جب نظام بک جائے: سیاستدان اور بیروکریسی ڈیجٹلا ئزیش اور شفافیت کی راہ میں رکاوٹ/محمد امین اسد

پاکستان کا المیہ یہ نہیں کہ یہاں وسائل کی کمی ہے یا صلاحیت رکھنے والے لوگ موجود نہیں، بلکہ اصل سانحہ یہ ہے کہ یہاں اقتدار کی کرسی کو امانت کے بجائے ذاتی ملکیت سمجھ لیا گیا ہے اور ریاستی نظام کو ایک ایسے میدان میں بدل دیا گیا ہے جہاں ہر بااثر فرد اپنی وفاداریاں خریدتا اور اپنے مفادات کی فصل اگاتا ہے۔ مرکز سے لے کر صوبوں اور اضلاع تک اگر آپ نگاہ ڈالیں تو ایک ہی روش کارفرما نظر آتی ہے کہ منتخب نمائندہ اپنی اولین ذمہ داری عوامی خدمت کو نہیں بلکہ اپنے سیاسی حلقے اور قریبی رشتہ داروں کو نوازنے کو سمجھتا ہے، خواہ وہ لوگ اس ذمہ داری کے اہل ہوں یا نہیں، خواہ انہیں اس کام کی الف ب بھی معلوم ہو یا نہیں، بس شرط یہ ہے کہ وہ وفادار ہوں، حکم ماننے والے ہوں اور نظام کو بدلنے کے بجائے اسی بوسیدہ ڈھانچے کو سہارا دیتے رہیں جس میں اصل طاقت “سفارش” اور “ذاتی تعلق” کو حاصل ہے نہ کہ قانون ،شفافیت اور میرٹ کو۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں اداروں کو مضبوط ہونا چاہیے تھا وہاں وہ کمزور ہو گئے، جہاں شفافیت آنی چاہیے تھی وہاں ابہام بڑھ گیا، اور جہاں آسانی پیدا ہونی چاہیے تھی وہاں پیچیدگی نے جڑیں مضبوط کر لیں، کیونکہ ایک شفاف اور ڈیجیٹل نظام ان تمام غیر رسمی طاقتوں کا خاتمہ کر دیتا ہے جن کے سہارے یہ پورا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ چل رہا ہے۔

دنیا کے اکثر ممالک نے اس بنیادی حقیقت کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا کہ ریاست کی اصل طاقت اس کے منظم، قابلِ اعتماد اور ڈیجیٹل نظام میں ہوتی ہے، اسی لیے انہوں نے تعلیم، صحت، پولیس، ٹریفک، ٹیکس اور حتیٰ کہ انتخابات تک کو ایسے مربوط ڈیجیٹل فریم ورک میں ڈھال دیا جہاں ایک عام شہری کو نہ سفارش کی ضرورت ہوتی ہے نہ کسی دفتر کے چکر لگانے کی، اور نہ کوئی کرپشن کر سکتا ہے، مگر ہمارے ہاں صورت حال اس کے برعکس ہے، یہاں جو نظام کسی حد تک ڈیجیٹل ہو چکا تھا اسے بھی دانستہ طور پر سست یا غیر مؤثر بنا دیا جاتا ہے تاکہ “انسانی مداخلت” باقی رہے اور اس کے ذریعے ذاتی مفادات کا کھیل جاری رکھا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ ارادے کا ہے، کیونکہ وہی کام جو ایک فرد محدود وسائل کے باوجود چند دنوں میں کر سکتا ہے، وہی کام ایک پوری حکومت برسوں میں بھی نہیں کر پاتی، اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ایک فرد کے سامنے نتیجہ ہوتا ہے جبکہ ایک سیاسی نظام کے سامنے مفاد۔
اگر ہم دیانت داری سے جائزہ لیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ اس ملک میں ڈیجیٹل اصلاحات نہ ہونے کی سب سے بڑی رکاوٹ وہی طبقہ ہے جسے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا، کیونکہ جیسے ہی نظام خودکار اور شفاف ہوتا ہے، ہر فیصلہ ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے، ہر لین دین قابلِ نگرانی ہو جاتا ہے، اور ہر شہری کو برابر کا حق ملتا ہے، یوں وہ تمام راستے بند ہو جاتے ہیں جن کے ذریعے اثر و رسوخ استعمال کر کے ذاتی فائدے حاصل کیے جاتے ہیں، اسی لیے اصلاحات کی بات تو بہت کی جاتی ہے مگر عملاً ایسے اقدامات سے گریز کیا جاتا ہے جو واقعی تبدیلی لا سکتے ہوں۔ اس کے برعکس اگر نیت درست ہو تو وہی ملک جہاں ایک موٹر بائیک کی رجسٹریشن ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے، وہاں ایک سادہ سا سمارٹ سسٹم متعارف کر کے نہ صرف لاکھوں غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کو چند مہینوں میں ریکارڈ پر لایا جا سکتا ہے بلکہ سیکیورٹی، ٹیکس وصولی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بھی کئی گنا بہتر بنایا جا سکتا ہے، اسی طرح اگر ہر بچے کو پیدائش سے ایک منفرد شناخت دے کر اس کی تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی خدمات کو ایک مربوط نظام کے تحت ٹریک کیا جائے تو نہ صرف وسائل کا ضیاع روکا جا سکتا ہے بلکہ ایک مکمل سماجی نقشہ بھی تیار کیا جا سکتا ہے جو پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کرے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ہم یہ سب کر سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم کرنا چاہتے ہیں یا نہیں، کیونکہ جس قوم نے محدود وسائل کے باوجود بڑے بڑے منصوبے مکمل کیے ہوں، جس کے نوجوان دنیا بھر میں جدید ترین ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہوں، اور جس کے پاس انسانی سرمایہ بھی ہو اور تجربہ بھی، وہ اگر آج بھی بنیادی انتظامی اصلاحات نہ کر سکے تو اس کی وجہ صرف اور صرف ترجیحات کا بگاڑ ہے۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ یہ تبدیلی محض اوپر سے مسلط نہیں کی جا سکتی، جب تک معاشرہ خود اس بات پر آمادہ نہ ہو کہ اسے سفارش کے بجائے نظام چاہیے، تب تک سیاستدان بھی اسی روش پر چلتے رہیں گے جو انہیں سیاسی فائدہ دیتی ہے، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ چھوٹے پیمانے پر کامیاب ماڈلز قائم کیے جائیں، ایسے منصوبے سامنے لائے جائیں جو کم لاگت، تیز رفتار اور شفاف ہوں، تاکہ وہ خود اپنی افادیت ثابت کریں اور پھر انہی کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر اصلاحات کی راہ ہموار ہو۔

یہ امر اب کسی بحث کا محتاج نہیں رہا کہ ریاستیں محض جغرافیے، آبادی یا وسائل کے بل پر قائم نہیں رہتیں بلکہ ان کی اصل طاقت ایک منصفانہ، شفاف اور مؤثر نظام میں ہوتی ہے، اور جب یہ نظام کمزور ہو جائے تو ترقی کا ہر دعویٰ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی نجات کا راستہ کوئی نیا یا پیچیدہ نہیں، بلکہ وہی آزمودہ اصول ہیں جنہیں دنیا نے اپنایا: میرٹ کی بالادستی، شفافیت، ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اور اداروں کو افراد کے بجائے اصولوں کے تابع کرنا۔ مگر اس کے لیے سب سے پہلے ایک اجتماعی فیصلہ درکار ہے کہ ہمیں وقتی فائدے، سفارش اور ذاتی مفاد کی سیاست سے نکل کر ایک پائیدار اور منصفانہ نظام کی طرف بڑھنا ہے۔ یہ تبدیلی اگرچہ بظاہر مشکل دکھائی دیتی ہے، لیکن ناممکن نہیں، کیونکہ اس ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود بڑے پیمانے پر شفاف اور مؤثر نظام قائم کر کے دکھایا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تجربات کو نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں پالیسی کا حصہ بنایا جائے، انہیں وسعت دی جائے اور ان کی بنیاد پر ایک ایسا ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جو نہ صرف عوام کے لیے آسانی پیدا کرے بلکہ ریاست کے وقار اور اعتماد کو بھی بحال کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنے مسائل کی اصل جڑ کو پہچان لیتی ہیں اور اس کے حل کے لیے سنجیدگی سے قدم اٹھاتی ہیں تو زوال کا سفر رک جاتا ہے اور تعمیر کا عمل شروع ہو جاتا ہے، اور پاکستان کے لیے بھی یہی لمحہ فیصلہ کن ہے کہ وہ مفاد کی سیاست کے ساتھ کھڑا رہتا ہے یا ایک ایسے نظام کی بنیاد رکھتا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے انصاف، آسانی اور استحکام کا ضامن بن سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں