شادی ایک ایسا رشتہ ہے جو دوخاندانوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔اگر اس رشتے کی بنیاد ہی ظلم وزیادتی پر رکھی جائے گی تو یہ رشتہ پروان چڑھنے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جہاں پر عورت کے ساتھ اور بہت سے ظلم ہوتے ہیں وہاں سب سے بڑا ظلم عورت کی چھوٹی عمر میں شادی کرنا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جس عمر میں ایک لڑکی کو کھلونوں کے ساتھ کھیلنا چاہیے ہم اس کو ہی ایک کھلونا بنا کر کسی کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں۔اور وہ انسان پھر اپنی مرضی سے اس ننھی کلی کے ساتھ کھیلتا ہے۔
ہمارے پیارے ملک پاکستان میں یونیسف( UNICEF)کی رپورٹ کے مطابق ہر سال 21فیصد لڑکیوں کی شادی ان کی اٹھارہویں سالگرہ سے پہلے اور 3فیصد لڑکیوں کی شادی ان کی پندرہویں سالگرہ سے پہلے کر دی جاتی ہے۔ ایک عورت کی ایک خاص عمر سے پہلے شادی کر دینا ہی عورت پر بہت بڑا ظلم ہے۔ اسکی وجہ ہماری پسماندہ سوچ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ ہم نے ہمیشہ بیٹی کو بوجھ سمجھا ہے۔ ہم نے عورت کو بس شادی کرنے اور بچے پیدا کرنے کی حد تک رکھا ہوا ہے۔ جنوبی پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان اور دیہاتوں میں ہزاروں لڑکیاں ایسی ہیں جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر گھر والے انکی چھوٹی عمر میں زبردستی شادی کروا دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہر سال ہزاروں خواب شادی کے بوجھ تلے دفن ہو جاتے ہیں۔
ہم نے ہمیشہ اپنی بیٹیوں سے جان چھڑوانے کا سوچا ہے کبھی انکے خواب پورا کرنے کی طرف توجہ نہیں دی۔ کبھی بیٹی کی رضامندی نہیں پوچھی، ہمیشہ اپنی پسند کو ہی اس پر مسلط کیا۔ جلدی شادی کرنے سے معاشرے میں خوشحالی نہیں بگاڑ ہی پیدا ہو گا۔ کیونکہ جلدی شادی کا اثر عورت کے ذہن پر بھی ہوتا ہے تو ایک ذہنی مریضہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کیسے کر پائے گی۔ہمیں چاہیے کہ سب سے پہلے ہم اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں اور بعد میں ان کی رضامندی کے ساتھ انکی شادی کروائیں ۔ اگر ہم ایسا کریں گے پھر ہی ہمارا معاشرہ اور ہمارا ملک خوشحال ہو گا۔

بحیثیت قوم یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں ایسے ہونے والے کاموں کو روکنے کی کوشش کریں اور عورت کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلوائیں ۔ انہیں ہر وہ کام کرنے کی اجازت دیں ،جو کام کرنے سے انہیں ہمارا مذہب بھی نہیں روکتا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں خوشحال ہو ں تو ہمیں آج اپنی سوچ کو بدلنا پڑے گا۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں