کچھ وجود غیر قانع جنسی حیوان ہوتے ہیں۔ ان کے لیے جنسی عمل محض ایک تجربہ نہیں بلکہ روزمرہ کا معمول بن جاتا ہے۔ جب کوئی جبلت شدت اختیار کر لے، سرکش ہو جائے اور فرد اپنے وجودی توازن سے محروم ہو جائے تو وہ صرف لذت یا تسکین ہی نہیں دیتی بلکہ اپنے ساتھ بے شمار پیچیدگیاں اور اذیتیں بھی لے آتی ہے۔
ارنو کا ناول ہیپننگ جس کا ترجمہ انور سن رائے نے “ وہ جو ہوا “ کے نام سے کیا ہے
ایک غیر شادی شدہ مگر حاملہ ہو جانے والی لڑکی کے اسقاط حمل کی کہانی ہے
بائیس سالہ ایک نوجوان عورت جسے پورے ناول میں کوئی نام نہیں دیا گیا
اور ساری کہانی واحد متکلم کے صیغہ سے کہی گئی ہے
وہ بخوبی جانتی ہے کہ اس کے وجود میں پلنے والی یہ زندگی نہ سماج میں قبول کی جائے گی اور نہ ہی خاندان میں۔ یہ اس دور کی بات ہے جب فرانس میں اسقاط حمل غیر قانونی سمجھا جاتا تھا۔ یہی حقیقت اس کی زندگی کو محض مشکل نہیں بلکہ اذیت ناک بنا دیتی ہے۔
اور اس کا اسقاط حمل کا صرف ایک واقعہ کی بجائے ایک بڑے افسانوی کینوس پہ اترتا ہے اور ایک خطرناک کہانی کا روپ دھار لیتا ہے۔
عورت کو جنس کی پینگھ پر جھولنے کی قیمت اکثر مرد سے کہیں زیادہ چکانی پڑتی ہے۔ چند لمحوں کی لذت ایک طویل عذاب میں بدل جاتی ہے۔ پردہ بکارت کا ٹوٹنا، حمل کا ٹھہر جانا، نو ماہ تک ایک وجود کو اپنے اندر اٹھائے رکھنا اور پھر زچگی کی اذیت یہ سب صرف جسمانی نہیں بلکہ گہرے نفسیاتی اور سماجی بوجھ بھی ہیں۔
مزید یہ کہ عورت کا جنسی شعور اور تلذذ اپنی ساخت اور ہیئت کے اعتبار سے مرد جتنا سادہ اور غیر پچیدہ نہیں ہے۔
یہ صرف حیاتیاتی نہیں بلکہ بہت بڑا وجودی فرق ہے جو مرد اور عورت کے جنسی شعور میں تفرق پیدا کرتا ہے۔
مرد کی نسبت عورت کی جنسی بے راہ روی کو متشدد طرز سے دیکھنے کا سماجی رویہ معاشرتی دوغلہ پن ضرور ہے
مگر اس کے پیچھے ایک حیاتیاتی اور وجودی پیچیدگی بھی کارفرما ہے جسے مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اینی ارنو کو 2022 میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔ ان کی تحریریں عموماً صیغہ واحد متکلم میں ہوتی ہیں، جس کی بنیاد پر انہیں سوانحی مصنفہ کہا جاتا ہے، مگر وہ خود کو ہمیشہ فکشن نگار ہی قرار دیتی رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑا ادیب اپنی یاداشت سے کوئ واقعہ اٹھاتا ہے اور فن کے آوے میں پکا کر ایک بڑی تخلیق بنا دیتا ہے
وہ اسکا ذاتی تجربہ، مشاہدہ یا ہڈ بیتی ہو سکتی ہے مگر جب وہ واقعہ افسانہ ہوتا ہے تو اس کی اصل کی حثییت صرف خام مال کی رہ جاتی ہے
فنکار ذاتی تجربے کو ایک آفاقی سچ میں بدل دیتا ہے۔
ارنو کا بیانیہ بے حد بے باک ہے۔ وہ طبقاتی تقسیم، پدرشاہی نظام اور عورت کی جنسیت کو کسی علامتی پردے میں نہیں چھپاتیں بلکہ پوری سفاکی کے ساتھ سامنے لاتی ہیں۔ ان کے ہاں عورت محض ایک کردار نہیں بلکہ ایک تجربہ، کرب اور سماجی حقیقت ہے۔
اس ناول میں پدر شاہی مرد کا کردار بھی بڑی شدت سے بے نقاب ہوتا ہے جو عورت کو محض ایک جنسی آلہ سمجھتا ہے۔
مرد کے لئے مباشرت ایک لمحاتی لذت ہے مگر عورت کے لئے یہ ایک ایسا عمل ہے جو مکمل ہو جانے کے بعد ایک اور طرح سے شروع ہوتا ہے اور بہت بار بہت کریح نتائج سامنے لاتا ہے۔
مرد کی بے نیازی اور عورت کی اذیت کے درمیان جو خلا ہے، وہی اس کہانی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
اسقاط حمل، جو اس ناول کا مرکزی موضوع ہے، ایک نہایت حساس اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 73 ملین اسقاط حمل ہوتے ہیں، جن میں سے بڑی تعداد غیر محفوظ طریقوں سے انجام دی جاتی ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ لاکھوں عورتوں کی زندگیاں ہیں، جو جسمانی اور نفسیاتی اذیت سے گزرتی ہیں۔
ارنو نے اس میں اس لڑکی کی ذہنی کیفیت ، وجودی کرب اور داخلی شکست و ریخت کو بہت بے رحمی سے بیان کیا ہے
اور اسقاط کے عمل کو جس کلینیکل باریکی اور سفاک سچائی کے ساتھ بیان کیا ہے، وہ قاری کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ جنسی عمل جسے ادب میں اکثر رومانوی رنگ دیا جاتا ہے، یہاں اپنے بدترین نتائج کے ساتھ سامنے آتا ہے اور لذت کی بجائے اذیت کا بیانیہ بن جاتا ہے۔
اسی ناول پر آڈری دیوان نے 2021 میں “Happening” کے نام سے فلم بنائی، جس نے وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں گولڈن لائن کا ایوارڈ حاصل کیا۔
میرے لیے یہ ناول پڑھنا کوئی آسان تجربہ نہیں تھا
میں نے اسے دو نشستوں میں مکمل کیا اور ہر بار مجھے اسکی وحشتناک کہانی میں خود کو شامل کرنے کے لئے بڑی مشکل سے آمادہ کیا کرنا پڑا
ادب زندگی کا نقال ہوتا ہے زندگی جتنی کوفتناک اور تکلیف دہ ہو گی یہ اتنی ہی کریح شکل دھار لے گا
یہ ایسا آئینہ ہے جو ان سماجی اور انفرادی حقیقتوں کو دکھاتا ہے
جسے کراہت انگیز سمجھ کر اس سے پردہ پوشی کر لی جاتی ہے۔
یہ کہانی اگرچہ فرانسیسی پس منظر رکھتی ہے، مگر اس کی صداقت آفاقی ہے
دنیا کے ہر سماج کی عورت اس میں اپنی اذیت کو محسوس کرتی ہے
اور یہی عالمگیریت اسے محظ ایک لڑکی کی انفرادی کہانی کی بجائے ایک بڑا شہہ پارہ بنا دیتی ہے۔
یہ ناول پڑھتے ہوے ایک ماں کا کردار بڑی شدت اختیار کر لیتا ہے
جس کے رحم میں پلتی اس کی اولاد اس کے لئے تحفظ کی بجائے وبال جان بن جاتی ہے
اور وہ اسے سینے سے لگانے کی بجائے اس سے چھٹکارا پانا چاہتی ہے
یہاں زندگی ناقابل برداشت شکل دھار لیتی ہے
لیکن اپنے سے منہ موڑنے کی بجائے اپنی طرف متوجہ ہونے پر اکساتی ہے۔
19 اپریل 2026


