بچپن ہی سے مناظرے، مباحثے سنتے، دیکھتے، پڑھتے اور کرتے آئے اور جب ہمیشہ ہی انہیں بے نتیجہ یا “غلط النتیجہ” ہی دیکھا تو لفظ “مکالمہ” بہ لحاظ و کیفیت اچھا، معقول طریقہ لگا۔ مکالمے کی فضا اچھی اور پُرامن لگی سو اسی کو وطیرہ بنایا، اپنا لیا۔ بدمزگی، بے لطفی سے جان چھوٹ گئی۔ مکالمے سے مدلل گفتگو کرنی سیکھی اور فریقِ مخالف کی گفتگو کو قبولنا سیکھا۔
لکھنے کے معاملے میں ابھی بھی نو آموز ہی ہوں مگر چند برس پیشتر “مکالمہ” ڈاٹ کام سے متعارف ہوا۔
مکالمہ پر آڑا ترچھا لکھنا شروع کیا، جسے خوش دلی سے جگہ دی گئی۔ کئی بار بندہ کی طرف سے ایڈیٹر محترمہ اسماء انیس صاحبہ سے تحریر کی اشاعت بابت نوک جھونک بھی ہوئی مگر اس نیک بندی نے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔
میں شاید مکالمہ کی ساری ٹیم کو جانتا اور پڑھتا ہوں، شاید سب ہی میری فرینڈ لسٹ میں بھی ہیں۔ مگر انتہائی معذرت خواہ ہوں کہ میں “مکالمہ” کو محترم انعام رانا اور محترمہ اسماء انیس ہی کے توسط سے جانتا پہچانتا ہوں۔ وجہ یہ کہ میں متاخرین میں شمار ہوتا ہوں۔ مکالمہ کے سابقون الاولون کی بابت کامل آگاہی نہ رکھنے کے باوجود انہیں مکالمہ نامی یہ پلیٹ فارم مہیا کرنے پر صدقِ دل سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
ان میں جناب معاذ بن محمود، جناب مجاہد خٹک، جناب حافظ صفوان اور مادام روبینہ شاہین صاحبہ کا تو میں خود کو بوجوہ مرید اور شاگردِ نارشید گردانتا ہوں۔
مکالمہ نے مجھے، میری بساط کے مطابق لکھنا، پڑھنا، بولنا سکھایا، لکھنے کی بابت خود اعتمادی بخشی۔ شاید جملہ احباب میں ناچیز وہ واحد بندہ بشر ہے جو تسلیم کرتا ہے کہ لکھنے اور پھر زیادہ لکھنے کی بابت مجھے حد درجہ خود اعتمادی کا حصول بہت حد تک مکالمہ کا رہینِ منت ہے۔ یہاں تک کہ “مشاہداتِ ایران” نامی ضخیم کتاب لکھ کر میں خود کو آج کل بزعمِ خود صاحبِ کتاب بھی کہلوا رہا ہوں اور اس بابت مذکورہ کتاب میں بھی شکریہ ادا کر چکا ہوں۔
“مکالمہ” کے چیف ایڈیٹر محترم انعام رانا صاحب، محترمہ اسماء انیس صاحبہ اور تمام ایڈیٹوریل و غیر ایڈیٹوریل ٹیم، جملہ لکھاری حضرات بشمول خاکسار سب کو دسویں سالگرہ مبارک۔ اور “مشاہداتِ ایران” کے کریڈٹ میں بھی نصف حصہ مکالمہ کے نام کہ یہاں سے ہی میری قلم گھسیٹیوں کا سفر شروع ہوا اور رفتہ رفتہ بہتری کی طرف جاری ہے۔
بار دگر صدہا تشکر و تحسین “مکالمہ” ٹیم ممبران کے لیے۔


