وینزویلا کے سینما کی عمر یوں تو سو سال سے زائد ہے مگر یہ 1999 تک رینگتا ہی رہا ـ ساٹھ کی دہائی میں ارجنٹینا کے فلم سازوں نے “تیسرا سینما” کی بنیاد رکھی جس میں برازیل کا “نووا سینما” اور کیوبا کا “انقلابی سینما” بھی شامل ہوگیا ـ تیسرا سینما امریکا (پہلا سینما) اور یورپ (دوسرا سینما) کے خلاف ایک مزاحمتی تحریک تھی ـ وینزویلا کے فلم سازوں نے بھی اس تحریک کا حصہ بننے کی کوشش کی مگر وہ امریکی سینما کے غلبے کو ختم کرنے میں ناکام رہے ـ
وینزویلا کے سینما کا انقلابی موڑ ہوگو شاویز (1999) کی آمد ہے ـ شاویز نے فلمی ادارہ قائم کرکے فلم سازی کی صنعت کو ریاستی سرپرستی میں لے کر فنڈز مختص کیے ـ ان کے دور میں فلم سازوں کو وسیع ریاستی حمایت ملی جس نے وینزویلا کے سینما کو بے تحاشا ترقی دی ـ
شاویز نے فلم سازوں پر زور دیا کہ وہ استعماریت اور سرمایہ داریت مخالف، لاطینی امریکی اتحاد اور کسان و مزدوروں کی حالت اور ان کی جدوجہد کو مرکزیت دیں ـ شاویز کے سیاسی بیانیے نے “بولیوارین سینما” کو جنم دیا جو اگلے پندرہ سالوں تک برقرار رہا ـ سیمون بولیوار 19ویں صدی کے ایک سامراج مخالف مفکر اور جہدکار تھے جنہوں نے لاطینی امریکہ کی آزادی کی تحریک چلائی ـ شاویز نے بولیوار کو لاطینی امریکن ہیرو قرار دے کر انہیں ایک سامراج مخالف سوشلسٹ کے طور پر پیش کیا ـ یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو ہوگو شاویز نے بولیوار کو تاریخ سے نکال کر ایک زندہ حقیقت بنا دیا ـ وینزویلا کے فلم سازوں نے ویژول کی صورت انہیں عوامی اذہان تک پہنچا دیا ـ
اسی دوران بولیوار کی زندگی پر ایک شان دار فلم “The liberator” بھی بنائی گئی ـ یہ فلم آسکر تک پہنچی مگر …….. ـ بولیوارین سینما کو امریکی ناقدین ایک پروپیگنڈہ سینما قرار دیتے ہیں ـ میری طالب علمانہ رائے میں ہر فلم پروپیگنڈہ ہوتی ہے اس لیے بولیوارین سینما کو پروپیگنڈہ قرار دینا محض بددیانتی ہے ـ یہ درست ہے کہ اس سینما کو ریاستی پشت پناہی حاصل تھی اور بڑی حد تک ریاستی مداخلت کے باعث اس کی آزادی بھی متاثر رہی مگر اس سینما نے عام لوکیشن، غیر پیشہ ور اداکاروں کے استعمال اور عوام کو ہیرو بنانے کا جو تصور دیا وہ امریکا کے دیوہیکل کارپوریٹ سینما کے مقابلے میں زیادہ عوامی جمالیات رکھتا تھا ـ
ہوگو شاویز کے بعد نکولس مادورو نے اس سلسلے کو آگے بڑھانے کی سرتوڑ کوشش کی مگر وہ شدید امریکی دباؤ اور اندرونی تضادات کے باعث ناکام رہے ـ بدترین معاشی حالات کے باعث فلموں کی فنڈنگ کم سے کم ہوتی گئی، فلم سازوں کی بڑی تعداد ہجرت کر گئی، سینما ویران ہوگئے جس کے نتیجے میں بولیوارین سینما کی چمک دمک ماند پڑ گئی ـ پھر بھی 1999 سے 2015 تک اس سینما نے دنیا کو شان دار مزاحمتی فلمیں دی ہیں جو انسانیت کا عظیم ثقافتی ورثہ ہیں ـ


