محبت کے بندھن میں تشدد کی وحشت/عامر عباس ایڈووکیٹ

شبنم کے آنسوؤں کی نمی ابھی چمک رہی تھی جب وہ ایک بار پھر خوابوں کے اس محل میں داخل ہوئی جہاں محبت کے پھول کھلنے تھے لیکن ہر قدم پر خار بچھے تھے۔ اس کی آنکھوں میں امیدوں کی چمک اور ہتھیلیوں پر مہندی کا رنگ تھا مگر قسمت نے اس کے نصیب کی تختی پر وہ الفاظ لکھ دیے تھے جو نہ محبت کے تھے، نہ رفاقت کے۔ وہ لمحہ جب اعتماد، عزت اور محبت کے نام پر اس کی روح کو زخم دیے گئے، وقت کے دامن پر ایک داغ بن گیا۔ ایسا داغ جو کبھی مٹتا نہیں۔

ہمارے معاشرے میں شادی کو رباطِ مقدس (مقدس بندھن) مانا جاتا ہے۔ بیوی کو محبت، عزت اور حفاظت کا حق حاصل ہوتا ہے مگر افسوس کہ بعض مرد اس بندھن کو اپنی طاقت آزمانے اور عورت کی روح روندنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ وہ ہم بستری جیسے پاکیزہ عمل کو تشدد اور گالم گلوچ کی بھٹی میں جھونک کر بیوی کی عزتِ نفس کو پاؤں تلے کچل دیتے ہیں۔

یہ محض ایک معاشرتی مسئلہ نہیں، یہ ایک گہری اور سنگین نفسیاتی بیماری ہے جسے ماہرین “سڈیوسزم” (Sadism) کہتے ہیں۔ جب یہ بیماری جنسی تعلقات کے دوران نمودار ہو تو اسے “سیکسول سڈیوسزم ڈس آرڈر” (Sexual Sadism Disorder) کا نام دیا جاتا ہے۔ تحقیق کہتی ہے کہ ایسے مریضوں کو دوسروں کو تکلیف پہنچا کر جنسی تسکین ملتی ہے۔ یہ لوگ جسمانی مارپیٹ، گالی گلوچ یا تذلیل کو اپنے لطف کا حصہ بنا لیتے ہیں۔

امریکن سائیکاٹری ایسوسی ایشن کے مطابق جب کوئی انسان کم از کم چھ ماہ تک مسلسل دوسروں کو اذیت دے کر خوشی محسوس کرے یا جب یہ رویہ کسی دوسرے فرد کی جسمانی یا جذباتی تکلیف کا سبب بنے تو یہ “سڈیوسسٹک ڈس آرڈر” کے زمرے میں آتا ہے۔

بدقسمتی سے اکثر مظلوم عورتیں اس اذیت کو “ازدواجی حق” سمجھ کر خاموشی سے سہتی رہتی ہیں کیونکہ معاشرتی اقدار انہیں بولنے سے روکتی ہیں اور شرم کے تالے ان کے لبوں پر لگے رہتے ہیں۔

ذرا تصور کیجیے کہ ایک نازک سی لڑکی جو اپنے شوہر کی بانہوں میں سکون تلاش کرنے آئی ہو اسے الفاظ کے کوڑوں، ہاتھوں کے تھپڑوں اور غیر انسانی رویوں کا سامنا ہو۔ وہ لمحہ جب ایک عورت اپنی زندگی کے سب سے مقدس رشتے میں بھی محفوظ نہ رہے، اس کے اندر کی دنیا مسمار ہو جاتی ہے۔ کتنی بےبسی ہے کہ وہ اپنی چیخیں اندر ہی اندر گھونٹتی ہے اور ہر رات اپنی زخمی روح کی لاش لیے سوتی ہے۔

یہ اذیت صرف جسم تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ اس کی خود اعتمادی، ذہنی سکون حتیٰ کہ اس کے جینے کے جذبے کو بھی چھین لیتی ہے۔ ایسے ظالم مردوں کے لیے ازدواجی زندگی محبت کی پرچھائیں نہیں بلکہ تسلط اور تشدد کا میدان ہوتی ہے۔ سائیکالوجی ریسرچ کے مطابق سڈیوسٹک رویہ رکھنے والے اکثر افراد بچپن میں خود جسمانی یا جذباتی بدسلوکی کا شکار رہے ہوتے ہیں۔ ان کے اندر طاقت کا خبط جنم لیتا ہے۔ دوسروں کو کمزور دیکھ کر اپنی برتری محسوس کرنا ان کی نفسیاتی خوراک بن جاتی ہے۔

لیکن یاد رکھیے سڈیوسزم ایک قابلِ علاج بیماری ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق کاؤنسلنگ، سائیکو تھراپی اور بعض اوقات ادویات کے ذریعے ایسے افراد کا علاج ممکن ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں نہ تو بیویوں کو شکایت کا حق دیا جاتا ہے اور نہ ہی ایسے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ اکثر عورتوں کو نصیحت دی جاتی ہے کہ “خاموشی سے سہہ لو”، “شاید وقت کے ساتھ بہتر ہو جائے”۔ مگر ظلم سہنا نہ تو محبت ہے نہ عبادت۔ یہ صرف اور صرف ظلم کی ترویج ہے۔

سوال یہ نہیں کہ عورت کیوں سہتی ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ یہ سب جانتے بوجھتے معاشرہ کیوں خاموش ہے؟ کیوں ایسے درندے کے سامنے اپنی بہن بیٹی کو ڈال کر ہر تھپڑ، ہر گالی اور ہر اذیت کے بعد عورت کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے؟ کیوں ظالم کو روکنے کی بجائے مظلوم کو صبر سکھایا جاتا ہے؟

یاد رکھیے رشتہ وہی خوبصورت ہوتا ہے جس میں عزت اور محبت کا پانی بہتا رہے۔ جہاں رفاقت کے پھول پر تشدد کی دھوپ پڑے وہاں محبت مر جاتی ہے۔ محبت کا مطلب یہ نہیں کہ جسم کے زخموں پر بھی خاموشی اختیار کی جائے اور روح کی چیخوں کو دبا لیا جائے۔ محبت وہ ہے جس میں عزت ہو، نرمی ہو اور ایک دوسرے کے درد کا احساس ہو۔ جس رشتے میں تکلیف ہو وہاں محبت نہیں، صرف وحشت ہوتی ہے اور وحشت کو محبت کا نام دینا سب سے بڑا ظلم ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں