ہم محبت کے ترانے لکھنے والے کہاں جنگ و نفرت کی باریکیوں پر خامہ فرسائی کریں؟ہم آمدِ بہار کے قصیدے لکھنے والے کہاں میناب اسکول کے بچیوں پر نوحے لکھیں؟
تاریخ اپنی رُخ بدل رہی ہے۔مورخین آنے والی نسلوں کےلیے سرمایہ حیات کے طور نقوش ثبت کر رہے ہیں۔
ایک ظالم نے اک طاغوت سے ایک مل کر تین دنوں کے اندر میدان مارنے کا خواب دیکھا تھا۔مگر ساری انائیں تنگہ ہرمز نامی تجارتی گزرگاہ پہ آکر رک ہوئی ہیں۔اس پیچ و خم میں ریاستِ پاکستان کی سفارتکاری و ثالثی نے نیل سے لے کر تابخاک کاشغر ،سات سمندر پار یورپ کے کاخ سفید تک دنیائے انسانیت کےلیے سکون کا لمحہ امن کا تحفہ دیا ہے۔اسی لیے احمد ندیم قاسمی نے کیا خوب کہا تھا۔
خدا کرے کہ مرے ارضِ پاک پر اُترے
وہ فصلِ گُل جس سے اندیشہِ زوال نہ ہو۔
میں علم و دانش کے مرکز قم المقدس ایران میں ہوں۔مرے اطراف میں چڑیوں کی چہچاہٹ ،درختوں پر کھلے پھولوں کی خوشبو ،تلخ و تریاک چاے کی گھونٹ لیکن مرے آنکھوں کے سامنے پچھلے ڈیڑھ مہینے سے جاری جنگی صورتِ حال اک فلم کی طرح چل رہی ہے۔اور میں دل و دماغ کے نہاں خانوں سے ان مضطرب ،آزردہ ،دل شکن ،ناخوشگوار یادوں کو سپردِ قرطاس کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
27فروری کی رات معمول کی طرح کٹ گئی۔لیکن 28فروری کی صبح بری خبر سے شروع۔
اس سے پہلے تک ہم نے جنگوں کے بارے میں پڑھ اور سن رکھے تھے۔28فروری کے بعد ہم آنکھوں سے دیکھ اور کانوں سے سن رہے تھے۔
وہی معمول کے مطابق دن کا آغاز کیا۔اقامت گاہ سے چل کر کلاس روم میں پہنچا تو طالب علموں کا بحث زروں پر تھا۔خلافِ معمول شور و غل سے معلوم ہوا کہ تہران میں دھماکے ہوئے ہیں۔کہاں معلوم تھا کہ دس رمضان کو شروع ہونے والی یہ جنگ ہنوز کسی نتیجے تک نہیں پہنچے گی۔مقامی و غیر مقامی چینلوں کے ذریعے یہ خبر پھیل گئی کہ دھماکہ حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای رح کے گھر پر ہوا ہے۔دل و دماغ میں عجیب و غریب خیالات ابھرنے لگے،ظن و تخمین کے نکڑ پر کھڑا سوچتا رہا کہ خدا کرے ایسا نہ ہو۔وہ پورا دن اسی خبر کی تفتیش ،تبصروں خدشات میں گزرا۔وہ شام ہر شام سے الگ تھی۔اس شام کی افطاری خدشات و خیالات سے کی تھی۔دل کی دھڑکنیں تیز تھیں۔بدلتی صورت حال سے تشویش میں اضافہ ہورہی تھا۔انٹرنیشنل نیٹ کی اچانک بندش سے یقین ہوگیا کہ اب جنگ خطے میں پھیل جاے گی۔


