• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(انچاسویں قسط)۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(انچاسویں قسط)۔۔گوتم حیات

حکومت کی طرف سے گزشتہ روز لاک ڈاؤن میں نرمی کر کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نام سے عوام کے لیے ایک نئی پالیسی متعارف کروائی گئی ہے۔ یہ نئی پالیسی ایک ایسے نازک وقت میں متعارف کروائی گئی جب کرونا کی وبا ملک بھر میں حیران کن حد تک بڑھ چکی ہے۔
حکومت نے ان نئے قواعد وضوابط پر عملدرآمد کے لیے کسی بھی قسم کی پیشگی منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔ اس بات کے ٹھوس شواہد کل بازاروں میں لوگوں کی بھیڑ کی صورت میں نظر آئے۔ میری طرح کچھ لوگوں نے خوف کے مارے حکومتی دعوؤں پر عمل نہ کرتے ہوئے اسمارٹ لاک ڈاؤن کا بائیکاٹ کر کے بازاروں کا رخ نہیں کیا لیکن ہم نے اپنے گھر کی ٹی وی اسکرین پر یہ سب مناظر دیکھے۔
یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہم نے ابھی تک کرونا کی وبا کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ہمارے رویوں میں ابھی بھی وہی فرسودہ اور غیر سائنسی سوچ کارفرما ہے کہ
“یہ ایک سازش ہے، اس وبا سے تو ہمارے ملک کی گرم آب و ہوا خود ہی نمٹ لے گی، ہم تو مسلمان ہیں غیر مسلموں کی طرح حرام جانوروں کے گوشت نہیں کھاتے اس لیے یہ وبا ہمیں نہیں چھو سکتی۔۔۔،وغیرہ وغیرہ”
ملک بھر کے ڈاکٹرز اور سماجی ماہرین بار بار اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ جب وبا پھیلتی ہے تو اس کو فوری طور پر کنٹرول کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی اتنے مسائل ہوں وہاں پر اس قسم کی وبائیں عوام کی زندگیوں پر ایک اضافی بوجھ ہیں۔
اس وبا کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے سوائے اس کے کہ خود سے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، مگر افسوس کہ اجتماعی طور پر ہم یہ چھوٹا سا معمولی کام بھی سنجیدگی سے کرنے کے پابند نہیں۔
اس طرح کے منفی رویوں سے ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
کیا ہمارا ملک جغرافیائی طور پر اس زمین کا حصہ نہیں، جہاں کرونا لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کے چراغ گل کر چکا ہے۔۔خود ہمارے اپنے ملک میں 32ہزار سے زائد شہریوں سمیت کئی ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل   سٹاف  اس موذی مرض کا شکار ہو چکے ہیں۔
کیا ہماری ذہنی سطح اتنی زیادہ مشینی، روبوٹک اور بےحسی کا شکار ہو چکی ہے کہ ہمیں اپنے اردگرد کی دنیا کا ہوش ہی نہیں ہے۔۔۔؟
گزشتہ روز بازاروں میں خریداری کرتے ہوئے لوگوں کا ہجوم معاشی طور پر خود کفیل تھا، یقیناً یہ لوگ تعلیم یافتہ بھی ہوں گے۔ کیا ہو جاتا اگر یہ لوگ کل بازاروں کا رخ کرنے سے پہلے احتیاطی تدابیر اختیار کر لیتے۔۔۔
ایک طرف اس شہر میں لاکھوں کی تعداد میں ایسا طبقہ بھی موجود ہے جن کے گھر پر ان دنوں مشکل سے راشن پہنچ سکا، بہت سے لوگوں نے قطاروں میں لگ کر اپنی توانائیاں صرف کیں اور دوسری طرف یہ مخصوص طبقہ، ہر قسم کی آسائشوں سے بھرپور لیکن انتہا کی حد تک ذلالت اور بےحسی کا شکار۔۔۔
ان کو دیکھ کر کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ شہر کی آدھی آبادی کس کرب سے گزر رہی ہے۔۔۔؟
اب ہمارے معاشرے سے سادگی، اخلاص اور ہمدردی کی سنہری روایات اجتماعی طور پر رخصت ہو چکی ہیں۔
اب نمود و نمائش کے دن ہیں، جو جتنی زیادہ نمودونمائش کر کے اپنی تشہیر کرے گا وہ اتنا ہی زیادہ کامیاب اور فیاض تصور کیا جائے گا۔ اسی لیے یہاں پر گلی گلی خلقِ خدا کے لیے شہر کے “خودساحتہ مسیحاؤں” نے دسترخوان تو سجا دہے ہیں لیکن ان دسترخوانوں کے ہوتے ہوئے بھی لوگوں کے پیٹ خالی ہیں۔ نہایت چالاکی سے ان کی محرومیوں میں دن بہ دن اضافہ کیا جا رہا ہے۔
“خود ساختہ مسیحا” ان دسترخوانوں کے نام پر اپنے بینک اکاؤنٹ بھر رہے ہیں، کوئی ایسا ادارہ نہیں جو ان کی جانچ پڑتال کرے۔ ان کی بس ایک ہی خواہش ہے کہ شہر کے مفلوک الحال لوگ اسی طرح بھوکے پیٹ رہ کر ہمارے دسترخوانوں کی زینت بڑھاتے رہیں۔۔۔
لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو بےروزگاری میں دھکیل کر شہر کی اشرافیہ ان دسترخوانوں کے مالکوں کی جیب آخر کب تک گرم کرتی رہے گی۔۔۔ کیا اس طرح کے مصنوعی حربوں سے عوام کے مورال کو بلند کیا جا سکتا ہے۔۔۔
کیا اسلام اس بات کا درس دیتا ہے کہ لوگوں کو غریب بنا کر ان کی محرومیوں سے کھیلا جائے؟

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply