شاعر اداس کیوں ہے ؟-ڈاکٹر مختیار ملغانی

ایک پہلو سے کلچر کا مقصد منطقی اور افسانوی شعور کو یکجان کرنا بھی ہے کہ زندگی اور حقیقت کی مکمل تصویر انسان کے سامنے رہے، افسانوی شعور پر تحقیق کا سہرا قدیم یونانیوں کے سر جاتا ہے، بالخصوص سقراط کو اس کا امیر گردانا جا سکتا ہے، دلچسپ بات یہ کہ جمہوریت بھی اسی امیر اور ان کے شاگردوں کی تخلیق ہے، سو جمہوریت کو افسانوی ماننا ہے یا منطقی ، یہ فیصلہ ہر قاری اپنی پسند کے مطابق کر لے ۔
منطقی شعور کو تاریخی شعور کہنا بھی درست ہے کہ تاریخ اور ارتقاء کے دھارے سے گزرتے ہوئے انسان نے جو سیکھا سمجھا ، جو دریافت اور ایجاد کیا، اسی کی بنیاد پر حاصل کئے گئے علوم بہتر زندگی کیلئے اگلی نسلوں کو منتقل کئے جاتے ہیں، جبکہ افسانوی شعور پھر قسمت پہ مرتکز رہتا ہے کہ انسان اپنی قسمت ساتھ لے کر آتا ہے، گویا کہ پیدائش سے پہلے ہی افسانہ لکھا جا چکا تھا، جن علوم کے سیکھنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ سب اسی افسانہ نگار کی دین ہے جس نے افسانہ لکھ چھوڑا ہے ، محتاط چال چلنے والے لوگ بتاتے ہیں کہ حقیقت ان دو کے بین بین ہے ۔
سقراط اور دیگر کا ماننا تھا کہ علم صرف بیدار شخص کو منتقل کیا جانا چاہئے، اور بیدار شخص ان کے نزدیک وہ ہے جو پرکھوں کی یادداشت اپنے اندر رکھتا ہے، وہ یادداشت جس نے کائنات کی پہلی سحر کا مشاہدہ کیا ، جس نے پہلا پھول کھلتا ہوا دیکھا ، لیکن وہ جو ایسے تمام مشاہدات بھول چکے ہیں وہ غافل ہیں اور غافلوں کو علم منتقل کرنا وقت کا ضیاع ہے ۔

تخلیق کائنات کی حکایت یا کائناتی افسانہ (جسے انگریزی میں cosmogonic myth کہا جائے گا) کو روایتی سماج میں بطور علاج استعمال کیا جاتا تھا ، اس افسانے کے سنانے سے مریض شفا پاتے تھے، ان معالجین میں حکماء ، پجاری اور روحانی پیشوا شامل ہوتے یعنی کہ وہ لوگ جو بیدار کہلائے جاتے اور کائناتی یادداشت اپنے شعور میں پالتے ، اس افسانے کے سنانے سے گویا روح کی ہم آہنگی قائم ہو پاتی جس کی ترتیب کے بگڑنے سے بیماری واقع ہوئی تھی۔ تاریخی شعور نے البتہ افسانوی شعور کی بیماریوں سے علاج والی اس رسم کو شکست فاش سے دوچار کیا ۔
شاعر کا کام اسی کائناتی افسانے کو اپنی یادداشت میں نہ صرف محفوظ رکھنا بلکہ اس کی مسلسل تلاوت کرتے رہنا ہے کہ افسانوی شعور مرجھانے نہ پائے، وگرنہ خشک منطقی شعور سے زندگی بے رنگ و بے بو ہوتی جائے گی اور شاعر بنتا ہی وہی ہے جس کی یادداشت میں کائنات کے پہلے طلوع کی روشنی اور پہلے پھول کی خوشبو موجود ہو اور وہ اس کائناتی افسانے کا حافظ ہو۔

یونانی اساطیر میں پاتال کے پانچ دریاؤں میں سے ایک کا نام لیتھی (Lethe) ہے ، لیتھی دریا کے بائیں کنارے سے ان روحوں کو گزارا جاتا ہے جو موت کے بعد اپنی سابقہ زندگی کو بھول جاتی ہیں یعنی دُنیاوی یادداشت سے دستبردار ہو جاتی ہیں ، ایسی روحوں کو غافل کا نام دیا گیا ہے ، ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یونانی محققین ان غافلوں کو علوم منتقل کرنے کے حق میں نہیں تھے، جبکہ شعراء اور فلاسفہ کو اس دریا کے دائیں کنارے سے گزارا جاتا ہے کیونکہ اسی دائیں کنارے کے ساتھ دوسرا دریا mnemosyne بہہ رہا ہے، اس دریا کا نام الہام کی دیوی کے نام پر ہے، گویا کہ شعراء اور فلاسفہ اسی دریا کے پانی اور اسی دیوی کی وجہ سے نہ صرف اپنی یادداشت برقرار رکھتے ہیں بلکہ الہام اور پیشن گوئی سے بھی سرشار ہوتے ہیں ، اسی بنیاد پر کسی فرانسیسی فلسفی کا کہنا تھا کہ شعراء پیدائش سے قبل کی یادداشت کے ساتھ ساتھ موت کے بعد کے احوال کے بھی امین ہوتے ہیں ، فرشتوں سے بھی یاری ہے گویا اور مردوں سے بھی علیک سلیک کا سامان میسر ہے ۔ یہ دو دھاری تلوار کے مالک لوگ ہی شاعر ہوتے ہیں جو کائناتی افسانے کے حافظ ہوتے ہیں ، یہ کہنا درست ہے کہ شاعر پیدائشی طور پر ہی شاعر ہوتا ہے ورنہ نہیں ہوتا ، شاعری ایک خداداد صلاحیت ہے، محنت، مطالعے ، عرق ریزی، مشاہدات اور تجربات سے اسے نکھارا جا سکتا ہے ، لیکن اگر فرد کائناتی افسانے سے واقف نہیں تو کوئی بھی جتن اسے بڑا شاعر نہیں بنا سکتا ۔

افسانوی شعور کو سمجھنے کیلئے بہترین مثال اگر دی جا سکتی ہے تو وہ ریڈ انڈین قبیلے کے سردار کا وہ خط ہے جو انہوں نے امریکی صدر کے نام لکھا جب امریکی انتظامیہ ان مقامی لوگوں کی زمینیں ہتھیا/خرید رہی تھی ، سردار کو یہ بات ہی عجیب لگی کہ زمین بھی خریدی جا سکتی ہے ، انہوں نے سیدھا امریکی صدر کو خط لکھا جس کا مفہوم کچھ یوں ہے ،

” واشنگٹن میں موجود امریکی صدر کے نام
جنابِ عالی یہ بات ہمارے لئے حیران کن ہے کہ زمین بھی خریدی یا بیچی جا سکتی ہے، کیا آسمان خریدا جا سکتا ہے ؟ ہوا کہ تازگی یا پانی کی چمک بھی برائے فروخت ہوتی ہیں کیا ؟ زمین کو کیسے کوئی خرید سکتا ہے ؟ ہم لوگوں کیلئے اس زمین کا ہر ٹکڑا مقدس ہے ، یہاں کے حشرات ، یہاں کے درخت، ساحل کی ریت ہمارے پرکھوں کی یاد لئے ہوئے ہے ، یہاں کے پھول ہماری بہنیں ہیں، ہرن اور گھوڑے ہمارے بھائی ، ہم سب ایک ہی خاندان کے فرد ہیں یہاں، آپ اپنے بچوں کو بتائیے گا کہ سب جاندار ہمارے بھائی ہیں ، ہمارے دریاؤں کا پانی فقط پانی نہیں بلکہ ہمارے بزرگوں کا خون ہے ، آبشار کی آواز میرے والد کے والد کی آواز ہے ، آپ اپنے بچوں کو بتائیے گا کہ دریا ہمارے بھائی ہیں ، سفید چمڑی والا آدمی زمین کو یعنی اپنی ماں کو استعمال کر کے اسے اس کے حال پہ چھوڑ دیتا ہے ، ہمارا اور آپ کا رہن سہن مختلف ہے تو آپ ہماری بات نہیں سمجھ پائیں گے ،،،
آپ کے شہروں کا نظارہ ہماری بصارتوں کیلئے کرب کا باعث ہے ،ممکن ہے کہ یہ فقط ہمیں ایسا لگتا ہو کہ ہم جانگلی لوگ ہیں ، آپ کے شہروں میں سکون کا کوئی گوشہ نہیں، خزاں کے پتوں کی آواز تک نہیں سنائی دیتی ، رات کو ٹڈی کی آواز تک ڈھونڈھنے سے نہیں ملتی، شاید مجھے ہی ایسا لگتا ہو کہ میں جانگلی آدمی ہوں ، آپ کے شہروں کا شور ہماری سماعتوں کی توہین ہے، غروب کے وقت مینڈک کی آواز ہی کانوں تک نہ پہنچے تو یہ کیسا غروب آفتاب ہے، ممکن ہے فقط مجھے ہی ایسا لگتا ہو کہ میں جانگلی آدمی ہوں ”
یہ خط طویل ہے، پورا متن یہاں نقل نہیں کیا جا سکتا، بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اس خط کے متن سے انسان سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے کہ اصل میں جانگلی کون ہے اور مہذب انسان کون ؟
آج شاعر کے ساتھ یہی حادثہ ہوا کہ وہ افسانوی شعور سے جاتا رہا ، خشک منطق اور جعلی افسانے نے نظام کو یوں درہم برہم کیا ہے کہ مرزا غالب اور اقبال دونوں بیک وقت الٹے بھی لٹکے ہیں اور دونوں سجدے میں بھی ہیں ، نو آبادیات ، استعماریت اور بالخصوص آج سرمایہ دارانہ نظام زندگی نے ہر چیز کو دولت میں تول رکھا ہے تو آرٹ اور کلچر بھی اسی کی نظر ہو گیا ، آج شاعر وہی ہے جو ہجوم اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی ہر ادائے بےحیائی پہ تالی کی آواز آئے، نگاہوں میں مصنوعی حیرت، لبوں پہ بناوٹی اور زومعنی مسکراہٹ اور لالچی نظروں سے یوں داد طلب کرنے کی صلاحیت کہ جیسے صاحب/صاحبہ نے امریکہ دریافت کر لیا ہو ۔ اس سانحے میں وہ لوگ جو واقعتاً پہلی سحر اور پہلے پھول کی یادداشت رکھتے ہیں اور جنہیں موت کے بعد لیتھی کے دائیں کنارے سے گزرنا ہے وہ اداس ہیں، اداس صرف اس لئے نہیں کہ صلاحیت کے باوجود سماج نے انہیں ان کا مقام نہیں دیا، بلکہ اس لئے بھی کہ کائناتی افسانے کو حفظ کرنے والے نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔ مگر یہ اداسی وقتی ہے کہ خالص منطقی شعور ابدی نہیں، اسے ٹھوکریں کھا کے واپس لوٹنا ہے اور اپنے بڑے بھائی افسانوی شعور کا ہاتھ تھام کر ساتھ چلنا ہے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں