2011 میں عرب سپرنگ کئی عرب ممالک میں پھیل گئی۔ یمن اور شام بھی ان میں شامل تھے۔ یمن میں یہ اقتدار کے لیے دو مقامی گروہوں کی لڑائی تھی جو 2014 میں خانہ جنگی پر ختم ہوئی۔ یمن ایک غریب ملک تھا لیکن اب یہ ایک ایسا ملک ہے جو بہت بڑے انسانی بحران سے دوچار ہے۔ چنانچہ ایک اندرونی تنازع نے ایک ملک کو خانہ جنگی تک پہنچا دیا جس میں مقامی گروہوں کے بجائے اب غیر ملکی طاقتیں صورتِ حال کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
اسی طرح شام کی بھی یہی کہانی ہے۔ شام کا بحران 2011 میں حکومت مخالف مظاہروں کے ایک سلسلے کے طور پر شروع ہوا، جو آخرکار مکمل طور پر خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گیا۔ جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور لاکھوں لوگوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ دسمبر 2024 میں بشارالاسد کی حکومت ختم ہو گئی اور احمد الشرع کی قیادت میں ایک عبوری حکومت قائم کی گئی۔ لیکن بشارالاسد سے لے کر احمد الشرع تک تقریباً 6 لاکھ لوگ مارے گئے اور کئی لاکھ شامی ملک کے اندر بے گھر ہو گئے۔ اس بحران کے آغاز سے پہلے انسانی ترقی کے اشاریہ میں شام 112ویں نمبر کے ساتھ ایک درمیانی آمدنی والا ملک تھا۔ سال 2025 کے مطابق اس وقت یہ 160ویں نمبر پر ہے۔ اس کی مجموعی قومی پیداوار 2900 ڈالر سے گھٹ کر 847 ڈالر پر آ گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اندرونی کشمکش نے ایک ترقی پذیر ملک کو ایک بدحال ریاست بنا دیا اور اسے غربت کی طرف دھکیل دیا۔
اور اب ایران ہے، جہاں عرب سپرنگ کروانے کی کوشش کی گئی۔ مگر کوشش کرنے والے بھول گئے کہ ایران کوئی عرب ملک نہیں۔ کبھی کسی کی کالونی نہیں رہا۔ بلکہ جب امریکہ موجود بھی نہیں تھا، فارس موجود تھا۔ اٹھائیس فروری کو ٹرمپ نے ایران پر حملہ اسے ٹی ٹونٹی میچ سمجھ کر شروع کیا تھا مگر ایران نے اسے ٹیسٹ میچ بنا دیا۔ امریکہ نے سوچا تھا کہ یمن اور شام کی طرح یہاں بھی قیادت کا بحران لا کر عرب سپرنگ کی تاریخ دوہرائی جائے گی۔ مگر خامنہ ای سمیت کئی درجن اعلیٰ عہدیداران کی شہادت کے بعد بھی ایران جھکا نہیں، نظام ختم نہیں ہوا اور امید کے برعکس ایرانی عوام اپنے ملک کے ساتھ کھڑی رہی۔
اسی لیے ایران نے اب تک پانچ سو سے زائد بیلسٹک میزائل اور دو ہزار ڈرون داغے۔ آبنائے ہرمز بند کر دی۔ خلیجی ممالک میں امریکی لوجسٹکس کو نشانہ بنایا، جن میں کچھ امریکی فوجی مارے بھی گئے۔ امریکہ کو یہ ایڈونچر دو ارب ڈالر یومیہ میں پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی تیل کا بحران اب تک کے تمام بحرانوں سے بدتر ہے۔ دیرینہ ساتھی امریکہ کی جنگ لڑنے کو تیار نہیں۔ یہ سب ٹرمپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ ایران یہ سب کرنے میں کامیاب ہوا تو اس کی دو ہی وجوہات ہیں: ایک، ایران نے اپنے مربوط نظام پر کام کیا۔ خامنہ ای کے جانے سے نظام اور اداروں کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ خامنہ ای کے ساتھ نظریاتی اختلاف ہو سکتا ہے مگر ان کی قیادت کی صلاحیتوں پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری وجہ تھی خود ایرانی قوم۔ اختلاف کے باوجود اپنے ملک کے ساتھ کھڑی رہی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ریاست کی سلامتی اندرونی اختلافات اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جنگیں دشمنوں کو کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتی ہیں۔ خدا جانتا ہے کہ آنے والا وقت ایران کے لیے کیا لاتا ہے، مگر ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ سر جھکا کر اور سر اٹھا کر جینے کی قیمت میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا، تو سر اٹھا کر جیو۔


