رقص/شہناز احد

لب مسکائیں، نظریں جھکیں، جھک کے اُٹھیں، آبرو کھینچیں، بدن خمیدہ ہو، پائل بجے تو اس یکجائی کو بدن کی شاعری کہتے ہیں۔ اور جب بدن کی شاعری الفاظ میں جان ڈال دیتی ہو، ہر لفظ کو منظر میں ڈھال دیتی ہو، کبھی فیض پہن لے، کبھی غالب اُوڑھ لے، کبھی جالب کے گاؤں میں گھنگھرو بجائے تو کبھی فہمیدہ کے شعروں کو اپنے نرت بھاؤ سے زندگی دے، تو اسے رقص کہتے ہیں۔

اس خطے میں رقص، موسیقی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا یہ خطہ۔ رقص عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب خوشی میں تھرکنا یا چکر لگانا ہے۔ فنی طور پر یہ موسیقی یا ردھم کے ساتھ جسمانی حرکات و سکنات کا فن ہے۔ رقص و موسیقی کی تاریخ میں انسانی جسم کی ان حرکات کو بدن کی شاعری کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ قدیم زمانے میں شکار، جنگ اور خوشی کے مواقع پر رائج تھا۔ رقص جسمانی حرکات کی ایک فنی اور جمالیاتی ترتیب ہے جو جذبات کے اظہار، ثقافتی ورثے اور تفریح کا ذریعہ ہے۔ یہ نبض کی حرکت اور جسم کی متوازن جنبش سے پیدا ہوتا ہے۔ رقص نہ صرف ناچنے والے کے لئے تخلیقی اطمینان کا باعث ہوتا ہے بلکہ دیکھنے والوں کے لئے ذوقِ نظر بھی ہوتا ہے۔

برصغیر میں رقص کی جڑیں قدیم مذہبی، روحانی اور ثقافتی روایات میں پیوست ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس فن کی شروعات کم از کم دو ہزار قبل مسیح ہوئی تھی۔ پاکستان یوں تو برصغیر ہی میں ہے لیکن ثقافتی اعتبار سے یہ مختلف ثقافتوں کا ایک گورکھ دھندہ ہے۔ فنونِ لطیفہ کی بہت سی جہتوں کی یہاں جس طرح آبرو ریزی کی گئی ہے وہ فنونِ لطیفہ سے وابستہ لوگ خوب جانتے ہیں۔

اب سے کوئی چھ دہائی قبل کراچی میں رہائش پذیر گھنشام فیملی نے رقص اکیڈمی کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت کی نوجوان نسل میں سے رقص کے شوقین لڑکے لڑکیوں نے اعضاء کے تال میل کا یہ فن سیکھنا شروع کیا لیکن بہت دکھ کی بات ہے کہ چادر چاردیواری اور ایسے ہی جھوٹے سماجی رواج کے نعروں نے نہ صرف اکیڈمی کو تالے لگوا دیے بلکہ گھنشام فیملی کو چوروں کی طرح یہ ملک چھوڑنا پڑا۔

پاکستان میں جو نام آج بھی ٹمٹماتے نظر آتے ہیں اُن میں پروین قاسم، عشرت چوہدری اور مہر رضوی شامل ہیں۔ عشرت کا فن فلموں نے نگل لیا، مہر رضوی شادی کے رشتے میں گم ہو گئیں۔ بعد کے برسوں میں ناہید صدیقی، نگہت چوہدری اور فصیح الرحمن جیسے فنکاروں نے اس فن کو آگے بڑھایا۔

گزشتہ چار دہائیوں سے جو نام سب سے نمایاں ہے وہ ہے شیما کرمانی۔ شیما نے بدن کی شاعری کو بغاوت، سیاست اور مزاحمت کی زبان دی۔ اُنہوں نے رقص کو صرف گھنگھرو اور طبلے کی تال میل نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک سماجی اور سیاسی اظہار بنا دیا۔ لال شہباز قلندر کے مزار پر دھماکے کے بعد، عورتوں پر ظلم اور معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف اُن کا فنکارانہ ردعمل اس بات کا ثبوت ہے۔

چند دن قبل دنیا میں رقص کا عالمی دن منایا گیا۔ دنیا تسلیم کرتی ہے کہ رقص محبت، ہم آہنگی، بھائی چارے، مل جل کر رہنے، حق دینے اور لینے، رواداری اور شانتی سکھاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس دن کے حوالے سے محفلیں سجیں۔ شیما کرمانی اور اُن کے شاگردوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

جالب کا یہ مصرعہ نہ جانے کیوں سوچوں میں دھمال مچائے جا رہا ہے:
رقص زنجیر پہن کے بھی کیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں