ڈیتھ پارٹنر/سید محمد زاہد

دیارِ غیر میں تم جیسا دوست مل جانا نعمت غیر مترقبہ تھی۔ پہلا بَیج جس کو ایف سولہ کی ٹریننگ کے لیے ہل ائیر فورس بیس اوتاہ بھیجا گیا اس میں جنید کا نام شامل تھا اور ساتھ ہی تمہارے خاوند سموئیل کا بھی۔ مجھے امریکہ آنے سے پہلے تمہارا پتا چل گیا تھا لیکن یہ جان کر کہ تم کافی مغرور ہو رابطہ کرنے سے ڈرتی رہی۔ پہلی ملاقات میں غرور تمہارے حسن کے سامنے ہیچ لگا۔ کُندن کی طرح چمکتا چہرہ، کالی سیاہ زلفوں کو سمیٹ کر نصف دائرے کی شکل میں کان کے پیچھے باندھ رکھا تھا۔ بندوں میں جڑے یاقوت پارے سورج کی کرنوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ میرے سلام پر مسکراتے ہوئے جواب دیا تو سرخ ہونٹوں کے درمیان ہیرے کی کنیوں جیسے دانت کِھل اٹھے۔ مست مئے نخوت تمہاری آنکھیں، غفلت طراز ادائیں اور پتلا و لچکدار جسم دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ تمہارا بدن بدن نہیں ایک آتما ہے، انتر آتما جس میں تم نے پوری کائنات چھپا رکھی ہے۔
ہماری شادی کو ایک سال ہوا تھا۔
امریکہ میرے لیے دوہری خوش خبری لایا۔ جس دن جنید کو بتایا گیا کہ اسے ایف سولہ کی ٹریننگ کے لیے چن لیا گیا ہے اُسی دن میرا حمل ٹیسٹ پازیٹو آیا تھا۔ یہ جان کر کہ میں حاملہ ہوں تم اتنے پیار سے ملیں کہ لگا پوتر آتما نے مجھے گود میں لے لیا ہے۔
جنید اور سموئیل کی ٹریننگ کڑی اور جانکاہ تھی۔ ہم بھی اُن کے بوجھ میں اضافہ کرنا مناسب نہ سمجھتےتھے۔ وہ پاکستان فضائیہ کا وہ اثاثہ تھے جس پر پوری قوم کو فخر تھا۔ یہ دستہ مستقبل کے آفیسرز کے لئے معیار اور وقار کی نئی راہیں متعین کرنے والا تھا۔ ائیر فورس کے افسر سے شادی کرنے والی ہر عورت جانتی ہے کہ اس کے خاوند کی پہلی محبت جنگی جہاز اور سب سے بڑی خواہش ہواؤں میں اڑنا ہوتا ہے۔ ہم ان مقاصد کے راستے میں دیوار نہیں بننا چاہتی تھیں۔ کئی دن ہماری ان سے ملاقات نہ ہوتی؛ اگر کبھی جلد لوٹ بھی آتے تو امریکی آفیسرز اور ہم نشینوں کے ساتھ محفل آرائی میں الجھ جاتے؛ کلب جاتے، فٹ بال کھیلتے یا پھر ٹی وی پر میچ دیکھنے لگتے۔ ان کٹھن اور تنہائی سے لبریز دنوں میں تم میرا اکلوتا سہارا تھیں۔
کلب جانا ہوتا یا گائناکالوجسٹ کے طویل اور تھکا دینے والے چکر، تم ہر جگہ میرے ساتھ ہوتیں۔ میرا پیٹ اس قدر بڑھ چکا تھا کہ اپنے ہی پاؤں دیکھنا محال ہو گیا۔ ٹانگیں بے توجہی کے باعث بالوں سے اٹ گئیں۔ میں نے لمبی شرٹ پہننا شروع کر دی۔ تم نے سختی سے منع کیا، ’’جیسا دیس، ویسا بھیس۔‘‘ پھر خود میرے قدموں میں بیٹھ کر ٹانگوں کی شیو کی۔ چلتے ہوئے اگر میرا قدم ذرا سا بھی ڈگمگاتا، تو تم فوراً میرا بازو تھام لیتیں؛ یوں جیسے ان دنوں میری پوری دنیا تمہارے سہارے پر چل رہی تھی۔
پہلا حمل تھا اور ہم انجان۔
مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے، میں مٹکے جیسا پیٹ لیے بیٹھی تھی، تم پنسل ہیلز کی کھنک کے ساتھ لمبے ڈگ بھرتے، ہوا کی طرح لہراتی میرے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔
بچے کی حرکت کے ساتھ میرے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ کر تم نے نرمی سے پوچھا، ’’اجازت ہو تو پیٹ پر ہاتھ رکھ کر حرکت محسوس کرلوں۔‘‘
میں نے مسکراہٹ سے بھیگی ہاں میں سر ہلا دیا۔
تم نے آہستگی سے کپڑا ہٹایا، ہاتھ رکھا اور میری حیرت کے طلسم توڑتے ہوئے کہا، ’’بیوٹی آف پریگننسی پہلی بار دیکھ رہی ہوں۔ پیٹ سے یوں بھاپ اٹھ رہی ہے جیسے جاڑوں کی صبح سانس سے دھند اٹھتی ہے۔ تمہارے پیٹ کا یہ ابھار  دیکھ کر مجھ پر یہ راز کُھلا ہے کہ حاملہ عورت غیر حاملہ عورت سے زیادہ پُر کشش ہوتی ہے۔‘‘
تمہاری بات میں وہی سچائی تھی جو کسی پرانی داستان کے جادو کو زندہ کر دیتی ہے۔
اس دن تم نے دھیرے سے بتایا کہ تم کبھی ماں نہیں بن سکتی ہو۔
آواز میں ایسی لرزش تھی جو دل کے در و دیوار ہلا دے۔ الفاظ میں صدیوں کا دکھ، تنہائی اور محرومی تھی۔
’’میں نہیں جانتی کہ ماں کا پیار کیا ہوتا ہے؟ پیدا ہوئی تو ماں کو کھو دیا۔ حاملہ ہوئی تو وقت سے پہلے ہی بلیڈنگ شروع ہو گئی۔ بچہ بھی گیا اور بچہ دانی بھی۔‘‘
یہ سن کر میرے دل میں خواہش جاگی کہ کاش میں ایک بچہ تمہارے لیے بھی پیدا کر سکوں۔
کاش کوئی ایسا طریقہ ہوتا کہ میں اپنی بچہ دانی تمہیں تحفے میں دے دیتی، تاکہ تم بھی امومت کے حسن سے اپنی نگاہیں سیراب کر سکتیں۔
جنید اور سموئیل بڈی پئیر تھے۔ ایک دوسرے کے لیے ڈھال، ایک دوسرے کی حفاظت میں جان قربان کرنے کا عہد نبھانے والے۔ امریکہ میں انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔ ہم نے بھی ان کے ساتھ رہ کر نئی دنیا کے ڈھنگ سیکھے۔ واپسی کا وقت آن پہنچا تھا۔ دونوں نے ایف سولہ پر اڑان بھرنی تھی۔ وہ اور ان کے ساتھی اس بات پر بہت مسرور تھے کہ اپنے ملک کے لیے سب سے پہلے ایف سولہ اڑانے کا اعزاز انہیں ملنے والا ہے۔ ہم بھی خوش تھے مگر دل کے کسی کونے میں ایک انجانی سی بے چینی سر اٹھاتی تھی—پہلی بار اتنی طویل پرواز، ٹیکساس سے سرگودھا، بحرِ اوقیانوس کے پار۔ سفر کے ابتدائی مرحلے میں پاکستانی پائلٹس کے ساتھ امریکی ساتھی بھی شامل تھے، مشرقِ وسطیٰ سے آگے کا آسمان انہیں تنہا طے کرنا تھا— صرف وہ، اُن کا حوصلہ اور وطن کی امیدیں۔
ہماری طرح امریکی فضائیہ کے افسران کا باہمی رشتہ بھی کچھ کم گہرا نہیں ہوتا بلکہ ان کے کچھ اصول ہم سے بھی اچھے ہیں یا یہ کہہ لیں کہ ہم ابھی خاندانی رشتوں کی گرہ میں بندھے ہوئے ہیں اور وہ اس سے آگے نکل کر ایک وسیع تر رفاقت کو جنم دے چکے ہیں۔ وہ بڈی پئیر کے ساتھ ساتھ آفیسرز کی بیگمات کو ’ڈیتھ پارٹنر‘ بنا کر دوست خاندانوں کو ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں برابر کے شریک بنا دیتے ہیں۔ ڈیتھ پارٹنر فارم سائن کرنے کا مطلب تھا کہ – خدا نہ کرے – اگر کسی ایک کے شوہر کی جنگی مہم میں موت واقع ہو جائے تو یہ ذمہ داری دوسری بیوی کے کندھوں پر ہوگی کہ وہ اس دل توڑنے والی اطلاع کو وقار اور حوصلے کے ساتھ اس تک پہنچائے۔ دونوں خاندان غم کی اس کٹھن گھڑی میں بھی رفاقت کا ہاتھ تھامے رکھیں۔
ہم دونوں کو یہ امریکی قانون بہت پسند آیا۔
اُس رات، جب میں حمل کے بوجھ تلے جنید کے پہلو میں سمٹی ہوئی تھی ، حمل کے ان آخری دنوں میں صرف اس طرح لیٹنے سے کچھ سکون ملتا تھا، اُس نے دھیرے سے یہ بات چھیڑ دی۔ وہ دونوں بھی یہی سوچ رہے تھے۔ ابتدا میں تو اس خیال کی نحوست نے میرے دل میں آگ لگا دی؛ ایسا لگا جیسے کوئی اندوہناک سایہ اچانک ہمارے درمیان آ کھڑا ہوا ہے۔ جنید نے تمہیں منتخب کیا تھا اور سموئیل نے بھی اپنے خاندان کے کسی فرد کی بجائے مجھے چنا تھا۔ بدقسمتی کے تلخ بندھن کا انوکھا خیال ہم چاروں کے دماغ میں پیوست ہو گیا تھا۔
ہماری دوستی زیادہ پرانی نہیں تھی مگر دلوں میں یہ خواہش جاگ رہی تھی کہ زندگی کے اس ہولناک لمحے میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ نبھائیں۔
ڈیتھ پارٹنر بننے کا معاہدہ سامنے تھا۔
میں نے بات شروع کی تو تم نے میرا ہاتھ تھام لیا، ’’میں تمہیں ایک بات بتا دینا چاہتی ہوں __‘‘
تمہارے ہاتھ گرم تھے اور چہرہ پُرسکون۔ آواز میں لرزش کا شائبہ تک نہ تھا۔
’’اگر کبھی یونیفارم ہاتھ میں اٹھائے تم میرے دروازے پر آئیں__
میں جانتی ہوں کہ یونیفارم اس وقت آتی ہے جب آفیسر شہید ہو جاتا ہے۔ زخمی ہو تو وہ کال کرتے ہیں۔‘‘
یہ جملے ہوا میں دیر تک معلق رہے۔ تم خاموش ہو گئیں۔ اس خاموشی میں ایک ایسا بوجھ تھا جو لفظوں سے کہیں زیادہ بھاری تھا۔ دوستی کا وعدہ غم کی سب سے کڑی آزمائش میں ڈھلنے والا تھا۔
’’میں تمہارے ساتھ یہ وعدہ کرنے کو تیار ہوں لیکن یہ جان لو کہ اگر تم اور فضائیہ کے افسران میرے دروازے پر آئے تو میں سیدھی اندر جا کر سموئیل کا پسٹل منہ میں رکھ کر ٹریگر دبا دوں گی۔ اُس سے جدا ہو کر زندہ رہنے کا تصور میرے لیے محال ہے۔‘‘
الفاظ کا کھردرا پن بتا رہا تھا کہ تمہاری بات اٹل ہے میں بولنے لگی تو یہی تم نے کہہ دیا، ’’بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘
میں تمہارا منہ دیکھ رہی تھی۔ کچھ دیر کی شناسائی میں تم نے اپنی زندگی کا سارا بوجھ میرے سامنے ڈھیر کر دیا تھا۔ تمہاری دوہری شخصیت میرے لیے انوکھی تھی۔ تمہارا حسین نخرہ، تمہارا غرور ایک طرف، دوسری طرف خود کو قربان کرنے کی یہ خواہش۔ یہ اس شخص کے لیے پیار کی انتہا تھی۔ پھر تم نے مجھ سے عہد لیا کہ یہ راز کبھی کسی پر نہ کھلے، بالخصوص سموئیل پر۔‘‘
تم نے میری پسینے سے تر ہتھیلیاں چھوڑ دیں پھر شوخی سے قلم اٹھایا اور معاہدے پر دستخط کر دیے۔ مسکراتے ہوئے کاغذ میری طرف بڑھا دیا، گویا کوئی سوداگر خوشی خوشی جائیداد کا سودا طے کر رہا ہو۔
اُس دن ہم نے اپنی ذات کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ایک دوسرے کو ایسے بانٹے جیسے بچے آپس میں چپس بانٹتے ہیں۔
میں تمہارے پیار کے سحر میں گرفتار تھی؛ کبھی نئے کھانوں کی تراکیب، آنے والے مہمان کی تیاری، لیڈیز کلب کی شرارتیں، امریکی کمانڈر کی بیوی کے نخرے، جونیر آفیسرز کی بیگمات کا جائز ناجائز تعریف کرنا۔ وہ طنزیہ قصہ جب وہ اپنے آپ کو یوں پیش کررہی تھی جیسے آسمان سے اتری ہو۔ خواتین کا اس کے آنے کی خبر دے کر ہمیں محتاط ہونے کا اشارہ کرنا اور تمہارا فی البدیع کہہ اٹھنا،
‘’The Commander’s wife, who thinks she shits ice cream.’’
یہ سب معمولی باتیں تھیں۔ یہی ہماری رفاقت کو ایک انوکھے جادو میں ڈھال رہی تھیں، جیسے بچوں کی کہانیوں میں چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے بڑے رشتوں کی بنیاد رکھ دیتی ہیں۔
الوداعی پارٹی میں بھی تمہارا رویہ انوکھا تھا۔ ہم پہلی بار ’واوئز کلب‘ میں ایک بڑا فنکشن اٹینڈ کر رہے تھے۔ میں ذرا گھبرائی ہوئی تھی لیکن تم ہمیشہ کی طرح پُراعتماد اور بےخوف۔
تیسری دنیا کے ممالک میں واویز کلب کے غیرمطبوعہ آداب انوکھے ہوتے ہیں جن میں یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ کون سی بیوی کس قطار میں بیٹھنے کی مجاز ہے،اعلیٰ رتبے والوں کی نشستیں آگے، اور کم رتبے والوں کی پیچھے۔اِدھر بھی شاید اُسی طبقاتی تقسیم کا رواج تھا۔
تم نے اس مضحکہ خیز تفریق کو یکسر مسترد کر دیا۔
’’میں پاکستان میں بھی کسی ایسے پروٹوکول کو نہیں مانتی۔‘‘
میرا ہاتھ تھاما اور جا کر عین سامنے والی دو خالی کرسیوں پر بیٹھ گئیں۔ امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ انسانی برابری کے قائل ہیں لیکن یہ کیا؟ پورا ہال ہمیں ایسی نظروں سے گھورنے لگا جیسے ہم نے کوئی بہت بڑی غلطی کی ہو۔ سرگوشیاں تیز ہونے لگیں، تو تم نے اُن عورتوں کی طرف مڑ کر دیکھا جن کے چہروں پر بے چینی موجود تھی۔
تم نے نہایت سکون سے کہا:
“Officers may be ranked, but their wives aren’t—they’re all guests and equals. So I can sit wherever I please.”
سب نے منہ موڑ لیا۔ کچھ دیر کے توقف کے بعد مجھے مخاطب ہو کر کہا،
“Let’s ditch this place and get a cocktail at a real club.”
جاتے جاتے تم نے خالی سٹیج کو درمیانی انگلی سیدھی رکھ کر سیلوٹ بھی کیا۔
“Alas, the wives’ club wasn’t literal; had it been, I might have happily clubbed a few of them myself.”
پاکستان آ کر ہماری پوسٹنگ سرگودھا میں ہوئی۔ چھوٹا سا شہر اور تنہائی۔
پاکستان ڈے کی تقریب پر ایف سولہ کی پہلی بار رونمائی ہونا تھی۔ جنید اور سموئیل اس دن کی تیاری میں مصروف تھے۔
22 مارچ کی رات میں ہسپتال کے لیبر روم میں پہنچ گئی۔ لاکھ سمجھایا کہ اس تقریب کو کیوں چھوڑ رہی ہو لیکن تم نے میرے ساتھ رہنا زیادہ ضروری جانا۔
میرا بیٹا گود میں تھا جب پریڈ کا آغاز ہوا۔ ہم دونوں ٹی وی پر ہی دیکھ سکتے تھے۔
وہ صبحِ نو بہار تھی۔ اسلام آباد کی فضاؤں میں ملی نغموں کی گونج تھی۔ سبز ہلالی پرچم ہوا میں لہرا رہا تھا، پریڈ گراؤند میں موجود ہر شخص فخر سے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اچانک افق پر ایک چمک نمودار ہوئی اور فولاد کے پروں والے نئے پرندے ہوا کو چیرتے ہوئے نمودار ہوئے۔ انہیں فولادی دلوں کے مالک ملک کے عظیم ہواباز اڑا رہے تھے۔
پاکستانی فضائیہ کے نئے شاہین، ایف سولہ، پہلی بار یومِ پاکستان کی پریڈ میں جلوہ گر ہوئے۔ ان کے انجن کی گرج میں قوم کی امیدوں کی دھڑکن سنائی دیتی تھی۔ ائیر چیف کی نگاہوں میں فخر، عوام کے دلوں میں جوش اور فضاؤں میں ایک اعلان کہ پاکستان اب نئی بلندیوں کی طرف پرواز کرنے والا ہے۔
تم نے اٹھ کر میرا منہ چوم لیا۔ بچہ کسمسایہ تو اسے باہوں میں اٹھا کر ایف سولہ کی طرح اڑانے لگ پڑیں۔
سرگودھا میں ہمارا ساتھ گہرا ہوتا گیا۔ خاوند اپنے کام میں مصروف رہتے۔ افغان وار کی گرمی ہماری مغربی سرحدوں پر شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ روسی و افغانی افواج اکثر پاکستانی بارڈر پر دخل اندازی کی کوشش کرتی تھیں۔ سپر پاور سے مقابلہ اور یہی طیارے سب سے زیادہ کارآمد تھے۔ رفیق حیات وطن کے دفاع پر ہر وقت مستعد اور ہم اپنی تنہائی کے رفیق، ایک دوسرے کا ساتھ نبھاتے چلے گئے۔
جوں جوں میں تمہارے قریب آتی گئی تمہاری شخصیت کے پرت مجھ پر کھلتے گئے۔ تمہاری خودکشی والی بات میرے دل سے نہیں نکلی تھی۔ تمہارا خود کو مار ڈالنے کا خیال میرے لیے سوہانِ روح بن گیا تھا۔ میں ماں تھی، شاید اس وجہ سے۔ ماں نہ بھی ہوتی پھر بھی مجھے یہ مشکل لگتا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ میں جنید کو اس شدت سے نہیں چاہتی جتنی شدت سے تم اپنے خاوند سے محبت کرتی ہو۔
تنہائی کی طویل راتوں میں میں نے پیچیدہ منظرنامے تراشے کہ اگر کبھی مجھے وہ ہولناک خبر دینی پڑی تو کیا ہوگا؟ اگر مجھے کوئی ایسا فون آتا ہے، پھر مجھے سرکاری طور پر تمہارے دروازے تک پہنچایا جاتا ہے تو کیا کرنا چاہیے۔ میں نے خود کو تمہیں بازوؤں میں جکڑ کر روکنے کی کوشش کرتے دیکھا۔ لیکن میں تمہیں ہمیشہ تو پکڑ کر نہیں رکھ سکتی تھی۔
کبھی میں سوچتی کہ تم سے پسٹل چھین لینا چاہیے لیکن کیسے؟ ایک دن ہمت کر کے میں نے اس موضوع کو چھیڑا۔
’’کیا گھر میں اسلحہ کی موجودگی تمہیں خوفزدہ نہیں کرتی؟ اسلحہ اس وقت تک نہیں رکھنا چاہیے جب تک اسے استعمال کرنا نہ آتا ہو۔
چلو فائرنگ رینج پر چلتے ہیں، مشق کرتے ہیں۔ میں بھی چلوں گی۔‘‘
تمہارا جواب ایسا تھا جو برسوں بعد بھی ذہن سے محو نہیں ہوتا: ’’مشق کی ضرورت نہیں، جب واحد ہدف میرے اپنے منہ کے اندر ہے۔‘‘
اور بات وہیں ختم ہو گئی۔
سال ہا سال گذر گئے۔ میرا دوسرا بچہ بھی پیدا ہوا۔ ہماری دوستی اور پیار بڑھتا گیا۔ پوسٹنگز بھی بدلتی رہیں۔ کامرہ ، پشاور اور کبھی کراچی۔
جب ہمارے شوہر تعیناتی پر ہوتے، تو ہم ویک اینڈز کا بیشتر حصہ ایک ساتھ گزارتے—کبھی سب کچھ کرتے ہوئے، کبھی کچھ بھی نہیں۔ فون پر باتوں کا کوئی اختتام نہ ہوتا۔ ہم ہر موضوع پر بات کرتے مگر میں جانتی تھی کہ تمہارے دل میں کئی راز دفن تھے۔ تم نے ایک بار کہا تھا کہ راز وہی ہوتا ہے جسے صرف ایک شخص جانتا ہو۔ میں تمہاری ہر بات، ہر کہانی، ہر چھوٹی بڑی دانائی کو دل میں سمیٹ لیتی تھی۔ مجھے سب سے بڑھ کر اس آزادی سے پیار تھا جو میں تمہیں قریب پا کر محسوس کرتی۔
مجھے ان سردیوں کی وہ ساحلی دوپہر یاد ہے جب ہم سارا دن ریت میں کھیلتے رہے۔ بچے دوڑنے بھاگنے کے قابل ہو گئے تھے اور ہم ان سے لا پرواہ۔
شام کو گھر لوٹ آئے۔ بچے تھک کر سو گئے۔ میں بچوں کے ساتھ لیٹ گئی۔ تھوڑی دیر میں ہی نیند نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔
فون کی گھنٹی نے مجھے چونکا کر جگا دیا۔ نیم خوابیدہ لہجے میں ’ہیلو‘ کہا، مگر دوسری طرف صرف ڈائل ٹون سنائی دی۔ میں دوبارہ سونا چاہتی تھی کہ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔
میں آہستگی سے بستر سے اتری اور نرم قدموں کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھی۔ گھنٹی دوبارہ بجی—اس بار کچھ زیادہ دیر تک۔ میں نے جھنجھلا کر دروازہ کھولا—اور سامنے وہ منظر تھا جس نے میرے وجود کی بنیادیں ہلا دیں۔ سڑک پر دو سیاہ سرکاری گاڑیاں کھڑی تھیں، جن پر فضائیہ کے نشان چمک رہے تھے اور میرے دروازے پر وردی پوش سنجیدہ چہرے والے افسران قطار میں کھڑے دکھائی دئیے۔ ایک لمحے میں سب کچھ واضح ہو گیا۔
فون کال،
یہ گاڑیاں،
یہ وردیاں
میرے گھٹنے لرز گئے۔ میں نے دروازے کے پٹ کو تھام لیا۔
مجھے تمہیں بتانا تھا کہ سموئیل اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
میں نے آنسو ضبط کیے، گہری سانس لی اور خود کو سنبھالا۔
’’میرے بچے سو رہے ہیں۔ ان کا کیا ہوگا؟‘‘ میں نے آفیسرز سے سوال کیا۔
ایک آفیسر نے ساتھ کھڑی خاتون کی طرف اشارہ کیا۔ ’’ڈاکٹرفائزہ! بچوں کی ماہرِ نفسیات۔‘‘
میں نے سر ہلایا، خود کو مضبوط کیا: زبان کھولنے ہی والی تھی کہ افسران آہستہ آہستہ ایک طرف ہٹ گئے___
اور تب میں نے تمہیں دیکھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں