انسانی تاریخ میں طاقت کا استعمال ہمیشہ ایک نازک اور اخلاقی امتحان رہا ہے۔ جب طاقت انصاف کی تابعدار ہو تو وہ امن و استحکام کا ذریعہ بنتی ہے، مگر جب طاقت کو استعماری عزائم، ریاستی دہشت گردی اور وسائل پر قبضے کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ انسانیت کے لیے تباہی کا پیغام بن جاتی ہے۔ موجودہ عالمی کرتا منظرنامہ خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں، اسی تلخ حقیقت کی بھیانک تصویر پیش ہے، جہاں مسلم دنیا کے کئی خطے دہائیوں سے امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کا شکار ہیں۔
فلسطین کا مسئلہ اس عالمی ناانصافی کی سب سے کھلی اور شرمناک مثال ہے۔ کئی دہائیوں سے جاری اس تنازعے نے لاکھوں فلسطینیوں کی زندگیوں کو اجیرن کر رکھا ہے۔ صہیونی ریاست اسرائیل، امریکی اسلحے اور مالی مدد سے مزین ہو کر غزہ اور مغربی کنارے میں باقاعدہ نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔ بارہا ہونے والی فوجی کارروائیوں، وحشیانہ محاصروں اور انسانی بحرانوں نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، مگر امریکی ویٹو کی ڈھال نے اس ریاستی دہشت گردی کو بین الاقوامی عدالتوں میں بے نقاب ہونے سے بچائے رکھا۔ امریکہ نہ صرف اس ظلم کا خاموش تماشائی ہے بلکہ ہتھیاروں، انٹیلی جنس اور سفارتی حمایت فراہم کرکے اس جارحیت کا باقاعدہ شریک جرم ہے۔
یہی امریکی استعماری ذہنیت عراق اور افغانستان کی تباہی کا بھی محرک تھی۔ جھوٹے الزامات اور من گھڑت کہانیوں کے بل بوتے پر دو مسلم ممالک پر برسوں قابض رہنے والی اس عالمی طاقت نے لاکھوں بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، ان کے شہر تباہ کیے اور خطے میں دہشت گردی کی ایسی فصل اگائی جس کا سامنا آج پوری دنیا کر رہی ہے۔ یہ کوئی “غلطی” نہیں تھی بلکہ مشرقِ وسطیٰ پر کنٹرول اور اس کے وسائل پر قبضے کی ایک مربوط منصوبہ بندی کا حصہ تھی۔
حالیہ برسوں میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی اسی جارحانہ سوچ کا نتیجہ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی سائنسدانوں کے قتل، مبینہ تخریب کاری اور مسلسل فوجی دھمکیاں بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ اگر ایک خودمختار ریاست کے خلاف بلا اشتعال عسکری کارروائی کی جائے تو یہ نہ صرف عالمی امن کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ پورے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے۔ ایران جیسے اہم ملک کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کا مطلب ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی توانائی کی سپلائی اور اس کا پورا سیاسی توازن خطرے میں ڈال دیا جائے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیاں خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے اسے ہوا دینے کا واحد سبب ہیں۔ یہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری برتری اور سفارتی دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو کمزور کرنے اور انہیں باہمی اختلافات میں الجھائے رکھنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف علاقائی امن کو تاراج کر رہے ہیں بلکہ عالمی نظام میں انصاف، خودارادیت اور برابری کے تصورات کا مذاق بنا رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی اہمیت صرف جغرافیائی نہیں بلکہ اقتصادی بھی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے تیل اور قدرتی وسائل اسی خطے میں موجود ہیں۔ امریکہ کا اصل مقصد ان وسائل پر کنٹرول اور اسرائیل کے لیے ایک محفوظ ماحول کو یقینی بنانا ہے۔ اگر اس خطے میں وسیع پیمانے پر جنگ چھڑ جائے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس “کنٹرولڈ عدم استحکام” کو برقرار رکھنے کی خواہاں ہیں۔
ان تمام حالات کے تناظر میں مسلم دنیا کے سامنے ایک بنیادی اور جانفزا سوال کھڑا ہو جاتا ہے: کیا اب بھی اتحادِ بین المسلمین ممکن نہیں؟
یہ ایک المیہ ہے کہ مسلم دنیا وسائل، آبادی اور جغرافیائی وسعت کے اعتبار سے ایک سپر پاور بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مگر سامراجی طاقتوں کی سازشوں اور اندرونی اختلافات، سیاسی تقسیم اور باہمی عدم اعتماد نے اس عظیم صلاحیت کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمان مسلکی و فرقہ وارانہ اختلافات میں ایک دوسرے سے الجھے ہوئے ہیں جبکہ دشمن کے نزدیک سب مسلمان بغیر شیعہ سنی کی تخصیص کہ انکے دشمن ہیں ، جب تک مسلمان ممالک یہ نہیں سمجھیں گے کہ ان کا اصل دشمن وہ ہے جو فلسطین میں ان کے بھائیوں کا قتل عام کر رہا ہے، جو عراق اور شام میں ان کے گھر تباہ کر رہا ہے، اور وہ باہمی تعاون کو فروغ نہیں دیں گے، وہ عالمی سطح پر ایک مؤثر کردار ادا کرنے سے محروم رہیں گے۔
اتحادِ بین المسلمین کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تمام ممالک اپنی قومی شناخت سے دستبردار ہو جائیں۔ بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مشترکہ چیلنجز جیسے کہ صیہونی جارحیت، سامراجی مداخلت، دہشت گردی، اقتصادی ترقی اور انسانی وقار کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔ اگر مسلم دنیا دفاعی تعاون، توانائی کی منڈی، ٹیکنالوجی اور اقتصادی انضمام کو اپنی ترجیح بنا لے تو وہ نہ صرف اپنے مسائل حل کر سکتی ہے بلکہ امریکی بالادستی کے اس یک قطبی نظام کو بھی چیلنج کر سکتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اتحاد محض جذباتی نعروں سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے بصیرت افروز قیادت، مضبوط اداروں اور باہمی اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم جیسے اداروں کو آج ضرورت ہے کہ وہ استعماری ایجنڈے کے نمائندے بننے کے بجائے، مسلم امہ کی حقیقی ترجمانی کریں اور فلسطین جیسے مرکزی مسئلے پر عملی کردار ادا کریں۔
آج کی دنیا میں طاقت کا حقیقی سرچشمہ صرف عسکری قوت نہیں بلکہ علم، معیشت اور اجتماعی دانش ہے۔ اگر مسلم دنیا اپنے نوجوانوں کی تعلیم، تحقیق اور سائنسی ترقی پر توجہ دے، اور ساتھ ہی ساتھ بیرونی مداخلت کے خلاف سیاسی وحدت قائم رکھے، تو وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتی ہے بلکہ عالمی نظام میں ایک مثبت اور متوازن کردار ادا کر سکتی ہے۔
آخرکار سوال وہی رہ جاتا ہے: کیا اتحادِ بین المسلمین ممکن ہے؟
اس کا جواب حالات میں نہیں بلکہ ہمارے ارادوں میں پوشیدہ ہے۔ اگر مسلمان دنیا بھر میں اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر مشترکہ مستقبل کی تعمیر کا عزم کر لیں، اور یہ جان لیں کہ ان کا مسئلہ ایک ہے اور ان کا دشمن بھی ایک ہے، تو وہ نہ صرف اپنے مسائل کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ دنیا میں انصاف، توازن اور پائیدار امن کے قیام میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ایک منقسم امت ہمیشہ غلام اور کمزور رہی ہے، جبکہ ایک متحد امت ہی عالمی سیاست میں باوقار مقام حاصل کرنے اور اپنے حقوق منوانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے ایک صدی قبل ہی بھانپ لیا تھا کہ مسلم دنیا میں اتحاد و اتفاق کی عدم موجودگی ایک بڑا المیہ ہے، اسی لیے انہوں نےفرمایا تھا کہ،
*ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے*
*نیل کے ساحل کے کر تا بخاک کاشغر*


