شہر کے سب سے پرانے بازار کی چوتھی دکان کے پچھلے کونے میں، میں نے اسے پہلی بار دیکھا۔ وہ ایک ایسا شخص تھا جس کا چہرہ یا تو بے حد عام تھا، یا اتنا پیچیدہ کہ انسانی آنکھ اسے سمجھ نہ پائے۔ اس کے ہاتھ میں ایک بوسیدہ ڈائری تھی، جس کا ریشے دار کاغذ گہرا زرد ہو چکا تھا۔دکان کے اندر لگے ٹیپ ریکارڈر پر پرانا گانا گونج رہا تھا، جسے سن کر گاہکوں کوپرانے وقتوں کی صداقت کا احساس ہوتا تھا۔ مگر وہ شخص، نہ گانے سے متاثر ہوا اور نہ ہی دکان کی مصنوعی آرائش سے۔
اسے کیوں دیکھ رہے ہو؟۔ اس نے مجھ سے پوچھا۔ اس کی آواز ایسی تھی جیسے کسی پرانے ریکارڈ کو سست رفتار پر چلایا جا رہا ہو۔میں نے حیرت سے پوچھا۔کِس کو؟۔اُس وقت کو جسے تم یہاں ڈھونڈ رہے ہو۔ یہاں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اس دکان میں رکھی ہر چیز اپنی اصل سے زیادہ بہتر ہونے کا دکھاوا کر رہی ہے۔میں نے بغور دیکھا۔ سامنے ایک پرانی گھڑی تھی جس پر “1930 Original” کا لیبل لگا تھا۔
تمہیں کیسے معلوم؟۔ میں نے سرگوشی میں پوچھا۔اس نے ایک پھیکی مسکراہٹ دی۔ میں جانتا ہوں کیونکہ میں نے وہ سب کچھ دیکھا ہے جب یہ دکان اصلی تھی۔ اس زمانے میں لوگ اشیاء کو صرف استعمال کرتے تھے۔ آج کل لوگ اشیاء کو صرف Exhibit کرتے ہیں، تاکہ دوسرے اسے دیکھ کر اپنی یادوں میں ایک جھوٹی صداقت تلاش کر سکیں۔
ہم دونوں ایک ڈائری پر جھک گئے۔ اس کے پہلے صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا۔حقیقت صرف وہ ہے جسے کوئی دوسرا تسلیم کر لے۔یہ کیا ہے؟۔ میں نے پوچھا۔یہ وہ اصول ہے جس پر یہ نیا عہد چل رہا ہے۔ اس نے سگریٹ سلگایا۔ تم نے دیکھا؟ اس شہر کے لوگ اب اپنی زندگی کی کہانیاں خود نہیں لکھتے، وہ اپنے کرداروں کو Social Media پر چلنے دیتے ہیں۔ لوگ صرف وہ چیز خریدتے ہیں جو انہیں یہ یقین دلا سکے کہ وہ کچھ خاص ہیں۔ حالانکہ وہ ایک ہی Mass-produced Myth کا حصہ ہیں۔
کچھ دیر بعد، دکان میں ایک نوجوان جوڑا داخل ہوا۔ لڑکی نے فوراً ایک پرانا کیمرہ اٹھایا، اسے اپنے چہرے کے قریب لائی۔ مگر شٹر دبانے کے بجائے، اس نے اپنے فون سے کیمرے کی تصویر کھینچی۔دیکھا؟۔ رند نے دھواں خارج کرتے ہوئے کہا۔ وہ کیمرے سے تصویر نہیں بنا رہی۔ وہ کیمرے کے Icon سے ایک Image بنا رہی ہے۔ اصل کیمرہ تو بس ایک Prompt ہے۔میں نے سر ہلایا۔ اس کی باتیں مجھے ڈائری کے اس پہلے جملے کی طرح لگ رہی تھیں۔ جتنا پڑھو، اتنا ہی اپنا وجود مشکوک لگنے لگے۔کیا تم واقعی یہاں کے ہو؟۔ میں نے اس کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا۔وہ ڈائری کے صفحے پلٹنے لگا۔میں تو کئی زمانوں کا ہوں۔ پچھلی صدی میں میں اس دکان کا مالک تھا۔ اس سے پہلے، میں وہ سڑک تھا جس پر یہ دکان بنی ہے۔ اور اس سے بھی پہلے۔۔۔’ وہ رکا’۔۔۔ میں صرف ایک خیال تھا۔
تمہیں کیا چاہیے۔ میں نے پوچھا، اب مجھے اس کی حقیقت پر شک نہیں تھا، بلکہ اپنی حقیقت پر تھا۔مجھے وہ آخری چیز چاہیے جو اب بھی Original ہے۔’ اس نے ڈائری میرے سامنے کھول دی۔ اندر کے تمام صفحات خالی تھے۔ اور مجھے شک ہے کہ وہ تم ہو۔میں نے ایک گہرا سانس لیا۔میں؟۔ میں کیسے کوئی اصل چیز ہو سکتا ہوں جبکہ میں بھی یہاں ایک گاہک بن کر آیا تھا، جو پرانے پن کی تلاش میں تھا؟۔اس نے میرے ہاتھ سے وہ خالی ڈائری لے لی اور اچانک اسے پھاڑ کر زمین پر پھینک دیا۔ اس نے اپنے جوتے سے اس کے ٹکڑوں کو کچلا۔تمہاری یہ بات، یہی وہ آخری سچ تھا کہ تم بھی Inauthentic ہو! تم نے اپنی سچائی کا اعتراف کر لیا۔ اب یہ پوری مارکیٹ مکمل ہو چکی ہے۔
جیسے ہی اس نے یہ کہا، دکان کی ساری روشنیاں دھیرے دھیرے مدھم ہونے لگیں۔ گانا رک گیا۔ اور باہر شور مچانے والے ہجوم کی آواز ایک گہری خاموشی میں تبدیل ہو گئی۔ نوجوان جوڑا، جو ابھی کیمرے کے ساتھ تصویریں لے رہا تھا، اب بالکل ساکت کھڑا تھا۔اس نے اب میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ہزاروں سال کی تھکن اور ایک نئی، شیطانی چمک تھی۔
شکریہ۔اس نے کہا اور ہاتھ بڑھا کر دکان کے اندر سے ایک چھوٹا سا آئینہ اٹھایا۔ جب میں نے اس آئینے میں دیکھا تو میں نے اپنے آپ کو نہیں پایا۔ بلکہ اس میں اس کا چہرہ نظر آیا۔اور پھر، اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھ پاتا، آئینے میں نظر آنے والے نے مسکراتے ہوئے اپنے ہاتھ سے اپنا چہرہ کھینچ کر اتار دیا۔ اندر ایک سیاہ، گہرا خلا تھا۔جب اس نے اپنا چہرہ زمین پر گرایا، تو وہ ایک ماسک نہیں تھا، بلکہ میرا اپنا چہرہ تھا۔اس نے خالی جگہ پر ہاتھ پھیرا اور کہا۔اب تم وہ ہو جو تم ہمیشہ سے چاہتے تھے۔ ایک خالی سائن۔ ہر چیز کی علامت، مگر خود کچھ نہیں۔ جاؤ، اور اس بازار میں گھومتے رہو۔
اور اگلے ہی لمحے، میں نے خود کو وہاں کھڑے ہوئے نہیں پایا۔ میں اب دکان کے کاؤنٹر پر رکھی ایک پرانی، زنگ آلود چابی تھا۔ ایک ایسی چابی جس کا کوئی دروازہ نہیں تھا، جو کسی بھی تالے میں فٹ ہو سکتی تھی، مگر حقیقت میں کہیں موجود نہیں تھی۔اس چابی پر لکھا تھا۔Original Meaning۔اور دکان کے دروازے پر ایک نیا بورڈ ٹنگا تھا جس پر لکھا تھا۔
آج کی خاص پیشکش: گمشدہ گاہک۔


