ جس کو ایک امیر شخص لے کر آیا تھا دھونے کے لئے۔ اُس نے خوب محنت کرکے گاڑی کو خوب چمکایا۔ وہ شخص گاڑی میں بیٹھ گیا اور گاڑی لے کر چلتا بنا۔ تھوڑی دیر گزری ہوگی کہ وہ گاڑی تیزی کے ساتھ اُس جگہ پھر آئی اور آتے ہی اُس شخص نے چیخنا چلانا شروع کردیا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اُس کی گاڑی میں سے ایک قیمتی موبائل فون غائب ہے جو کہ اُس نے گاڑی کے بورڈ میں رکھا تھا۔ لہذا مالک نے اسے بلایا اور موبائل فون کے بارے میں پوچھنے لگا۔ اُس نے کہا کہ میں نے کوئی موبائل نہیں دیکھا مگر وہ نہ مانا اور پولیس کو بلوا کر اسے جیل لے گیا۔ جہاں اسے خوب مارا پیٹا گیا۔ مگر اُس کا جواب نفی تھا۔ آخر کچھ دیر بعد تھانے کی ٹیلی فون کی گھنٹی بجی اور دوسرے لمحے اُسے چھوڑ دیا گیا یہ کہہ کر کے وہ شخص اپنا فون گھر پر بھول آیا تھا۔
اُس دن کے بعد وہ اپنے پرانے کام پر نہیں گیا بلکہ کہیں دوسری جگہ کام ڈھونڈنے نکل پڑا۔ بہت کوشش کی مگر اُسے کام نہیں ملا۔ گھر کے حالات بھی کچھ اچھے نہ تھے جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا گیا۔ ایک دن اُس سوچا کہ وہ چوری کرنا شروع کردے مگر اُس کا ضمیر نہیں مانا۔ اُس نے خود کشی کے بارے میں سوچا مگر وہ بھی اُس کی غیرت نے گوارا نہ کیا۔ اِسی کشمکش میں وہ سگریٹ پینے لگا اور سگریٹ کے بعد چرس تک بات آ پہنچی۔
کام کے نام پر اب وہ سبزی منڈی میں بوجھ اُٹھاتا رہا۔ اب اُسے چرس پینے میں مزہ نہیں آتا تھا۔ ہوا یہ کہ ایک بار اُس نے ہیروئن خرید لی اور پی کر بےہوش ہوگیا۔ جب وہ جاگا تو اُسے لگا کہ شاید وہ دوبارہ زندہ ہوگیا ہو۔ اُس کے دل میں اب ہیروئن کی طلب زیادہ ہونے لگی۔ وہ روز آتا اور جلدی جلدی کام ختم کرتے ہوئے اُس جگہ پہنچ جاتا جہاں “پڑیا” ملتی۔ اپنی کمائی کا بڑا حصے دے کر وہ اُس خوشی کو خرید لیتا اور بےسدھ ہوجاتا۔ آخرکار اُس نشے نے اِس کے بدن کی طاقت چھین لی اور وہ بوجھ اُٹھانے کے قابل نہ رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اُس نے چوری کرنا بھیک مانگنا اور ہر وہ کام کرنا شروع کر دیا جس سے اُسے کچھ مل جاتا تاکہ وہ “پڑیا” خرید کر اپنا نشہ پورا کرلیتا۔
اِسی طرح دن رات گزرتے گئے اور ایک دن اُس کی حالت ایسی ہوگئی۔ کہ شکل و صورت بدل گئی۔ اب وہ ویسا نہیں تھا۔ داڑھی بےترتیب، گرد میں اٹھے ہوئے بال، گندے غلیظ کپڑے، پھٹے پرانے جوتے، ہفتوں تک گھر سے باہر رہنے لگا۔
ایک دن کیا ہوا کہ ایک شخص نے اسے بھیک میں ایک ڈبل روٹی دے دی جو ایک اخبار میں لپٹی ہوئی تھی۔ وہ چلتا ہوا ایک ویران لاڑی اڈے میں پہنچا اور اُس ڈبل روٹی کو اخبار سے نکال کر کھانے لگا کہ اچانک اُس کی نظر ایک کالم پر پڑی۔
” شہر میں موجود جگہ جگہ نشئی اور غلیظ ترین مخلوق کی موجودگی اِس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ حکومت سو رہی ہے۔ اور اُن کو عوام کی کوئی فکر نہیں رہتی جو اِن نشئیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ جگہ جگہ یہ گندے لوگ پڑے ہوتے ہیں اور بھیک مانگ مانگ کر لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایسے لوگ نہ تو اخلاقی لحاظ سے قابل قدر ہوتے ہیں اور نہ ہی انسانی لحاظ سے۔ خود تو اپنی زندگی جہنم بنا رکھی ہے دوسروں کو بھی جینے نہیں دیتے۔ بس سٹینڈ ہو یا کوئی پارک ہر جگہ اِن لوگوں نے غل غپاڑہ مچا رکھا ہے۔ حکومت سے درخواست کی جاتی ہے کہ ایسے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر باقی عوام کی زندگی کو آسان بنائے اور اُن سے چھٹکارہ دلائے”۔
جب اُس نشئی نے یہ خبر پڑھی تو بہت وقت کے بعد اپنے گھر گیا۔ گھر سے نہا دھو کر نکلا اور اُس کالم لکھنے والے کے دفتر پہنچ کر اُسے اپنی کہانی سنانے لگا۔ جسے سن کر شاید وہ اپنے دوسرے کالم میں اِن تمام باتوں کو بیان کرے گا جو اُس نے بتائے۔
وہ کہانی سنانے والا شخص اُٹھا اور ماجد کی طرف دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکراتا ہوا کہنے لگا۔
“کوئی نشئی خود نہیں بنتا۔ اسے نشئی بناتا ہے معاشرہ۔ اُسے نشئی بناتا ہے طبقوں میں بٹا ہوا امیر غریب کا فلسفہ۔ اُسے نشئی بناتا ہے پیٹ کی بھوک۔ اُسے نشئی بناتا ہے وہ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے سرمست لوگ جو اپنے پیٹوں کو بھرتے ہوئے اپنے عوام کو بھول جاتے ہیں۔ مجھے اُمید ہے آپ کا اگلا کالم مجھے آنے پر مجبور نہیں کرے گا میں جا رہا ہوں شاید کوئی بھیک مل جائے نشئی کو نشے کی طلب ہو رہی ہے”۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں