ظفر عمران کے افسانوں کی کتاب آئنہ نما میرے سامنے پڑی ہے اور یہ دو ماہ سے یہیں تھی مگر پڑھنے کی توفیق اس ہفتے ہوئی۔
گھنٹی والی ڈاچی اور فریب کار بانسری جنسی جبلت کی منہ زوری کا بیان ہے اور دلچسپ ہے مگر مجھے شکوہ ہے کہ مصنف اس افسانے میں جلد باز نظر آئے، وہ افسانے کو کئی جگہ فلمی مناظر کی طرح بھگاتے گئے۔کوئی معنی نہیں محبت کے کسی مجلس میں پڑھا سنا جائے تو لوگ اسے محبت کی گھسی پٹی کہانی کہیں گے مگر یہ وہی لوگ ہوں گے جو محبت جی نہیں سکے لہٰذا مجھے یہ پسند آیا اور میری پسند سے ہٹ کر بھی اس میں اثر پذیری ہے۔ گزیدہ ایک اچھا افسانہ ہے بلکہ یوں کہیے کہ گھر گھر کی کہانی ہے اور سوشل میڈیا کے خانگی زندگی پر اثرات دلچسپ پیرائے میں بیان کرنے کے ساتھ منٹو کو پڑھے بغیر منٹو کشی کے شائقین پر چوٹ بھی کی ہے۔ اُس نے سوچا، ہماری روزمرہ کی زندگی کا اثر انگیز اظہار ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ سنگین حالات میں مزاحمت تو کیا کرنی، لوگ کس طرح تھوڑی سی زحمت سے بھی ڈرتے ہیں۔ ایک پاکیزہ سی، گنہ گار لڑکی مجھے پسند آیا۔

سماجی جبر کے نتیجے میں بگڑے چہرے میں انسانیت کی رمق دکھاتی یہ کہانی ظفر عمران کی مشاقی کا عمدہ اظہار ہوتی اگر اس کے اختتام پر دو جملے نہ ہوتے اور ممکن ہے کہ جن لوگوں نے منٹو کو ڈھنگ سے نہیں پڑھا، وہ اس پر منٹونیٹ کا ٹھپہ لگا دیں مگر یہ اور چیز ہے اور اچھی ہے۔ کرشن چندر سے بڑا ادیب ادب منڈی میں بکتے ادیب کے متعلق دلچسپ اظہار ہے۔ جھیل بنجوسہ کی تتلیاں اچھا افسانہ ہے اور اس میں ایک دلچسپ نکتہ نکالا گیا ہے کہ جب آپ دوستوں کے ساتھ سیاحت کرتے ہیں تو یہ تفریح ہوتی ہے اور جب آپ اہل خانہ کے ساتھ کہیں جاتے ہیں تو یہ الجھن ہوتی ہے۔ اس کے اختتام پر بھی دو جملے حذف کرنے کی ضرورت ہے۔ اب آپ ہیں یا ہم، ظفر عمران نے مگروں لایا ہے۔ ایک کال گرل کی کہانی کا مرکزی کردار ڈرامہ رائٹر ہے اور کہانی امیر آدمی کی جانب سے غریب آدمی کے استعمال کی ہے، یہ غریب آدمی مرد بھی ہو سکتا ہے اور عورت بھی، ظفر عمران کا مرکزی کردار اس کہانی کے اختتام پر استعمال ہونے سے انکار کرتا ہے اور استعمال ہونے والی لڑکی کو بھی انکار کی طرف لانے کی کوشش کرتا ہے جو اچھی بات ہے۔ فرقہ امید پرستوں کا دہشت گردی کے باب میں متوازن افسانہ ہے اور اس میں افسانویت بھی ظفر عمران کی دیگر تحاریر سے زیادہ ہے،یہ ہمارے سماج کا ایک المیہ ہے جسے دل لگا کر نظر انداز کیا گیا ہے مگر پی ٹی ایم جیسے لوگ اسی المیے کی پیداوار ہیں۔ اپسرا اس بیوہ کی دلچسپ کہانی ہے جسے کئی مردوں سے بیک وقت”پیار”ہو جاتا ہے۔ اک حسینہ تھی، ایک گدھا تھا اور رومان تھا مجھے پسند نہیں آیا۔ افسانہ کارآمد مجلسی تنقید پر اچھی چوٹ ہے۔ من کا پاپی اور عشق ممنوع محنت سے لکھا گیا افسانہ ہے اور متاثر کن ہے۔

ظفر عمران کی اس کتاب کی ایک خوبی کہیے کہ خرابی کہیے مگر میں اسے سراہنا چاہتا ہوں کہ اس میں الفاظ کو صحیح املا ءکے ساتھ لکھنے پر توجہ دی گئی ہے۔ اس میں پروف کی اغلاط بھی نہیں، البتہ ظفر عمران نے اپنی عجلت پسندی کے سبب کچھ کہانیوں کے ساتھ زیادتی کی ہے اور جن کہانیوں سے سکرپٹ رائٹر ظفر عمران نے عجلت برتی ہے وہ ریڈیائی ڈرامے کی یاد دلاتی ہیں۔ ظفر عمران کی عورتوں کی نفسیات سے واقفیت اچھی ہے۔ اس کتاب میں آج کی کہانی لکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور آج کی کہانی لکھنا بہت مشکل ہوتا ہے اور ظفر عمران اس میں کہیں کامیاب ہوئے ہیں اور کہیں کامیابی سے دور رہے ہیں مگر ان کا انداز بیاں شگفتہ ہے اور بات اچھی کرتے ہیں سو پڑھنی چاہیے۔
تبصرہ: آدم شیر
کتاب: آئنہ نُما
قیمت: 399 روپے ڈاک خرچ سمیت
گھر بیٹھے منگوانے کے لیے وٹس ایپ نمبر 03009446803 پر رابطہ کیجیے.
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں