قانون وراثت-تقسیم وراثت کی بنیاد(4)-عرفان شہزاد

کسی بھی قانون کی طرح تقسیم وراثت کے عمومی قانون کی تشکیل کے لیے کوئی ایسی بنیاد یا معیار مقرر نہیں کیا جا سکتا تھا جو انفرادیت کی حامل ہوں۔ اقربا سے محبت وشفقت اور ان کی خدمت و ضرورت انفرادی نوعیت رکھتی ہیں، جن میں تنوع پایا جاتا ہے۔ اقربا سے محبت و شفقت میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، ان سے حاصل ہونے والی خدمات متنوع اور ان کو درپیش ضرورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ ان کے لحاظ سے مورث ان کے لیے وصیت کرنا چاہے تو اس کی وصیت کی گنجایش انفرادی وصیت میں رکھی گئی ہے۔ قانون وراثت میں اس کو معطل نہیں کیا گیا۔ مورث کی وصیت پر کوئی قید نہیں لگائی گئی ۔ چنانچہ خارج سے اس پر کوئی قید نہیں لگائی جا سکتی۔ سورہ النساء کی متعلقہ آیات میں وصیت کا بیان کسی قید کا تقاضا کرتا ہے اور نہ اسے قبول کرتا ہے، سوائے رشتہ داری کی بنیاد پر وصیت کے۔ محض رشتہ داری کی بنیاد پر ورثا کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی، کیونکہ رشتہ داروں کے حصے خدا نے خود مقرر کر دیے ہیں۔ اس سے ہٹ کر مورث چاہے تو بہ شرط عدل اپنی پوری جائیداد کے لیے وصیت کر سکتا ہے۔ چنانچہ ورثا میں سے کسی کا حق خدمت یا اس کی ضرورت متقاضی ہو تو ان کے لیے ایسے ہی وصیت کی جا سکتی ہے جیسے غیر ورثا کے لیے۔
“قرابت” تقسیم وراثت کے لیے ایک معروضی بنیاد بن سکتی تھی۔ لیکن اس صورت میں ورثا کی جنس، یعنی مرد عورت ہونےاور ان کے مورث اور اس کے لواحقین کے حق میں مفید و مضر ہونےکا فرق بھی موثر نہیں رہتا۔ اس لحاظ سے یکساں تقسیم خلاف عدل ہوتی۔ نیز، مورث کو اپنے مضر ورثا کو عاق کرنے کا اختیار نہیں رہتا۔ یہاں تک کہ اس کا وارث اسے قتل کر دے تو اسے بھی وراثت سے محروم کرنے اور اس طرح مورث کو اس کے ضرر سے محفوظ رکھنے کی کوئی بنیاد اس قانون میں نہ ملتی۔ اس صورت میں مضر وارث کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے خارج سے دفعِ ضرر کے عمومی قانون کا سہارا لینا پڑتا۔ یوں بہرحال، قانون میں ایک نقص کا اعتراف کرنا پڑتا۔
قرآن مجید نے تقسیم وراثت کے قانون کی بنیاد قرابت نافعہ کو بنایاہے۔
ارشاد ہوا ہے:
آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ‎ (النساء 4: 11)
“تم نہیں جانتے کہ تمھارے ماں باپ اور تمھاری اولاد میں سے کون بہ لحاظ منفعت تم سے قریب تر ہے۔”
ورثا کی منفعت ان کی خدمت، حمایت، رفاقت اور کفالت کی صورتوں میں حاصل ہوتی ہے۔ یہ وہ منفعت بھی ہے جو مرنے والا اپنی زندگی میں ان سے حاصل کرتا ہے اور وہ بھی جو اس کے پس ماندگان کے لیے مرحوم کے قریبی رشتہ داروں سے متوقع ہوتی ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب ورثا صرف عورتیں ہوں۔ ان کی کفالت عام طور پر قریب ترین مرد رشتہ دار کرتا ہے، اس لیے ان عورتوں کا حصہ دینے کے بعد بقیہ ترکے کا وراث اسے بنایا گیا ہے۔
صحیح بخاری کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات فرمائی ہے :
ألحقوا الفرائض بأھلھا، فما ترکت الفرائض فلأولٰی رجل ذکر.(رقم ۶۷۴۶)
’’وارثوں کو اُن کا حصہ دو، پھر اگر کچھ بچے تو وہ قریب ترین مرد کے لیے ہے۔”
جاری۔۔۔

اپنا تبصرہ لکھیں