پاکستانی انفلوئنسر اور اسرائیل/مکالمہ سپیشل رپورٹ

(مکالمہ ڈیسک)یہ بات قارئین کیلئے کافی اچنبھے کا باعث ہو گی کہ اسرائیل پاکستان کے اندر کیسے اپنی سیندھ لگا رہا ہے۔ کیسے پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو اسرائیل کے خفیہ دورے کروائے جا رہے ہیں اور پراپوگنڈا جنگ شروع کر دی گئی ہے۔
حالیہ ایران- اسرائیل و امریکہ جنگ میں یہ بات نہایت تشویش کا باعث بنی کہ کیسے اسرائیل ایرانی نظام کے اندر تک سرائیت کر چکا ہے۔ سیندھ جو قلعے کے اندر سے لگے وہ بیرونی دشمن کو آسان راستہ فراہم کرتی ہے۔

مکالمہ کو اپنے ذرائع سے یہ افسوسناک معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ اسرائیل نے سیندھ پاکستان میں بھی لگانا شروع کر دی ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ سے ایسے “سوشل میڈیائی دانشوروں” کو شیشے میں اتارا گیا ہے جو عوام میں اسرائیل کیلئے بیانیہ بنا سکیں۔

ذرائع کے مطابق امریکہ میں مقیم ایک صحافی اور کینیڈا میں موجود ایک قوم پرست اس سارے پروگرام کے معاون ہیں اور ان کی ہی تجویز پہ بندے منتخب کیے جاتے ہیں۔ یہ پروگرام ایک اسرائیلی خاتون کی زیر نگرانی چلایا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ان لوگوں کو اسرائیل لیجایا جاتا ہے، انکی “مہمان نوازی” کی جاتی ہے، مختلف “اہم لوگوں اور محکموں” کے ساتھ ملاقاتوں میں “باہمی دلچسپی” کے امور پہ تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔

مکالمہ کے پاس موجود اطلاعات کے مطابق لاہور کے ایک معروف صحافی، ایک ناکام وکیل، اسلام آباد سے چار عدد سوڈو فلسفی و دانشور اور پشتون بیلٹ سے ایک وکیل اور کچھ قوم پرست رہنماؤں سمیت کئی لوگوں کو اس پروگرام کے تحت اسرائیل لیجایا گیا ہے۔ انکے ذمہ پاکستان میں اسرائیل کیلئے سافٹ کارنر پیدا کرنا، ایران کیلئے نفرت کے جذبات ابھارنا اور فلسطینی کاز کو بدنام یا بیوقوفی ثابت کرنا شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق ایسا  طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ سیاحتی ویزے پہ “باکو” لیجائے جاتے ہیں۔ جہاں سے انکو ایک کاغذی دستاویز پہ اسرائیل سفر کرایا جاتا ہے۔ اس سفر کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا اور نہ ہی پاسپورٹ پہ کوئی مہر لگائی جاتی ہے۔ ۔

مکالمہ ان اشخاص کی مکمل شناخت اور مزید دستاویزی ثبوتوں پہ کام کر رہا ہے اور جلد مزید تہلکہ خیز انکشافات سامنے لائے گا۔

مکالمہ پاکستانی حکام سے گزارش کرتا ہے کہ وہ ایسے پروگرامز اور اشخاص کی مکمل تحقیق کریں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں اگر اسرائیل اس حد تک پاکستان میں سیندھ لگا چکا ہے تو آنے والے وقت میں یہ ملک کیلیئے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ مکالمہ قارئین سے بھی گزارش کرتا ہے کہ محتاط رہیں اور سوشل میڈیائی دانشوروں پہ یقین سے قبل انکے اسفار اور افکار پہ خصوصی توجہ دیں۔

نوٹ: اس سلسلہ میں اسرائیل یا اسکے پاکستان میں نمائندے اگر کوئی موقف دینا چاہیں تو مکالمہ حاضر ہے۔

پاکستانی انفلوئنسر اور اسرائیل/مکالمہ سپیشل رپورٹ“ ایک تبصرہ

  1. پیسہ پھینک تماشا دیکھ ۔ صرف سوشل میڈیا ہی نہیں الیکٹرانک میڈیا بھی اپنا پورا پورا حصہ ڈال رہا ہے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں