عالمی یومِ صحافت اور پاکستان میں صحافت کا زوال/انیس اکرم

کیا پاکستان میں صحافت پگڑی اچھالنا، الزام تراشی اور سیٹھ کے مفادات کی آڑ بن کر رہ گئی ہے؟
کیا صحافت حکومتی راہداریوں کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کی ترجمانی ہے؟
یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب، سچ کہیں تو، ہاں میں ہے۔

برصغیر میں آزادی کی لہر میں شعر و شاعری، ناول نگاری، غرض ادب کی تمام جہتوں پر مزاحمت لکھی جا رہی تھی۔ اسی دور میں صحافت کے شعبے میں ایسے نامور ادب شناس لوگ آئے جنہوں نے تحریکِ پاکستان کی بہترین انداز میں ترجمانی کی۔ پاکستان بنتا گیا تو یہی صحافت اسی ڈھنگ پر چلنا شروع ہوگئی جیسے دیگر طبقات نے مفاد پرستی کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ لیکن اصل دور تب شروع ہوا جب ایک بہت بڑے سرمایہ دار نے جنگ کے مقابلے میں اخبار شروع کیا۔ پھر اس کے بعد سرمایہ دار سیٹھوں نے اسے اپنے کاروبار کی آڑ بنانا شروع کیا اور اس کے بعد صحافت کے نام پر صرف ڈیل اور بزنس ہی ہوا۔ صحافت نجانے کن بھول بھلیوں میں گم ہوگئی۔

اب بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں۔ صحافی بھی اپوزیشن اور اقتدار میں تقسیم ہیں اور سوشل میڈیا کی بلا نے ایک نیا ٹرینڈ شروع کر دیا ہے جس میں ویورشپ کے جنون نے اوٹ پٹانگ اور مصالحہ خبروں کو ہی معیار بنا لیا۔ یہ سلسلہ روکنا ہوگا۔ صحافی کا کوئی تو معیار ہونا چاہئے۔ جسے اور کوئی کام نہیں آتا، آج کل صحافت کا لبادہ اوڑھ کر بلیک میلنگ شروع کر دیتا ہے۔ قلم کا تقدس کیا یہاں دو دو سو روپے میں قلم بک جاتا ہے؟ اور اس کی ذمہ دار کہیں نہ کہیں حکومت بھی ہے جو خود انہی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ہاتھوں یا بلیک میل ہوتی ہے یا اپنے قصیدہ گوئی کے لئے آنکھیں موند لیتی ہے۔

تمام اخبارات اور چینلز پر چند بڑوں کو تنخواہ و مراعات ملتی ہیں لیکن مقامی سطح پر اخبارات ایڈیشن کے نام پر فکس چارجز وصول کرتے ہیں۔ داتا دربار کے مانگت بنا کر کہا جاتا ہے: اپنی کھا آؤ تے ساڈے واسطے لے آؤ۔ حکومت کی جانب سے تہنیتی پیغام کی تو بھرمار ہے لیکن مقامی سطح پر صحافت کی زبوں حالی پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ نہ ہمارے ادارے صحافت کے نام پر کلنک اور کالی بھیڑوں کی طرف متوجہ ہیں اور نہ ہی سرکاری سطح پر اس پر کوئی سنجیدگی نظر آتی ہے۔

نتیجتاً صحافت ملکی سطح پر اپنا کوئی رول ادا نہیں کر پا رہی۔ نہ کوئی تازہ فکر ہے، نہ اس نظریے کی حفاظت ہو پارہی ہے جس کے لئے یہ ملک بنایا گیا، اور نہ ہی عوامی مفاد کی بات ہو رہی ہے۔ دنیا جس تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، افسوس ہم ساکت و جامد بس تماشہ دیکھ رہے ہیں یا اس پر کسی کو ملحوظ رکھ کر کمنٹری کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارا اس دنیا میں کوئی حصہ نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں