کسی بھی انسان کی زندگی میں پیش آنے والا ایک حادثہ نا صرف اس فرد بلکہ اس سے پیار کرنے والے لوگوں کے معمولات زندگی کو بھی بُری طرح متاثر کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسی لاکھوں مائیں موجود ہیں جنہوں نے ٹریفک حادثات میں اپنی نوجوان اولادیں کھوئی ہیں اور ایسے بچے موجود ہیں جو کم عمری میں ہی اپنے والدین کی بھیانک موت جیسے المناک حادثے سے نبردآزما ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی زندگیاں محرومیوں، مجبوریوں اور نفسیاتی صدمات کا استعارہ بن چکی ہیں۔ ایسے غمزدہ انسان بھی ہیں جنہوں نے اپنے محبوب کھوئے ہیں اور ایسے بھی جو اپنے پیارے دوستوں کی ناگہانی موت کی بنا پر رنج و الم میں مبتلا ہیں۔ ان حادثات میں بچ جانے والے انسان جو ذہنی اور جسمانی لاچارگی کا شکار ہو جاتے ہیں ان کی زندگی بھی کسی عذاب مسلسل سے کم نہیں ہے۔ اس تحریر کا مقصد ان حادثات پر صرف آنسو بہانا نہیں ہے بلکہ ہمیں مل کر ان کی وجوہات تلاش کرنی پڑیں گی۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ مسئلہ اتنا سادہ ہے کہ صرف ڈرائیوروں کی غفلت، موبائل فون کے استعمال، ٹریفک قوانین کا غیر فعال ہونا، وغیرہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے عام لوگوں کی جہالت اور رویوں کو لعن طعن کرتے ہوئے سخت سے سخت سزاؤں کی تجاویز دے کر ہم بری الزمہ ہو سکتے ہیں۔
آبادی کے تناظر سے ایشیا میں سب سے زیادہ حادثات پاکستان میں ہوتے ہیں، موٹروے پولیس کے مطابق سالانہ 30 ہزار سے زائد انسان ٹریفک حادثات کی وجہ سے موت کا شکار اور لاکھوں افراد زخمی ہوتے ہیں۔ ان حادثات سے اربوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔ آنے والے عرصے میں پاکستان میں اموات کی تیسری بڑی وجہ ٹریفک حادثات بن جائیں گے جو ایک خطرناک صورتحال کی غمازی کرتا ہے۔ حادثات کی سب سے بڑی وجوہات خستہ حال سڑکیں، بہت زیادہ گاڑیاں، گاڑیوں کی بوسیدہ حالت، ٹریفک کے اصولوں سے لاعلمی، تیز رفتاری، کم عمر ڈرائیور، فوری ہسپتال پہنچانے کی عدم سہولت، ہسپتالوں میں طبی سہولیات کا فقدان وغیرہ وغیرہ ہیں۔
پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک کے اندر کسی بھی شعبے میں منصوبہ بندی نہیں کی جاتی بلکہ جب مسائل بہت زیادہ بڑھنے کے بعد قابو سے باہر ہوجاتے ہیں تو حکمران طبقات ان مسائل کی بھونڈی اور بیہودہ قسم کی تاویلات پیش کرتے ہیں، کرپشن، اداروں کا غیر فعال ہونا اور عوام کی جہالت کو ان مسائل کی وجوہات گردانا جاتا ہے اور ان کے حل کی خاطر میڈیا کے ذریعے عوام میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ آپ ہی جاہل اور غلط ہیں جن کی وجہ سے غیر ذمہ دار لوگ اقتدار میں آگئے ہیں، آپ لوگ قوانین کی پیروی نہیں کرتے یا یہ کہ فلاں حکمران جماعت کی وجہ سے یہ تمام مسائل ہیں اگر ہم لوگ آجائیں گے تو تمام مسائل کا دنوں میں خاتمہ کردیں گے، جب وہ خود اقتدار میں آجاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ سابقہ حکومت کے غلط اقدامات کی بِنا پر یہ مسائل حل نہیں ہو رہے ۔
ٹریفک حادثات کو روکنے کےلیے ضروری ہے کہ ٹریفک کے نظام کی منصوبہ بندی کی جائے۔ آبادی کے حساب سے ٹریفک کا انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے اور گاڑیوں کی تعداد کو کم کرنے کےلیے عوامی ٹرانسپورٹ کو زیادہ سے زیادہ فعال بنایا جائے، موٹر سائیکل کے بے دریغ استعمال کو کم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کےلیے متبادل عوام کے پاس ہونا چاہیے۔ ٹرک،ٹرالے اور ٹینکرز جو مال برداری کا کام دے رہے ہیں یہ نا صرف ہماری معیشیت پر بہت بڑا بوجھ ہیں بلکہ ٹریفک حادثات کا سب سے بڑا سبب بھی ہیں۔ بھاری ٹریفک کو کم کرنے کےلیے ضروری ہے کہ اس کے متبادل ریلوے نظام کو از سر نو بہتر بناتے ہوئے مال گاڑیوں کی صورت میں نکالا جا سکتا ہے اور اس شعبے سے جڑے لوگوں کو روزگار کی ضمانت بھی دی جانی چاہیے۔ جدید سائنسی ٹیکنالوجی اور اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے منصوبہ بندی کرتے ہوئے ایسے ہزاروں اقدامات کیے جاسکتے ہیں جن سے ٹریفک حادثات میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوگی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ٹریفک حادثات کی سب سے بڑی وجہ انسانوں کی غلطی، جلد بازی کی نفسیات اور افراد سے جڑے کئی مسائل ہیں۔ ہم جب بھی ٹریفک حادثات کی بات کرتے ہیں تو ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ کس کی غلطی تھی اور حادثے کا قصور وار کون ہے، لیکن ہم یہ سوال کیوں نہیں اٹھاتے کہ اس نے غلطی کیوں کی اور کیا وجوہات تھیں کہ اس نے ناصرف اپنی زندگی کو غیر اہم سمجھا اور دوسروں کی زندگیوں سے بھی کھیل گیا۔ اس مسئلے کی وجہ سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ ہم پورے معاشرے کی مجموعی صورتحال کا اندازہ لگائیں، جس معاشرے میں مردہ انسانوں کا ریپ کیا جاتا ہو، والدین اپنے بچوں کو زہر دے کر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہوں اس معاشرے میں ٹریفک کے قوانین کی پاسداری کی امید ایک مضحکہ خیز بات لگتی ہے۔
موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی مظام نے انسانوں سے انسانیت چھین لی ہے، زیادہ تر افراد کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے، کروڑوں لوگوں کےلیے اپنی ضروریات زندگی پوری کرنا ہی واحد چیلنج بن چکا ہے، ہر طرف بھوک، افلاس، جرائم، ظلم، استحصال اور نفرتیں ہی نفرتیں ہیں، یہ نظام لوگوں سے جینے کا احساس چھین رہا ہے اور انہیں موت سے پیار کرنے کی طرف راغب کر رہا ہے کہ جہاں علم و آگہی، پیار و محبت، ترقی و خوشحالی کی خاطر جدوجہد کرنے والے انسانوں کو پاگل اور ایجنٹ تصور کیا جاتا ہے۔
اس معاشرے میں موجود تمام مسائل بشمول ٹریفک کے مسائل کو لیکچراور مادی بنیادوں کو سمجھے بغیر زبردستی قانوں کے اطلاق کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ جدید علم اور انسانی محبت سے سرشار جذبے کے تحت منصوبہ بندی کرتے ہوئے بخوبی حل کیا جاسکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام جو حکمران طبقات اور چند امیر ترین افراد کے دلال کے طور پہ انسانوں کی فلاح و بہبود کی بجائے شرح منافع کی خاطر کام کرتا ہے میں انسانیت کے بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کی گنجائش نہیں ہے۔ اس نظام کو پاش پاش کر کے ہی منصوبہ بند معیشت کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے، جو ایک صحت مند انسانی معاشرے کی تعمیر کرے گی۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں