انسان کی بڑی غلطیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے سمجھا کہ اس نے زمین کو مسخر کرنا ہے حالانکہ یہ اسکے پاس خدا کی طرف سے دی گئی امانت تھی۔
وہ اس پر اُترا تو آباد کرنے کے لیے تھا، مگر رفتہ رفتہ اس کے قدموں کی چاپ میں ایک ایسا نشہ اتر آیا جس نے اسے زمین کا محافظ نہیں، زمین کا مالک اور لٹیرا بنا دیا۔
اس نے زمین کے وسائل کو ایک بے وقوفانہ حماقت کے ساتھ نچوڑنا شروع کیا، جیسے اس نے اس پر ہمیشہ کے لئے رہنا ہو۔
قبضہ ، کنٹرول اور استحصال اس قدر غالب آیا کہ انسان اپنی طاقت کی حد بھی بھول گیا اور زمین کا حق بھی
اور اپنی اس زمہ داری کو بھی جو اسے زمین سے متعلق سونپی گئی تھی.
اس لوٹ کا ایک بڑا محرک وہ وحشی سرمایہ داری بھی ہے جو انسان کی ضرورتوں کو مصنوعی خواہشوں میں بدل دیتی ہے۔ یہ نظام انسان کے اندر ایک مسلسل بھوک پیدا کرتا ہے—ایسی بھوک جس کی پیاس نہ خریداری سے بجھتی ہے نہ ملکیت سے۔ بازاروں میں فالتو سامان بھر جاتا ہے، ایسی چیزیں عام ہو جاتی ہیں جو زندگی کی حقیقی ضرورت نہیں ہوتیں، مگر انہیں ضرورت بنا کر بیچا جاتا ہے۔ پیداوار کی مشین بے روح اور بے توقف چلتی رہتی ہے، اور وہ سب کچھ کھاتی جاتی ہے جو راستے میں آئے—یہ پرکھے بغیر کہ کون سی چیز زندگی بڑھاتی ہے اور کون سی چیز زندگی کو مارتی ہے۔ یوں دنیا ایک ایسی ورکشاپ بن جاتی ہے جو چل تو رہی ہے مگر معنی سے خالی ہے
اور زمین ایسی سواری بن جاتی ہے جسے انسان اپنے ہی ہاتھوں موت کی طرف ہانک رہا ہے، حالانکہ اسے زمین کی تعمیر کے لیے بھیجا گیا تھا نا کہ تباہی کے لیے۔
جب انسان نے زمین کے ساتھ یہ بے وفائی کی تو توازن ٹوٹنے لگا۔ زندگی کے چکر میں خلل پڑ گیا۔ فصلوں کے اوقات بے ترتیب ہونے لگے، موسموں کی پہچان دھندلانے لگی، بارشوں کے نظام میں اضطراب اتر آیا، اور وہ قدیم برفیں پگھلنے لگیں جو موسمی توازن کی نگہبان تھیں۔ صحرا پھیلنے لگا، زمین کے کئی حصے ویرانی کی طرف بڑھنے لگے
اور یہ ویرانی صرف مٹی کی نہیں، دلوں کے اندر اُترنے والے خوف کی بھی ہے۔
یہ سب کچھ زمین کے اُس رونے کی کہانی سناتا ہے جو عطا میں ماں جیسی ہے۔ وہی زمین جو انسان کو زندگی دیتی ہے، حرارت بخشتی ہے، پانی اور پھل عطا کرتی ہے؛ مگر انسان ناشکری میں ڈوبا ہوا اسے مسلسل نچوڑتا اور بار بار پامال کرتا رہتا ہے۔ آج زمین اس لیے رو رہی ہے کہ وہ اپنے ہی بچوں کی بے مہار دست درازی سے گھٹنے لگی ہے۔ وہ سانس لینے سے قاصر ہوتی جا رہی ہے؛ اس کے آلودہ دریا اپنی مٹھاس کھو رہے ہیں، اس کے جنگل راکھ میں بدل رہے ہیں، اور اس کے سمندر اُن مخلوقات کی قبریں بنتے جا رہے ہیں جو کبھی زندگی سے لبریز تھیں۔ زمین اس لیے بھی رو رہی ہے کہ جس انسان نے اس کی کوکھ سے جنم لیا تھا، وہ اب اس کی فریاد سننے کے قابل نہیں رہا
اور وہ اس لمحے بھی رو پڑتی ہے جب اپنے بچوں کو اسے توڑتے، روندتے اور مٹاتے دیکھتی ہے، اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اس کی بربادی پر اپنا عروج تعمیر کر رہے ہیں۔ زمین کی یہ گہری کراہ الفاظ کی محتاج نہیں؛ دل اگر ذرا ٹھہر کر سن لے تو اس کے اندر چھپے ہوئے غم کو محسوس کر سکتا ہے۔
جدید رپورٹس کے مطابق جنگلات کرۂ ارض کی خشکی کے بہت بڑے حصے پر پھیلے ہوئے ہیں، مگر سبز غلاف کی تباہی اب بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ ہر سال وسیع رقبے پر جنگلات ختم ہو جاتے ہیں، اور حالیہ برسوں میں بعض اندازوں کے مطابق یہ نقصان ایک مقررہ عالمی ہدف سے بھی آگے نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ جنگلات بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، مگر ان کا جلنا اور اجڑنا توازن کو تہہ و بالا کر دیتا ہے؛ یوں وہ “پھیپھڑے” رہنے کے بجائے اخراج کا سبب بن جاتے ہیں، اور زمین اپنی ہی بھاری سانسوں میں گھٹنے لگتی ہے۔ مزید یہ کہ بعض علاقوں میں سبز غلاف کی ایسی مستقل تبدیلیاں ہو چکی ہیں جو خودبخود واپسی کی راہ بند کر دیتی ہیں؛ اور خاص طور پر استوائی جنگلات کے بارے میں بار بار یہ اندیشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ نقطۂ بے بازگشت کے قریب جا رہے ہیں—وہ مقام جہاں سے واپسی محض دشوار نہیں بلکہ ناممکن ہو جاتی ہے۔
اسی پس منظر میں جب یہ کہا گیا کہ “عالمی حدت کا دور ختم، عالمی اُبال کا زمانہ شروع ہو چکا ہے ”، تو اس کا مفہوم یہی ہے کہ ہم محض درجۂ حرارت کے بتدریج اضافے میں نہیں جی رہے، بلکہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں خشک سالی، سیلاب، جنگلاتی آگ، اور موسمی بے ترتیبی غیر معمولی تسلسل کے ساتھ نمودار ہو رہی ہیں۔ یہ اُبال صرف موسم تک محدود نہیں رہتا؛ یہ انسانی شعور میں بھی سرایت کر جاتا ہے—فطرت کی آواز سننے کی صلاحیت کمزور پڑتی ہے، اور انسان اس زمین سے اجنبی ہونے لگتا ہے جس نے اسے جنم دیا، جس میں زندگی کا راز ودیعت کیا، اور جس کی گود میں اس نے پہلی بار سانس لیا تھا۔
اور یہ صرف جنگلات کا مسئلہ نہیں۔ حیاتیاتی تنوع کے بارے میں جدید عالمی جائزوں میں بارہا یہ خطرہ بیان ہوا ہے کہ کثیر تعداد میں انواع آئندہ دہائیوں میں معدومی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہیں؛ یہ محض فطرت کی غربت نہیں، انسانی مستقبل کی غربت ہے۔ جب انواع کے ختم ہونے کی رفتار فطری شرح سے کئی گنا بڑھ جائے، جب قدرتی مسکن تباہ ہوں، جب پرندوں، مچھلیوں اور حشرات کی تعداد گھٹے تو زمین آہستہ آہستہ اپنے رنگوں، اپنی آوازوں اور اپنی زندگی کی علامتوں سے محروم ہونے لگتی ہے۔ یہ نوحہ صرف ماحولیات کا نہیں؛ انسانی ضمیر کی مفلس ہوتی ہوئی حالت کا بھی ہے
کیونکہ اگر زمین خاموشی سے مرتی رہی تو انسان بھی اسی خاموشی میں اپنا معنی کھو دے گا۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ زمین رو رہی ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ انسان کے اندر کی انسانیت جاگ رہی ہے یا نہیں۔ جنگل بچانا محض سبزہ بچانا نہیں؛ یہ اپنے اندر کے لالچ کو قابو میں رکھنا ہے۔
معدوم ہوتی انواع پر ماتم محض جانوروں پر نہیں؛ یہ اپنے ضمیر کی صحت پر سوال ہے۔ اگر ہم نے یہ سمجھ لیا کہ زمین ہمارے لیے کوئی کھلا گودام نہیں بلکہ ایک زندہ گھر ہے، تو پہلی توبہ یہی ہو گی کہ ہم ضرورت پر اکتفا کریں اور لالچ سے سبکدوش ہو جائیں
ترقی کو کثرتِ پیداوار سے نکال کر ذمہ داری سمجھیں ؛ اور ایمان/اخلاق کو محض نجی عبادت نہ سمجھیں بلکہ زمین کے ساتھ رحم، احتیاط، کفایت اور عدل کی صورت میں ظاہر کریں۔


