اگر عالمی سطح پر کسی مذہب کے بارے میں سب سے زیادہ مغالطے پھیلائے گئے ہیں تو وہ اسلام ہے۔ ایک طرف اسے شدت پسندی، جبر اور تلوار کے ساتھ جوڑ دیا گیا اور دوسری طرف خود مسلمانوں نے بھی اپنی عملی کمزوریوں کے باعث اس تاثر کو کہیں نہ کہیں تقویت دی۔اسلام میں مذہبی آزادی۔۔۔ یہ بحث نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں، سیاسی ترجیحات اور سماجی انصاف کے معیار کا امتحان بھی ہے۔اسلام کا پیغام یہ ہے کہ ہدایت ایک شعوری انتخاب ہے، کوئی زبردستی مسلط کی جانے والی شے نہیں۔ قرآنِ مجید کا واضح اعلان “لا إكراه في الدين” (دین میں کوئی جبر نہیں) محض ایک آیت نہیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام کی بنیاد ہے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب مسلمان سیاسی و عسکری قوت حاصل کر چکے تھے، یعنی اگر کہیں جبر کا امکان ہوتا تو وہ اسی وقت ہوتا، مگر اسلام نے اصولی طور پر اس کی نفی کر دی۔ یہاں سے ایک اہم نکتہ جنم لیتا ہےکہ اسلام طاقت کے باوجود جبر کا قائل نہیں، بلکہ اختیار کے ساتھ ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ اگر اسلام واقعی مذہبی آزادی کا علمبردار ہے تو پھر تاریخ اور موجودہ دور میں ایسے واقعات کیوں ملتے ہیں جہاں اس کے برعکس طرزِ عمل دیکھنے کو ملتا ہے؟ اس سوال سے نظریں چرانا خود فریبی کے مترادف ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام بطورِ دین اور مسلمانوں کا بطورِ معاشرہ رویہ، دو الگ چیزیں ہیں۔ اسلام نے جو اصول دیے۔۔۔ کیا ہم نے انہیں اپنایا؟ نبی کریم ﷺ کی سیرت اس معاملے میں سب سے بڑی دلیل ہے۔ مدینہ کی ریاست ایک کثیرالمذاہب معاشرہ تھی، جہاں یہودی، عیسائی اور دیگر قبائل موجود تھے۔ میثاقِ مدینہ محض ایک سیاسی معاہدہ نہیں بلکہ مذہبی آزادی کا عملی نمونہ تھا۔ اس میں ہر گروہ کو اپنے مذہب پر عمل کی مکمل آزادی دی گئی اور کسی پر اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ اگر اسلام کا مقصد جبر کے ذریعے پھیلاؤ ہوتا تو مدینہ اس کا سب سے پہلا میدان ہوتا مگر ایسا نہیں ہوا۔یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے موجودہ حالات کا تنقیدی جائزہ لینا ہوگا۔ آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مذہب کو شناخت کی سیاست کا ہتھیار بنا دیا گیا ہے۔ ہم اپنے مخالف کو قائل کرنے کے بجائے اسے خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم دلیل کے بجائے طاقت کو ترجیح دیتے ہیں اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے کچل دینا چاہتے ہیں۔ کیا یہ وہی اسلام ہے جس نے “تمہارے لیے تمہارا دین، میرے لیے میرا دین” کا درس دیا تھا؟
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہےکہ مغربی دنیا کی جانب سے اسلام پر لگائے جانے والے الزامات میں یہ کہنا کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا، تاریخ کی سادہ لوحی یا دانستہ تحریف ہے۔ اگر تلوار ہی سب کچھ ہوتی تو برصغیر میں اسلام کیسے پھیلتا، جہاں مسلمانوں کی حکومت آنے سے پہلے ہی لاکھوں لوگ اسلام قبول کر چکے تھے؟ یہاں صوفیاء کا کردار، ان کا اخلاق، ان کی رواداری اور ان کی انسان دوستی اصل محرک تھی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کی اصل طاقت اس کی اخلاقی کشش ہے، نہ کہ عسکری قوت۔مگر ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ آج ہم خود اپنے عمل سے اسلام کی اس خوبصورتی کو دھندلا رہے ہیں۔ جب کسی معاشرے میں اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوں، جب کسی کے عقیدے کو اس کی کمزوری بنا دیا جائے، جب اختلاف کو جرم سمجھا جائے، تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا ہم واقعی اسلام کے نمائندے ہیں یا محض اس کے نام کے دعویدار؟
یہاں اصلاح کی ضرورت ہے اور وہ بھی محض بیانات کی حد تک نہیں بلکہ عملی سطح پر۔ سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مذہبی آزادی کا مطلب لامذہبیت نہیں بلکہ شعوری انتخاب ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہیں مگر دوسروں کے حق کو بھی تسلیم کریں۔ یہ ایک مشکل مگر ضروری توازن ہے۔دوسری بات، ہمیں اپنی مذہبی تعلیمات کو ازسرِ نو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے دین کو یا تو محض رسومات تک محدود کر دیا ہے یا اسے ایک سیاسی نعرہ بنا دیا ہے۔ حالانکہ اسلام ایک اخلاقی نظام ہے جو انسان کو بہتر انسان بننے کی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہم اس بنیادی مقصد کو نظر انداز کر دیں تو پھر مذہبی آزادی جیسے اصول محض کتابی باتیں بن کر رہ جاتے ہیں۔تیسری اور شاید سب سے اہم بات، ہمیں اپنے رویوں میں برداشت اور مکالمے کو فروغ دینا ہوگا۔ اختلاف کوئی جرم نہیں بلکہ فکری ترقی کا ذریعہ ہے۔ اگر ہم ہر مختلف آواز کو دبانے کی کوشش کریں گے تو نہ صرف ہم خود جمود کا شکار ہو جائیں گے بلکہ اسلام کی اس روشن تصویر کو بھی نقصان پہنچائیں گے جو دنیا کے سامنے پیش کی جانی چاہیے۔
ہمیں اس بیانیے کو چیلنج کرنا ہوگا جو اسلام کو شدت پسندی کے ساتھ جوڑتا ہے۔ مگر یہ چیلنج محض جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ عملی مثالوں سے دیا جا سکتا ہے۔ جب ہم اپنے معاشروں میں انصاف، مساوات اور آزادی کو یقینی بنائیں گے تو دنیا خود بخود دیکھے گی کہ اسلام کیا ہے۔ اسلام میں مذہبی آزادی کوئی کمزوری نہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہ انسان کو سوچنے، سمجھنے اور خود فیصلہ کرنے کا حق دیتا ہے۔ مگر یہ حق ایک ذمہ داری بھی ہے۔۔۔اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔اگر ہم واقعی اسلام کے نمائندے بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اس اصول کو نہ صرف سمجھنا ہوگا بلکہ اپنی زندگیوں میں نافذ بھی کرنا ہوگا۔ ورنہ ہم صرف ایک ایسے دعوے دار رہ جائیں گے جن کے الفاظ اور اعمال میں زمین آسمان کا فرق ہوگا۔وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنے رویوں کا جائزہ لیں اور اس اسلام کو دوبارہ زندہ کریں جو جبر نہیں بلکہ اختیار، نفرت نہیں بلکہ رحمت اور تنگ نظری نہیں بلکہ وسعتِ قلب کا درس دیتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف ہمیں دنیا میں عزت دلائے گا بلکہ آخرت میں بھی سرخرو کرے گا۔


