جب بھی انسانی تہذیبوں کے عروج و زوال کی تاریخ رقم کی جاتی ہے تو ایک اٹل حقیقت سامنے آتی ہے کہ قومیں جغرافیائی وسعت، عسکری قوت یا مذہبی عقائد کی شدت کی بنیاد پر زندہ نہیں رہتیں بلکہ ان کی بقا کا راز ایک پیچیدہ اور متوازن سماجی، فکری اور نفسیاتی نظام میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ مسلم دنیا، جو کبھی علم و حکمت کا گہوارہ تھی، آج عالمی تناظر میں جن معاشی، سیاسی اور سائنسی چیلنجز سے دوچار ہے، وہ محض کسی بیرونی سازش یا اچانک آئی ہوئی تباہی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ ایک طویل تاریخی عمل کی دین ہیں جسے ہم “تہذیبی جمود” اور “زوال کی نفسیات” سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ اس موضوع پر کوئی بھی علمی بحث اس وقت تک سطحی اور نامکمل رہے گی جب تک ہم جذباتی اور تدافعی رویوں سے نکل کر خالص معروضی پیرائے میں اپنی اجتماعی نفسیات کی پرتوں کو نہ کھولیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ زوال کے اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے ہم یا تو خوش فہمی میں مبتلا ہو کر ماضی کی عظمت کے قصے دہراتے ہیں یا پھر سارے الزامات بیرونی استحصال پر ڈال کر اپنی داخلی کمزوریوں سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ جبکہ سماجی سائنس کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی بھی تہذیب کا خاتمہ ہمیشہ اندر سے شروع ہوتا ہے اور بیرونی ضرب محض اس عمارت کو گرانے کا کام کرتی ہے جس کے ستون پہلے ہی دیمک زدہ ہو چکے ہوں۔
اس پورے منظر نامے کا سب سے مرکزی اور گہرا پہلو فکری جمود کی وہ کیفیت ہے جو رفتہ رفتہ ایک متحرک اور تخلیقی معاشرے کو ایک جامد اور مقلد جماعت میں تبدیل کر دیتی ہے۔ ابتدائی صدیوں میں مسلم تہذیب کی بنیاد اس تصور پر تھی جو غور و فکر، مشاہدے اور تجربے کو عبادت کا درجہ دیتا تھا، جہاں کائنات کو علم کی تجلی گاہ سمجھ کر سائنسی تحقیق کو فروغ دیا گیا اور فلسفے کو عقیدے کا دشمن نہیں بلکہ اس کی گہرائی تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھا گیا۔ لیکن بعد کے ادوار میں جب “بابِ اجتہاد” کے بند ہونے کے تصور کو فکری جمود کی علامت کے طور پر قبول کر لیا گیا تو اس نے ایک ایسا کلچر جنم دیا جہاں سوال اٹھانا گستاخی اور روایت پر تنقید بغاوت کے مترادف ٹھہرائی جانے لگی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نفسیاتی طور پر معاشرے نے یہ مان لیا کہ اسلاف کی علمی کاوشیں حرفِ آخر ہیں اور اب کسی نئی دریافت یا تعبیر کی ضرورت نہیں۔ اس ذہنیت نے نہ صرف علومِ عقلیہ جیسے فلسفہ، ریاضی اور فلکیات کو پس منظر میں دھکیل دیا بلکہ خود مذہبی علوم میں بھی “تقلید” کو اس قدر غالب کر دیا کہ مسائلِ حاضرہ کو حل کرنے کی فکری صلاحیت ماند پڑ گئی۔ جدید سماجیات کی زبان میں اسے “سائنس آف سوسائٹی” سے انحراف کہا جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ ماضی کے فکری سرمائے پر گزارا تو کر لیتا ہے لیکن مستقبل کی نئی راہیں دریافت کرنے سے قاصر رہتا ہے۔
اسی فکری جمود کے متوازی چلنے والا دوسرا زبردست عامل ادارہ جاتی تنزل (Institutional Decay) ہے، جس نے معاشرتی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی تہذیب اس وقت تک عروج حاصل نہیں کر سکتی جب تک اس میں ادارے افراد سے بالاتر نہ ہو جائیں اور قانون کی حکمرانی کا اصول تسلیم نہ کر لیا جائے۔ مسلم دنیا کے بیشتر خطوں میں المیہ یہ رہا کہ ریاست اور معاشرے کے درمیان تعلق شخصی حکمرانی اور وفاداریوں کی بنیاد پر قائم رہا۔ اداروں کا تقدس ختم ہو گیا اور قوانین کا نفاذ طاقتور حلقوں کے مفادات کے تابع ہو گیا۔ جب عدالتیں غیر جانبدار نہ رہیں، جب بیوروکریسی قابلیت کے بجائے خوشامد اور سفارش پر چلنے لگے، اور جب عوامی احتساب کا نظام مفقود ہو جائے تو وہاں ایک ایسا نفسیاتی انتشار جنم لیتا ہے جہاں عام شہری یہ مان لیتا ہے کہ محنت اور قابلیت سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ مایوسی ہے جو “برین ڈرین” اور سماجی بے عملی کا باعث بنتی ہے۔ اداروں کی یہ کمزوری محض سیاسی عدم استحکام پیدا نہیں کرتی بلکہ معاشی ترقی کے پہیے کو بھی جام کر دیتی ہے،۔
سیاسی عدم استحکام کو اگر ہم صرف بادشاہوں یا آمروں کی تبدیلی کا نام دیں تو یہ مسئلے کی گہرائی کو نہ سمجھنے کے مترادف ہوگا۔ اصل مسئلہ “سیاسی کلچر” کا ہے، یعنی اقتدار کو دیکھنے کا اجتماعی زاویہ۔ مسلم دنیا کے بیشتر معاشروں میں اقتدار کو ایک “امانت” اور خدمتِ خلق کے بجائے ایک “موروثی حق” یا “ذاتی جاگیر” سمجھا گیا۔ اس نفسیات نے دو بڑے نقصانات پہنچائے: اول، عوام میں یہ احساس کمزور ہوا کہ وہ حقیقی معنوں میں اقتدار کا منبع ہیں اور ان کی رائے کی کوئی اہمیت ہے۔ دوم، سیاسی قیادت کے ہاں پالیسیوں کے تسلسل کا فقدان رہا، جس کی وجہ سے تعلیم، صحت اور صنعت جیسے طویل المدتی منصوبے کبھی بار آور نہ ہو سکے۔ ہر نیا آنے والا اپنے پیش رو کے کام کو مٹا کر نئے سرے سے شروع کرتا رہا، جیسے کوئی شخص ایک اینٹ رکھے اور دوسرا اسے اکھاڑ پھینکے، تو ایسی صورت میں عمارت کی تعمیر ممکن نہیں۔ یہ سیاسی جمود کی ایک ایسی شکل ہے جو جمہوری اداروں کی عدم موجودگی یا ان کی کمزور کارکردگی میں پروان چڑھتی ہے اور عوام کو ایک ایسے دائمی اضطراب میں مبتلا کر دیتی ہے جہاں وہ مستقبل کے بارے میں کوئی یقینی منصوبہ بندی نہیں کر پاتے۔
معاشی زاویے سے دیکھا جائے تو مسلم دنیا ایک بھیانک تضاد کا شکار ہے جسے “وسائل کی فراوانی میں افلاس” (Resource Curse) کا نام دیا جاتا ہے۔ سماجی سائنس میں یہ ثابت شدہ امر ہے کہ قدرتی وسائل کی بہتات، خواہ وہ تیل و گیس ہو یا قیمتی معدنیات، اگر مضبوط اداروں اور شفاف نظام کے بغیر ہو تو وہ قوموں کے لیے ترقی کی بجائے زوال کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی معیشتیں پیداوار (Production) اور ویلیو ایڈیشن (Value Addition) کی محنت سے بچ نکلتی ہیں اور “آسان کمائی” کی عادی ہو جاتی ہیں۔ مسلم دنیا کے بیشتر تیل برآمد کرنے والے ممالک اس کی بہترین مثال ہیں جہاں معیشت کا انحصار خام مال کی فروخت پر ہے، جبکہ انسانی وسائل کو جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور تخلیقی صنعتوں میں تبدیل کرنے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ اس کا نتیجہ ایک ایسی “رینٹیئر اسٹیٹ” (Rentier State) کی صورت میں نکلا ہے جہاں ریاست شہریوں کو ٹیکس دینے کی بجائے ریاست شہریوں کو مراعات دیتی ہے، اور اس عمل میں شہریوں سے سیاسی احتساب کا جو حق بنتا ہے وہ ختم ہو جاتا ہے۔ نفسیاتی سطح پر اس صورتحال نے محنت اور جدت کی اہمیت کو کم کر دیا ہے اور معاشرے میں ایک صارفی ذہنیت (Consumer Mentality) کو پروان چڑھایا ہے جو درآمد شدہ مصنوعات پر تو انحصار کرتی ہے لیکن مقامی طور پر کچھ تخلیق کرنے سے قاصر رہتی ہے۔
اب ہم اس بحث کے سب سے حساس لیکن سب سے اہم جزو یعنی “زوال کی نفسیات” کی طرف آتے ہیں، جس کے بغیر مسلم دنیا کا کوئی بھی تجزیہ ادھورا ہے۔ یہ نفسیات ایک عجیب و غریب اضطراری کیفیت پر مبنی ہے جس میں معاشرہ اپنی اجتماعی ناکامیوں کا سامنا کرنے کے بجائے دفاعی میکانزم کا سہارا لیتا ہے۔ اس کی پہلی صورت “شاندار ماضی کی نفسیات” (Glorious Past Syndrome) ہے، جہاں ماضی کی فتوحات اور علمی کارناموں کا ذکر موجودہ بے بسی کو چھپانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ دوسری صورت “مظلومیت کا کلچر” (Victimhood Culture) ہے، جس میں ہر ناکامی کا ذمہ دار بیرونی دشمنوں، سامراج یا عالمی سازشوں کو ٹھہرا کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جانے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ نو آبادیاتی نظام نے مسلم دنیا کے اداروں کو تباہ کیا اور وسائل کو لوٹا، لیکن گزشتہ سات سے آٹھ دہائیوں کی آزادی کے بعد اگر حالات میں بہتری نہیں آئی تو اس کی جواب دہی اندرونی نظام کو بھی قبول کرنی ہوگی۔ یہ زوال کی نفسیات معاشرے میں “سیکھے ہوئے بے بسی”کی کیفیت پیدا کر دیتی ہے، جہاں افراد اور گروہ یہ مان لیتے ہیں کہ چاہے کچھ بھی کر لیں، حالات نہیں بدلیں گے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تہذیب حرکت سے رک جاتی ہے اور جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔
تعلیم کا بحران اس پوری صورتحال کی جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے اور یہ معاملہ محض شرح خواندگی یا سکولوں کی تعداد سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اصل سوال تعلیم کے فلسفے اور اس کے مقاصد کا ہے۔ کیا ہمارا نظامِ تعلیم طلبہ کو ایک “اچھی ملازمت” کے لیے تیار کر رہا ہے یا انہیں “اچھے سوال” کرنے کے قابل بنا رہا ہے؟ جب تک نصاب میں تنقیدی سوچ (Critical Thinking) اور تجزیاتی صلاحیت (Analytical Skills) کو مرکزی حیثیت حاصل نہیں ہوگی، تب تک معاشرہ صرف ایسے گریجویٹس پیدا کرے گا جو معلومات تو رٹے ہوئے ہیں لیکن نئے مسائل کو حل کرنے کی اہلیت سے محروم ہیں۔ مسلم دنیا میں سائنسی تعلیم کی حالت یہ ہے کہ مسلم دنیا کی مجموعی سائنسی کنٹری بیوشن ایک فیصد بھی نہیں ہے ۔علم کا حصول اگر اقدار کی تشکیل اور معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ نہ بنے تو وہ محض ایک بوجھل رسم بن کر رہ جاتا ہے، اور یہی رسم پرستی تہذیبی جمود کی سب سے بڑی علامت ہے۔
ثقافت اور روایت کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ جہاں ان کا تحفظ ضروری ہے وہیں ان کا جمود میں تبدیل ہو جانا تہذیب کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتا ہے۔ ہر عظیم تہذیب نے اپنی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے وقت کے ساتھ خود کو ڈھالا ہے، لیکن جب روایت کو ایک ایسے سانچے میں ڈھال دیا جائے جو تبدیلی کو حرام سمجھتا ہو تو تہذیب زندہ درگور ہو جاتی ہے۔ مسلم دنیا میں بعض حلقوں میں “بِدعَت” کے خوف نے جائز “اِبداع” (Creativity) کے دروازے بند کر دیے۔ فقہی اور سماجی معاملات میں ایسا لچکدار رویہ جو ابتدائی صدیوں میں رائج تھا، بعد میں سختی اور حرف پرستی میں تبدیل ہو گیا۔ اس صورتحال نے معاشرے کو ایک ایسے “کلچرل شاک” سے دوچار کیا جہاں جدیدیت کو مغرب کی ایجنسی سمجھ کر مسترد کر دیا گیا جبکہ جدیدیت کی علمی اور تکنیکی بنیادوں سے استفادہ کرنے کا کوئی مقامی راستہ تلاش نہ کیا جا سکا۔ اس تضاد نے نوجوان نسل کی نفسیات پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جہاں وہ اپنی شناخت کے بحران (Identity Crisis) میں مبتلا ہے کہ وہ کون ہے اور اسے کس سمت جانا چاہیے۔ یہی شناختی بحران معاشرے کو متحد ہو کر ایک سمت میں حرکت کرنے سے روکتا ہے اور تہذیبی جمود کو مزید گہرا کرتا ہے۔
درج بالا تمام عوامل کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلم دنیا کا موجودہ زوال کسی ایک عنصر کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا مرکب ہے جہاں فکری جمود، ادارہ جاتی کمزوری، سیاسی استحصال، معاشی بد نظمی، تعلیمی بحران اور ایک پیچیدہ نفسیاتی کیفیت ایک دوسرے کو تقویت دے رہے ہیں اور ایک شیطانی چکر (Vicious Cycle) کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ اس چکر کو توڑنے کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ معروضیت کی اس کسوٹی کو اپنایا جائے جس کا ذکر ہم نے شروع میں کیا تھا، یعنی جذبات کو پسِ پشت ڈال کر حقائق کا سامنا کیا جائے۔ تاریخ ہمیں بار بار سکھاتی ہے کہ جو قومیں اپنی غلطیوں کا دیانت دارانہ اعتراف کر لیتی ہیں، ان کے لیے بحالی کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ اس بحالی کا آغاز انفرادی سطح پر “خود احتسابی” اور اجتماعی سطح پر “تنقیدی شعور” کی آبیاری سے ہوتا ہے۔ ماضی کی عظمت ہمارے لیے ایک اثاثہ ضرور ہے لیکن اسے صرف تفاخر کا ذریعہ بنانے کی بجائے اسے محرک (Inspiration) کے طور پر استعمال کرنا ہوگا۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ تہذیب کا پہیہ آگے کی طرف چلتا ہے، پیچھے مڑ کر دیکھنا صرف اس لیے مفید ہے کہ پچھلی منزلوں میں کیا کھویا اور اگلی منزلوں میں کیا پایا جا سکتا ہے۔ جمود کو توڑنا اور حرکت کو شعار بنانا ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس تاریک سرنگ سے نکل کر روشنی کی طرف لے جا سکتا ہے، اور یہ سفر محض خواہشات یا نعروں سے طے نہیں ہوگا بلکہ مسلسل محنت، علم کی ترویج اور ایک نئی اجتماعی نفسیات کی تعمیر سے ممکن ہوگا جو ماضی کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے مستقبل کی تعمیر کے لیے پوری طرح بیدار ہو چکی ہو۔


