پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک بار پھر ’موو آن پارٹی‘ کی جانب سے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی حمایت میں بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔ ان بینرز پر ’’اور کچھ نہیں۔۔۔ بس پاکستان‘ ‘لکھا ہوا ہے۔ بینرز پر پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی تصویر کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر ہلاک ہونے والے دو فوجیوں کی تصاویر کے ساتھ “مووآن” پارٹی کے سربراہ میاں کامران کی بھی تصویر ہے۔ مووآن پارٹی کے چیئرمین میاں کامران نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد پاکستان کی فوج سے اظہار یکجہتی ہے اور اس کے علاوہ ہمارا کوئی اور سیاسی مقصد نہیں ہے سوائے اس کے کہ اگر بھارت کی جانب سے کوئی جارحیت ہوتی ہے تو پوری پاکستانی قوم پاکستان کی فوج ساتھ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیے اور یہ جرم نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا بلکہ جو بھی پاکستان کی سالمیت کے لیے لڑے گا، وہ اس کے بھی بینرز لگائیں گے۔
مووآن پارٹی کی جانب سے اس سے پہلے بھی جنرل راحیل شریف کی حمایت میں بینرز لگائے گئے تھے جن پر ’جانے کی باتیں جانے دو، اب آجاؤ‘ جیسے نعرے درج تھے۔ اس وقت ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کے سربراہ محمد کامران کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس وقت وہ ضمانت پر ہیں۔ اس وقت جب جنرل راحیل شریف کے حق میں اس غیر معروف سیاسی جماعت نے بینرز لگائے تھے تو قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے آرمی چیف کے حق میں بینز لگانے کا الزام حکومت پر عاید کیا تھا کہ جو اُن کے بقول پاناما لیکس اور دیگر معاملات سے سیاسی جماعتوں اور عوام کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ جب کہ فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ فوج یا اس کے کسی بھی ادارے کا ایسے بینرز لگانے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ میاں کامران کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت الیکشن کمیشن میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے جبکہ اسی نام سے ان کی ایک این جی او بھی رجسٹرڈ ہے اور وہ پنجاب اور سندھ کے کچھ اضلاع میں تعلیم اور صحت کے لیے کام کرتے ہیں۔
یہ بات یاد رہے کہ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اپنی مدت ملازمت پوری کر کے نومبر کے آخر میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔ بلاشبہ جنرال راحیل شریف نے فوج کا مورال بلند کیا اور عام پاکستانی کے دل میںفوج کی قدر ومنزلت میں مزید اضافہ ہوا۔ بالخصوص دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی جارحانہ پالیسی اور آپریشن ضرب عضب کے باعش خود کش اور دہشت گردانہ حملوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ جب آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری تھا تو اس دوران میں بھی یہ قیاس آرائیاں میڈیا ٹاک شوز اور بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے کی گئیں کہ موجودہ حکومت جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کر دے گی۔ بلکہ کچھ عرصہ تو یہ موضوع میڈیا میں بہت گرم رہا اور قریب قریب ساری سیاسی جماعتوں کے قابل ذکر رہنمائوں نے اس بحث میں حصہ لیا۔ بیشتر اس کے حق میں کہتے سنے گئے کہ حکومت کو توسیع دے دینی چاہیے، دلیل ان کی یہ تھی کہ جنگوں کے دوران میں فوجوں کی کمان تبدیل نہیں کی جاتی۔ ایک دلیل ماضی قریب میں جنرل کیانی کو دی جانے والی توسیع تھی۔ کچھ سیاستدانوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت خود اس بحث کو موضوع بنا رہی ہے تا کہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کر سکے۔
اسی دوران میں جنرل راحیل شریف کا یہ بیان سامنے آگیا کہ وہ توسیع نہیں لیں گے اور اپنے وقت پہ ریٹائر ہو جائیں گے۔ اس بیان کو پذیرائی ملی۔ پھر نئے آرمی چیف کے حوالے سے باتیں ہو نے لگیں کہ اسی دوران میں جنرل راحیل شریف کے حق میں اسی غیر معروف سیاسی جماعت نے بینرز لگائے کہ آپ جانے کی باتیں جانے دیں۔ اس پر حکومت نے جماعت کے سربراہ سمیت نو افراد پر مقدمات درج کر دیے۔
اب ایک بار پھر اسی جماعت نے کراچی میں بینرز لگا کر نئی مہم کا آگاز کر دیا ہے۔ اس جماعت کو ایسے بینرز لگانے کا موقع اس وجہ سے بھی ملتا ہے کہ حکومت نے ابھی تک نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان نہیں کیا۔ جبکہ کچھ سیاسی و عسکری تجزیہ کار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ حکومت جنرل راحیل شریف کو توسیع دینے اک فیصلہ کر چکی ہے اور جلد اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس حوالے سے حکومت کو جلد فیصلہ کرنا چاہیے تا کہ غیر جمہوری قوتوں کے حمایت کاروں کو کھل کھیلنے کا موقع نہ ملے۔ ہمیں اس امر میں بھی کلام نہیں کہ جمہوری حکومتیں اس طرح سے ڈیلیور نہیں کر پا رہی ہیں جیسے وہ جلسوں میں وعدے اور اعلانات کرتی پھرتی ہیں۔

پاک بھارت سرحدی تنائو کے بعد ایک بار پھر یہ موضوع بحث بن چکا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی ہو گی یا جنرل راحیل شریف کو توسیع ملے گی؟ ہم سمجھتے ہیں کہ پاک فوج کا ہر جنرل اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں با کمال ہے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ شخصیات کے بجائے اداروں کی مضبوطی کےحوالے سے اپنا صحافتی کردار ادا کرے۔ جب کسی ایک جنرل کی مدت ملازمتمیں توسیع کے حوالے سے مہم چلائی جاتی ہےتو دیگر سینئیرز کی حق تلفی ہوتی ہے اور بد دلی پھیلتی ہے جو کہ اچھی بات نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں اس حوالے سے سول حکومت کو جلد فیصلہ کرنا چاہیے۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں