پوپ کے نام خط/عارف انیس

ایرانی شہر میناب پر حملے میں جاں بحق ہونے والدین کا پوپ کے نام خط بہت دکھی کرنے والا اور رلا دینے والا ہے. جنگیں سب سے پہلے انسانیت پر وار کرتی ہیں. خدا نہ کرے کہ کبھی والدین کو ایسے خط لکھنے پڑیں.

یہ خط ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب سے آیا ہے۔ 168 بچوں کے والدین، جو 28 فروری 2026ء کو ایک امریکی حملے میں اپنے جگر گوشوں کو دفن کر چکے ہیں، اُنھوں نے روم میں پوپ لیو چودہویں کے نام یہ خط تحریر کیا ہے۔ خط کا آغاز قرآن کی اس آیت سے ہوتا ہے جو ہم مسلمان ہر ضروری کام شروع کرنے سے پہلے پڑھتے ہیں: بِسْمِ اللہ الرَحْمٰنِ الرَحِیم۔ ایک کیتھولک پوپ کے نام، ایک شیعہ شہر کے مسلمان والدین کی طرف سے، یہ خط اسی ایک سطر کے ساتھ شروع ہوتا ہے جو عیسائیت اور اسلام دونوں میں “محبت” اور “رحم” کے خدا کی پکار ہے۔

والدین لکھتے ہیں:
“یہ خط ہم آپ کو کانپتے ہوئے ہاتھوں اور درد سے بھرے دل کے ساتھ لکھ رہے ہیں، میناب کے ان اسکولوں کی راکھ اور ملبے سے۔ ہم 168 بچوں کے ماں باپ ہیں، جو ان دنوں اپنے بچوں کے گرم جسموں کو گلے لگانے کے بجائے، اُن کے جلے ہوئے بستے اور خون آلود کاپیاں سینے سے لگاتے ہیں۔”

28 فروری 2026ء کی صبح، ایران پر امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائی “آپریشن ایپک فیوری” کے پہلے دن، پانچ ٹوما ہاک کروز میزائل ایران کے جنوب میں واقع میناب نامی شہر پر گر ے۔ ان میں سے کم از کم ایک میزائل “شجرہ طیبہ” پرائمری سکول کی عمارت پر پڑا۔ عمارت کی چھت چھوٹے چھوٹے بچوں پر آن گری۔

یہ اسکول گرلز پرائمری تھا، جہاں لڑکے اور لڑکیاں الگ الگ منزلوں پر پڑھتے تھے۔ ہلاک شدگان میں 110 بچے، 26 استاد، اور وہ 4 والدین شامل تھے جو پہلے حملے کی آواز سنتے ہی اپنے بچوں کو بچانے دوڑ ے تھے، اور دوسرے حملے نے انہیں بھی نگل لیا۔

پوپ لیو چودہویں دُنیا کی تاریخ کے پہلے امریکی پوپ ہیں۔ اُن کا تعلق شکاگو کے شمال میں واقع قصبہ ڈالٹن سے ہے، اور اُنھوں نے گزشتہ مئی میں ویٹی کن کی مسند سنبھالی ہے۔ اس ایرانی جنگ کے پہلے دو ہفتوں میں اُنھوں نے پاپل روایت کے مطابق احتیاط سے کام لیا۔ نہ امریکہ کا نام لیا، نہ اسرائیل کا۔ صرف “گفتگو” اور “سفارت کاری” کی اپیل کرتے رہے۔

مگر 16 مارچ 2026ء کی اتوار کی صبح، سینٹ پیٹر سکوائر سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے ایک جملہ کہا جو آج تک گونج رہا ہے:

“جنگ بندی کرو، تا کہ گفتگو کے راستے دوبارہ کھل سکیں۔”
اور پھر اُنھوں نے ایک لائن جوڑ دی جو براہِ راست میناب کے اُس اسکول کی طرف اشارہ تھا:

“ان حملوں نے اسکولوں، اسپتالوں اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے۔”

پوپ کے اس جملے نے صدر ٹرمپ کو غصے میں بے قابو کر دیا۔ چند گھنٹوں کے اندر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر لکھا: “کوئی تو پوپ لیو کو بتائے کہ ایران نے پچھلے دو مہینوں میں 42,000 بے گناہ مظاہرین کو مارا ہے۔” اس کے بعد اُنھوں نے پوپ کو “جرم پر کمزور” قرار دیا. وائٹ ہاؤس کی طرف سے آج تک میناب کے بچوں کی ہلاکت پر کوئی معذرت سامنے نہیں آئی۔

مینابرکے والدین نے یہ خط اسی خاموشی کے خلاف لکھا ہے۔
یہ خط اپنے متن میں ایک سفارتی ماسٹر پیس ہے۔

یہ وہ طریقہ ہے جسے چھوٹی اور کمزور قوموں نے صدیوں پہلے سیکھا تھا۔ جب آپ کی فوج نہیں، آپ کا خزانہ نہیں، آپ کے پاس صرف درد ہے — تو آپ درد کو کسی ایسے کان تک پہنچاتے ہیں جو طاقت سے نہیں، ایمان سے سنتا ہے۔

اور پوپ لیو کا کان اس خط کے لیے کھلا ہے۔

والدین لکھتے ہیں :

“ہمارے بچے کبھی واپس گھر نہیں آئیں گے ایک بہتر کل بنانے کے لیے۔ مگر ہم سوگوار ماں باپ کی دعا یہ ہے کہ آپ کا پیغام — ‘ہتھیار رکھ دو’ — سنا جائے۔ خاص کر اس وقت جب امریکہ اور اسرائیلی حکومت، اپنے حد سے بڑھے ہوئے مطالبات کے ساتھ، ان جرائم کی آگ بھڑکا رہے ہیں۔ ہم آپ سے التجا کرتے ہیں کہ بے آواز بچوں کی آواز بنتے رہیں، اور ‘گفتگو کے تمام راستے’ کھولنے کی کوشش جاری رکھیں، تا کہ مزید ہتھیار نہ بنیں، اور اس زمین پر کسی ماں یا باپ کو اپنے بچے کی ٹھنڈی قبر کے اوپر کوئی رات کی لوری یا سرگوشی کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔”
یہ جملہ “رات کی لوری، ٹھنڈی قبر پر” — برسوں تک یاد رکھا جائے گا۔

خداوند والدین کے زخموں پر مرہم رکھیں اور اس خطے کو امن سے ہمکنار فرمائیں.

اپنا تبصرہ لکھیں