اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتیں: اصول کی چادر، مصلحت کے پیوند/ محمد امین اسد

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ بار بار سیاست میں داخل ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ سیاست دان بھی بار بار اسے اپنے مخالف کے خلاف پکار کر لاتے رہے۔ اقتدار تک مزید پڑھیں

جماعت اسلامی کے پچاسی برس : فکر کی وسعت، سیاست کی الجھن اور مستقبل کا سوال/محمد امین اسد

آج 26 اگست 2026ء کو جماعت اسلامی اپنے قیام کے پچاسی برس مکمل کررہی ہے۔ 26 اگست 1941ء کو لاہور میں صرف 75 افراد جمع ہوئے، 38 سالہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کو اپنا امیر منتخب کیا، ایک عبوری دستور منظور مزید پڑھیں

دفاعی معاہدے: ہم کس کے کام آئے، ہمارے کام کون آیا؟- محمد امین اسد

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں دفاعی معاہدے ہمیشہ ایسے بڑے اور باوقار الفاظ کے ساتھ ہمارے سامنے آئے ہیں جیسے دستخط ہوتے ہی سرحدوں کے گرد آہنی دیوار کھڑی ہوگئی ہو۔ اجتماعی سلامتی، باہمی دفاع، دفاعی شراکت اور برادرانہ تعاون مزید پڑھیں

ریاست، آئین اور سیاست: مولانا فضل الرحمن کے خطاب کا تنقیدی جائزہ/محمد امین اسد

بعض سیاسی تقاریر وقتی سیاسی ضرورت پوری کرتی ہیں اور چند دن بعد تاریخ کے حاشیوں میں گم ہو جاتی ہیں، لیکن بعض خطابات ایسے ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایک پورا سیاسی مقدمہ، ایک فکری مؤقف اور ریاست و مزید پڑھیں

اختلاف نہیں، آئین کی بات: مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر کیوں زیرِ بحث ہے؟- محمد امین اسد

پاکستان کی سیاست میں بعض تقاریر محض جلسوں کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ قومی مکالمے کا رخ متعین کرتی ہیں۔ ضلع قصور میں مولانا فضل الرحمٰن کی حالیہ تقریر بھی اسی نوعیت کی ایک تقریر ہے، جس نے سیاسی، آئینی مزید پڑھیں

عالمی یومِ آبادی: بڑھتی آبادی، سکڑتے وسائل اور پاکستان کا مستقبل/محمد امین اسد

آج دنیا بھر میں یوم آبادی منایا جا رہا ہے، اور یہ دن محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ ہر اس قوم کے لیے ایک سنجیدہ محاسبے کا موقع ہے جو اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہو۔ پاکستان کے مزید پڑھیں

انتہاپسندی کی جڑیں: صرف نظریہ یا سیاسی بندش بھی؟-محمد امین اسد

تاریخ کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ جب معاشروں میں سیاسی شرکت کے دروازے کھلے رہتے ہیں تو اختلافِ رائے پارلیمان، عدالتوں، صحافت اور عوامی مباحث کے ذریعے اپنا اظہار کرتا ہے، لیکن جب یہ دروازے بند کر دیے مزید پڑھیں