مصنوعی ذہانت اور نئی ادبی دنیا/قاسم یعقوب

اے آئی جس تیزی سے مختلف علوم کو اپنے تصرف میں لا رہی ہے، محسوس ہوتا ہے کہ بہت جلد ادبیات کے بہت سے علوم بھی انسانی دسترس سے نکل جائیں گے۔ ان میں سے کچھ شعبے تو بالکل واضح ہیں، جیسے:
1۔ فن ترجمہ نگاری: مصنوعی ذہانت نے ترجمے میں اس قدر مہارت حاصل کر لی ہے کہ کسی اجنبی زبان سے آشنائی کی ضرورت محض ایک ثانوی امر بن کر رہ جائے گی۔ ادبی تراجم کا فن بھی اب اے آئی کے قبضے میں جانے والا ہے۔ یہ شاعری اور فکشن کے ایسے تراجم پیش کرے گی جو متعلقہ ثقافتی سیاق و سباق سے ہم آہنگ ہوں گے اور ایک سے زائد متبادلات فراہم کر سکے گی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں ترجمہ نگاری کا روایتی شعبہ ختم ہو کر رہ جائے گا۔ لہٰذا مترجم حضرات اپنا بندوبست کر لیں۔
2۔ پروف خوانی اور انشا پردازی کے فنون بھی ختم ہو جائیں گے۔ انشا کے ایسے ایسے نمونے مصنوعی ذہانت سے ممکن ہوں گے کہ انسانی محنت اضافی محسوس ہوگی۔ اسی طرح متن کے پروف کاعمل سیکنڈز میں AI سے ممکن ہو سکے گا۔
3۔ تحقیق اور مخطوطہ شناسی: تحقیق اور بالخصوص مخطوطہ شناسی کا فن بھی اے آئی کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا۔ مصنوعی ذہانت علم مخطوطہ شناسی کا ہر سطح پر زیادہ بہتر مطالعہ پیش کرنے کی اہل ہوگی۔ متنی تنقید کو اے آئی سے زیادہ بہتر انسانی ذہن نہیں کر سکے گا۔
4۔مرتبہ اور تالیف شدہ متون: ایڈیٹنگ یا کمپائلیشن کا کام بھی اے آئی زیادہ بہتر انجام دے گی۔ بس اسے بتانے کی ضرورت ہے کہ اس موضوع پر ایسے ایسے مقالات سامنے لاؤ، وہ ہر طرح کا بہترین انتخاب سامنے لے آئے گی۔جس طرح اردو متون آن لائن ہو رہے ہیں ۔ اے آئی متون کو جمع کرکے کتابی شکل میں مواد دینے کی بھی اہل ہو جائے گی۔
5۔ مقالہ نویسی: مقالہ نویسی کے فنی لوازمات جیسے حوالہ جات، حواشی اور کتابیات وغیرہ کا علم بھی اے آئی کے ذریعے ہوا کرے گا۔
6۔ عروض، اوزان اور بحور کا علم بھی اے آئی انسانی ازہان سے زیادہ بہتر طریقے سے بیان کر سکے گی۔
7۔ شرح نگاری: اشعار کی تفہیم اور شرح نگاری کا فن ختم ہو جائے گا ۔ یہ ٹیکنالوجی کسی بھی شعر کے لغوی اور کنائی مفاہیم کو قدیم و جدید ذخیرہ علم سے کشید کر کے اتنی جامعیت سے پیش کرے گی کہ انسانی شارح کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

جس طرح مصنوعی ذہانت مقامی ثقافتوں کو سمجھ رہی ہے، لگتا ہے کہ اگلے چند برسوں ہی میں ادبی دنیا میں ادبیت کے معنی بدل جائیں گے۔لہٰذا جو ادیب ابھی تک ان علوم پر فخر کررہے ہیں۔ وہ ذرا تیار ہو جائیں۔ اگلے چار پانچ برسوں میں ایک نئی دنیا بننے والی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں