کافکا اور میلان کنڈیرا – ترجمے کے مسائل / محمد عامر حسینی

یہ تحریر پڑھنے والوں کو میں آغاز میں ہی متنبہ کر دیتا ہوں کہ اس تحریر کا مقصد اردو میں متون کے ترجمے سے ترجمہ کرنے والوں کو یکسر رد کرنا مقصود نہیں ہے ۔ نہ ہی ان کی خدمات کا انکار کرنا ہے ۔

ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر ایک ایسا رجحان اردو کے تراجم کے بارے میں ابھرا ہے جس رجحان کے علمبرداروں کی اکثریت وہ ہے جنھوں نے ترجمے کے باب میں خود تو کوئی اپنے تئیں بہت معیاری اور مثالی شئے پیش نہیں کی ہے لیکن وہ نوجوان ترجمہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ان پر طعن و طنز کے تیر برسانے میں بہت بے رحمی سے کام لیتے ہیں ۔ میں ترجمے کے باب میں دریدا کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ترجمہ کبھی اس کے اصل متن کا عین نہیں ہوتا بلکہ وہ کچھ فوت ہوجانے اور کچھ باز آفرینی کے ساتھ خود بمنزلہ نئی تخلیق ہوتا ہے ۔ خاص طور پر اصل متن کی صوتیات ترجمے میں اکثر فوت ہوجاتی ہیں ۔ خاص طور پر غنائی ، شعریاتی ، علامت نگاری اور تمثیل کی بلند ترین سطح کو چھونے والے ناولوں کا ترجمہ مشکل ترین کام ہوتا ہے اور اگر مترجم اس طرح کے ناولوں کی فضاء کو 50 فیصد بھی اردو میں منتقل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو وہ اس پر مبارکباد کا مستحق ہے ناکہ اس کا مذاق اڑایا جائے ۔
ورجینیا وولف ، فلوبئیر ، بالزاک ، کافکا اور میلان کنڈیرا کے اصل متون اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔
ہمارے ہاں ناول کی مکمل تنقیدی قرآت کی روایت سرے سے موجود نہیں ہے ۔ جب کہ مغرب میں یہ بہت مضبوط روایت ہے۔
ہمارے ہاں جائس کے کسی ناول پر مفصل تنقیدی قرآت کبھی کی نہیں گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس کے ناول “یولیسس” کے اردو ترجمے پر سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوئی تو کوئی ایک لکھیک ایسا نہیں تھا جس نے یولیسس کے کسی ایک پیراگراف پر بھی کوئی ایسا تنقیدی قرآت پر مبنی مواد ہمارے سامنے نہیں رکھا کہ جسے پڑھنے کے بعد ہم اس کی یولیسس کے پہلے اردو ترجمے پر کوئی صحت مند بحث پڑھ پاتے ۔ حال تو یہ تھا کہ اکثر لکھنے والوں نے پہلے یہ اعتراف کیا کہ انھوں نے یولیسس کا متن پڑھا نہیں ہے اور پھر پوری پوسٹ انور سین رائے کے اردو ترجمے کی مذمت میں لکھ ڈالی ۔ اس طرح کی جرات کرتے ہوئے شرم بھی کسی کو نہیں آئی ۔ کچھ تو ایسے بھی تھے جنھوں نے خود یولیسس کو بے کار ، بے ہودہ اور کسی قدر کے قابل ہونے کا انکار ڈھٹائی سے کیا اور یہ تک لکھ گئے کہ وہ اس کے اصل متن کو بھی پڑھنے کے قابل نہیں سمجھتے تو اس کا اردو ترجمہ کیوں پڑھیں گے ؟ جب کہ یہی لوگ اوسط درجے کے معاصر اردو ناولوں کی تعریف کرتے پائے گئے جن کے لکھے ناولوں کو ہم جائس تو دور کی بات پاپولر انگریزی ناولوں کے برابر کا درجہ بھی نہیں دے سکتے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قرتہ العین حیدر ، عبداللہ حسین ، انتظار حسین ، سجاد انور جیسے ناول نگاروں کی ہجو لکھنے سے بھی باز نہیں رہتے ۔ یہ بے ہودگی ، ولگر ازم تنقید کے نام پر سوشل میڈیا پر خوب دیکھنے کو مل رہی ہے ۔
ان کو یہ بات بھی برداشت نہیں ہوتی کہ ایک ناول کے دو ، دو اردو ترجمے کیوں شایع ہو رہے ہیں ۔ جبکہ ہم انگریزی اور دیگر زبانوں میں ایک ہی ناول کے درجنوں تراجم مارکیٹ میں موجود پاتے ہیں ۔
فکشن کی تنقید اور تحقیق ، متن کی تنقیدی قرآت کے باب میں بھی ان بقراطوں کا رویہ بہت تحقیر آمیز ہے جبکہ یہ فکشن پر ڈھنگ کا ریویو تک لکھنے کے قابل نہیں ہیں ۔ ان کی بے ہودگی ، پھکڑ پن کا اگر سنجیدہ تنقید لکھنے والے کوئی جواب نہیں دیتے تو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی پھیلائی کیچڑ میں پتھر نہ پھینکنے والے ان سے ڈر گئے ہیں ۔

میں جب بھی فرانز کافکا کے ناولوں کو پڑھتا ہوں، تو ایک پرانی الجھن بار بار لوٹ آتی ہے کہ ہم اردو والوں تک جو کافکا پہنچا، وہ اصل کافکا سے کتنا مختلف ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر قارئین نے کافکا کو ایک اداس، پراسرار اور علامتی مصنف کے طور پر جانا، حالانکہ کافکا کے اصل متن کی جان اس کی اداسی میں نہیں بلکہ اس کے اس بے رحم، سپاٹ اور دفتری پن میں تھی جو اس کے جرمن جملوں سے ٹپکتا ہے۔
اس کو سمجھنے کی شروعات ناول کے نام ہی سے ہوتی ہے۔ کافکا کے اس ناول کا اصل جرمن نام ”Der Process“ ہے، جسے جدید جرمن میں ”Der Prozess“ لکھا جاتا ہے۔ اگر اسے اردو کے تلفظ میں بولیں اور لکھیں تو یہ ”دیر پروتْسیس“ بنتا ہے۔ انگریزی والوں نے جب اس کا نام ”دی ٹرائل“ رکھا تو بات صرف عدالت اور مقدمے تک سمٹ گئی۔ لیکن کافکا کے ہاں یہ محض کوئی قانونی مقدمہ نہیں تھا، بلکہ ایک لامتناہی، سرد اور مشینی ”کارروائی“ تھی جس میں ایک بے قصور شہری گھسٹتا چلا جاتا ہے۔
ناول کے ابتدائی دو پیراگراف جب جرمن میں پڑھے جائیں تو ان کا آہنگ بالکل الگ سنائی دیتا ہے۔ اگر جرمن زبان کے ان پہلے دو پیراگراف کو اردو رسم الخط کے صوتی تلفظ میں ڈھالا جائے تو وہ کچھ یوں بنتے ہیں:
پہلا پیراگراف:
”ییمانڈ مُوسٹے یوزف کا فیرلوئمڈیٹ ہابن، ڈین اوہنے داس اَیر ایتواس بیوزیس گیٹان ہیٹے، وُورڈے اَیر آئینیس مورگنس فیرہافٹِٹ۔ ڈی کوئخِن ڈیر فراؤ گروباخ، زائینر زِمر فیرمیٹرن، ڈی اِہم یِیڈن ٹاگ گیگن آخٹ اُوہر فریوہ داس فروہ شٹُوک براخٹے، کام ڈِیسمال نِشٹ۔ داس وار نوخ نِی گیشیہن۔ کا وارٹِٹے نوخ اَین وائلخین، زاہ فون زائینم کوپف کِسن آؤس ڈی آلٹے فراؤ، ڈی اِہم گیگنوئبر وہنٹے اُنڈ ڈی اِہن مِٹ آئینر اَن اِہر گانس اَم گیواؤن لِشن نوئے گیئرڈے بی اوباخٹِٹے، دان آبر، دا اَیر زُوگلائخ ہنگرِش اُنڈ بیفریمڈیٹ وار، لوئٹے ٹے اَیر۔“

دوسرا پیراگراف:
”زو فورٹ کلوپفٹے ایس اُنڈ اَین مان، ڈین اَیر اِن ڈیزر وہنونگ نوخ نِی گیزیہن ہاٹے، ٹراٹ اَین۔ اَیر وار شلانک اُنڈ دوخ فیسٹ گیباؤٹ، اَیر ٹروگ اَین آن لیگینڈیِس شوارتسیس کلائیڈ، داس، اینلِش ڈین رائزے آن زیُوگن، مِٹ فیر شِیڈنن فالٹن، ٹاشن، شنالن، کنوپفن اُنڈ آئینم گوئرٹل فیرزیہن وار اُنڈ اِن فولگے دیسن، اوہنے داس مان زِش ڈارُوئیبر کلار وُورڈے، وو زُو ایس ڈینن زولٹے، بیزونڈرس پراکٹِش اَیرشِین۔ »ویر زِنڈ زی؟« فراگٹے کا اُنڈ ساس گلائخ ہالب آؤف رِشٹ اِم بیٹ۔ ڈیر مان آبر گِنگ اوئیبر ڈی فراگے ہِن ویگ، آلس مُوسے مان زائینے اَیر شائنونگ ہِن نیہمن، اُنڈ زاگٹے بلوس زائینر زائٹس: »زی ہابن گیلوئٹِٹ؟
آنا زول مِیر داس فروہ شٹُوک برنگن«، زاگٹے کا اُنڈ فیر زُوخٹے زُو نَیخسٹ ڈورش شٹل زائن اُنڈ آؤف میرک زام کائٹ فیسٹ زُو شٹیلن، ویر ڈیر مان اَئیگن لِش وار۔“

ان جملوں کے اندر کافکا نے جو الفاظ چنے ہیں، ان کے اپنے خاص معنی ہیں:
Verleumdet (فیرلوئمڈیٹ): بہتان باندھنا، جھوٹی تہمت لگانا۔ یہ عام جھوٹ نہیں بلکہ ایک بدنیتی پر مبنی قانونی الزام ہے۔
Etwas Böses
(ایتواس بیوزیس)
کوئی بدی، گناہ یا شر۔

کافکا نے کسی معمولی ضابطے کی خلاف ورزی کا لفظ نہیں بلکہ اخلاقی شر کا لفظ برتا۔
Eines Morgens
آئینیس مورگنس

ایک صبح۔ سیدھا، بے لاگ اور کھردرا۔
Verhaftet
(فیرہافٹِٹ)
گرفتار کر لیا گیا۔ یہ مجہول فعل ہے، یعنی گرفتار کرنے والی طاقت کا کوئی نام یا چہرہ سامنے نہیں آتا۔
Befremdet
(بیفریمڈیٹ)
ششدر، بدحواس، یا نامانوسیت کا شکار۔
Neugierde
(نوئے گیئرڈے): تانک جھانک، غیر معمولی کھوج۔
Praktisch
(پراکٹِش)

کارآمد، باضابطہ یا دفتری نوعیت کا۔
کافکا کا یہ انداز کہاں سے آیا؟ اس کی وجہ اس کی اپنی نوکری تھی۔ کافکا کوئی پیشہ ور ادیب نہیں تھا جو سارا دن خیالی دنیا میں رہتا۔ وہ پراگ کے سرکاری ادارے، ورکرز ایکسیڈنٹ انشورنس انسٹی ٹیوٹ میں قانونی افسر تھا۔ اس کا کام کارخانوں میں جا کر یہ دیکھنا تھا کہ مشینوں پر کام کرتے ہوئے مزدوروں کے ہاتھ، انگلیاں یا بازو کیسے کٹتے ہیں، پھر ان کٹے ہوئے اعضا کے معاوضے کی قانونی فائلیں تیار کرنا اور مالکان کے خلاف عدالتی رپورٹیں لکھنا تھا۔
اسی کام نے کافکا کو ایک خاص زبان دی جسے جرمن میں ”کانزلائی شٹائل“ (Kanzleistil)
یعنی دفتری یا عدالتی اسلوب کہتے ہیں، جس کی بنیاد ”زاخ لِش کائٹ“ (Sachlichkeit)
یعنی خشک معروضیت پر ہے۔ سرکاری فائل میں جب کسی حادثے کی تفصیل لکھی جاتی ہے تو اس میں درد یا آنسو نہیں ہوتے، صرف تاریخیں، شقیں اور کٹا ہوا عضو درج ہوتا ہے۔ کافکا نے یہی سرد، بے حس اور رپورٹ نما زبان اپنے ناول میں برت لی۔ وہ اتنی بڑی وحشت کو اس طرح بیان کرتا ہے جیسے کوئی پٹواری روزنامچہ لکھ رہا ہو یا کلرک حاضری لگا رہا ہو۔
اگر اسی دفتری سپاٹ پن کو سامنے رکھ کر ان دونوں پیراگراف کا معیاری اور متن سے وفادار ترجمہ کیا جائے تو وہ کچھ یوں بنتا ہے:
ضرور کسی نے یوزف کے. پر بہتان باندھا تھا، کیونکہ بغیر اس کے کہ اس نے کوئی بدی کی ہو، ایک صبح اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے فلیٹ کی مالکن، فراؤ گروباخ کی باورچن جو ہر روز صبح آٹھ بجے کے قریب اس کا ناشتہ لاتی تھی، اس بار نہ آئی۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ کے. نے تھوڑی دیر اور انتظار کیا، تکیے پر سر رکھے ہی اس بوڑھی عورت کو دیکھا جو سامنے والے مکان میں رہتی تھی اور اسے ایک غیر معمولی تجسس سے گھور رہی تھی، پھر بھوک اور الجھن کے ملے جلے احساس کے تحت اس نے گھنٹی بجا دی۔

فوراً ہی دستک ہوئی اور ایک شخص، جسے اس نے اس مکان میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، اندر داخل ہوا۔ وہ پتلا لیکن گٹھے ہوئے جسم کا تھا، اس نے جسم سے چپکا ہوا سیاہ لباس پہن رکھا تھا، جو سفری ملبوسات کی طرح شکنوں، جیبوں، بکلوں، بٹنوں اور ایک پیٹی سے لیس تھا، اور اس بنا پر، بغیر یہ سمجھے کہ یہ سب کس کام کے لیے ہے، خاصا کارآمد دکھائی دیتا تھا۔
”آپ کون ہیں؟“
کے. نے پوچھا اور بستر پر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ مگر وہ آدمی اس سوال کو یوں نظر انداز کر گیا جیسے اس کی موجودگی ایک طے شدہ بات ہو، اور الٹا بولا:
”آپ نے گھنٹی بجائی تھی؟“
”آنا کو میرا ناشتہ لانا چاہیے،“
کے. نے کہا، اور پہلے تو خاموشی اور غور سے یہ بھانپنے کی کوشش کی کہ اصل میں یہ شخص ہے کون۔

اس متن کے ساتھ سب سے پہلا ہاتھ انگریزی کے ابتدائی مترجمین، ایڈون اور ولا میور نے کیا۔ انہوں نے 1930ء کی دہائی میں کافکا کو برطانوی ادبی سانچے میں ڈھالنے کے چکر میں اس کی زبان کو نرم اور خوبصورت بنا دیا۔ کافکا نے سیدھا لکھا تھا کہ
”ایک صبح اسے گرفتار کر لیا گیا“
انہوں نے محاورہ چمکانے کے لیے اسے ”ایک سہانی صبح“
(one fine morning)
لکھ دیا۔

کافکا کی تحریر کی وہ سرد کاٹ مٹ گئی اور ناول وکٹورین دور کی کسی پرانی کہانی جیسا لگنے لگا۔ دہائیوں بعد 1998ء میں جا کر بریون مچل نے مسودات کا تقابل کیا اور کافکا کے اصل جرمن اسلوب کی وہ کھردری معروضیت انگریزی میں واپس لوٹائی۔
ہمارے خطے میں یہ مسئلہ اور بھی بڑھ گیا۔ برصغیر اور پاکستان میں عالمی ادب زیادہ تر انگریزی کے راستے آیا۔ جب اصل انگریزی ترجمہ ہی بگڑا ہوا تھا، تو اس انگریزی سے اردو بناتے وقت وہ متن سے اور بھی دور ہو گیا۔
ہمارے ہاں بہت کم لوگ ایسے گزرے جنہوں نے کسی زبان کے اصل متن کی روح کو سمجھ کر اردو میں ڈھالا ہو۔

اس کی سب سے بڑی اور روشن مثال ماسکو کے دار الاشاعت سے چھپنے والے روسی ناول اور کہانیاں ہیں۔ وہاں ظ انصاری نے ٹالسٹائی، چیخوف اور گورکی کا جو ترجمہ روسی سے براہِ راست اردو میں کیا، اس کا کوئی ثانی نہیں۔

ظ انصاری نے روسی معاشرت کے پیچیدہ معاملات کو اردو کا ایسا سچا، رواں اور ٹھیٹھ محاورہ دیا کہ قاری کو کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔

اسی طرح محمد حسن عسکری نے جب مادام بوواری یا دیگر فرانسیسی ادب پر کام کیا تو انہوں نے فرانسیسی زبان کے اندرونی تضادات اور اس کے تیکھے پن کو اردو میں زندہ رکھا، کیونکہ وہ انگریزی کے محتاج نہیں تھے۔
بدقسمتی سے کافکا کو اردو میں کوئی ظ انصاری یا حسن عسکری نہ مل سکا۔ ہمارے ہاں کافکا کے جتنے بھی ترجمے ہوئے، وہ میور جوڑے کے اسی پرانے انگریزی ترجمے سے کیے گئے۔ مترجمین نے کافکا کے اس بے نام، مشینی اور دفتری نظام کے خوف کو سمجھنے کے بجائے اردو کی روایتی رقت آمیزی اور بھاری لفاظی میں لپیٹ دیا۔ کافکا کے کردار روتے پیٹتے نہیں ہیں، وہ تو ایک اندھے نظام کے فارموں اور احکامات میں کچلے جاتے ہیں۔ جب تک کافکا کو اس کے اپنے دفتری اور قانونی لہجے کے ساتھ اردو میں نہیں برتا جائے گا، ہم اس کے اصل متن اور اس کی دہشت سے دور ہی رہیں گے۔
میں جب بھی میلان کنڈیرا کو پڑھتا ہوں، اور خاص طور پر محمد عمر میمن کے کیے ہوئے اردو تراجم کو دیکھتا ہوں، تو دل میں بیک وقت دو احساس جاگتے ہیں۔ ایک طرف عمر میمن صاحب کی اردو زبان پر بلا کی گرفت اور ان کے اسلوب کی خوبصورتی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے، مگر دوسری طرف یہ حقیقت بھی سامنے کھڑی رہتی ہے کہ یہ خوبصورت اردو دراصل میلان کنڈیرا کے اصل متن کا چہرہ مسخ کر کے بنی ہے۔
کنڈیرا کی اصل زبان چیک
(Czech)
تھی، اور وہ بعد میں فرانسیسی میں بھی لکھنے لگے تھے۔ ان کے دو شاہکار ناولوں کے اصل نام اور ان کا اردو تلفظ کچھ یوں ہے:
Nesnesitelná lehkost bytí
چیک تلفظ
”نیس نیسیتیلنا لیہکوسٹ بیتی“
معیاری اردو مترادف:

”ہستی کا ناقابلِ برداشت ہلکا پن“
یا
”وجود کی ناقابلِ برداشت سبکی“۔
انگریزی میں اسے
The Unbearable
Lightness of Being
کہا گیا۔
Žert
چیک تلفظ
”ژیرت“
(اس میں پہلا حرف نرم ‘ژ’ ہے جیسے ژالہ باری میں)
معیاری اردو مترادف: ”مذاق“ یا ”ٹھٹھا“۔
انگریزی میں اس کا نام
The Joke
رکھا گیا۔
کنڈیرا کے شاہکار ناول
Nesnesitelná
lehkost bytí
کا سب سے مشہور افتتاحی جملہ جب چیک زبان میں پڑھیں تو اس کا تلفظ یوں بنتا ہے:
”مِش لینکا او ویچنیم ناوراتو یے تاییمنا آ نیتشے یی اوویدل اوستاتنی فیلوزوفی دو روزپاکو: پومیسلِت، ژے بی سے ییدنؤ وشیخنو اوپاکووالو، یاکو یِسمے تو اُژ زازیلی، آ ژے بی سے ای تو اوپاکووانی ییشتے دو نیکونیچنا اوپاکووالو!“

اس جملے کے اہم چیک الفاظ اور ان کے معیاری اردو معنی یہ ہیں:
Myšlenka (مِش لینکا):
خیال، سوچ یا تصور۔
Věčný návrat
(ویچنی ناورات)
ابدی بازگشت (ہمیشہ کا لوٹ آنا)۔
Tajemná (تاییمنا)
پراسرار، بھید بھری۔
Rozpaky (روزپاکی)
الجھن، مخمصہ یا تذبذب۔
Opakování (اوپاکووانی)
تکرار، دہرایا جانا۔
Lehkost (لیہکوسٹ)
سبکی، ہلکا پن۔
Bytí (بیتی)
وجود، ہستی۔
اس جملے کا معیاری، سیدھا ترجمہ یوں بنے گا:
”ابدی بازگشت کا تصور پراسرار ہے اور نطشے نے اس سے دوسرے فلسفیوں کو مخمصے میں ڈال دیا: یہ سوچنا کہ ایک دن سب کچھ ویسے ہی دہرایا جائے گا جیسا ہم جھیل چکے ہیں، اور یہ کہ خود اس تکرار کو بھی لامتناہی حد تک دہرایا جاتا رہے گا!“
اب ذرا دیکھیے کہ انگریزی مترجمین نے کنڈیرا کے ساتھ کیا واردات کی۔
کنڈیرا اپنی کتاب
The Art of the Novel
اور
Testaments Betrayed
میں خود چیخ اٹھا تھا کہ مترجمین نے اس کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ انگریزی کے معروف مترجم مائیکل ہنری ہائم (Michael Henry Heim)
اور دوسرے مترجمین کو انگریزی کی ایک پرانی بیماری لاحق تھی جسے ”مترادفات کی بیماری“
(Synonymitis)
کہا جاتا ہے۔ انگریزی اسلوب میں ایک ہی لفظ کو بار بار دہرانا برا سمجھا جاتا ہے۔
کنڈیرا ایک موسیقار کا بیٹا تھا اور وہ اپنے ناولوں کو موسیقی کی طرح ترتیب دیتا تھا۔ اس کے خاص الفاظ، جیسے ”سبکی“، ”بھاری پن“، یا ”تکرار“، راگ کی طرح بار بار لوٹتے تھے۔
مگر انگریزی مترجمین نے اپنی روانی دکھانے کے لیے ایک ہی لفظ کو ہر صفحے پر چار الگ الگ انگریزی الفاظ میں بدل ڈالا۔
اس سے کنڈیرا کی پوری فکری عمارت اور اس کا اندرونی سر تال ٹوٹ گیا۔
دوسری غلطی یہ کی کہ کنڈیرا کی زبان بڑی نپی تلی، سپاٹ، خشک اور طنزیہ تھی۔
انگریزی مترجمین نے اس میں جذباتیت گھول دی اور جملوں کو لمبا اور سجاوٹی بنا دیا۔
کنڈیرا اس قدر ناراض ہوا کہ اس نے برسوں بیٹھ کر اپنے تمام انگریزی اور فرانسیسی تراجم پر نظرثانی کی اور ان کی درستگی کروائی۔
بدقسمتی سے یہی خرابی ہمارے ہاں عمر میمن کے ترجمے میں بھی در آئی۔
عمر میمن صاحب نے کنڈیرا کا ترجمہ براہِ راست چیک یا فرانسیسی زبان سے نہیں کیا تھا، بلکہ انگریزی متن سے کیا۔ چنانچہ انگریزی ترجمے کے اندر جو تحریفات پہلے سے موجود تھیں، وہ خود بخود اردو میں منتقل ہو گئیں۔
مگر اس سے بڑا المیہ عمر میمن صاحب کا اپنا ادبی ذوق تھا۔ عمر میمن کلاسیکی، ثقیل اور انتہائی خوبصورت فارسی آمیز اردو کے شیدائی تھے۔ وہ سیدھی بات کو بھی شاندار ادبی جاہ و جلال کے ساتھ لکھتے تھے۔ کنڈیرا کا جادو اس کے ڈھیلے اور پھولدار جملوں میں نہیں ہے؛ اس کی طاقت تو اس کی ریاضیاتی صفائی اور طنزیہ معروضیت میں ہے۔
عمر میمن نے کنڈیرا کی اس سرد اور تیز دھار زبان پر روایتی اردو انشا پردازی کی چادر چڑھا دی۔
جہاں کنڈیرا نے ایک بے رحمانہ اور مختصر جملہ لکھا تھا، عمر میمن نے وہاں مترادفات کی ریل پیل کر دی اور اسے ایسا پیچیدہ اور سجا سجایا بنا دیا جیسے وہ دلی یا لکھنؤ کا کوئی پرانا قصہ ہو۔
قاری کو لگتا ہے کہ وہ بہت شاندار اردو پڑھ رہا ہے، مگر اس خوبصورت غبار کے پیچھے کنڈیرا کا اصل فکری ڈھانچہ، اس کی سادگی اور اس کے ناولوں کا اصل طنز دم توڑ دیتا ہے۔
میں جب محمد عمر میمن کا ترجمہ کیا ہوا یہ عنوان دیکھتا ہوں
”وجود کی ناقابل برداشت لطافت“
تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ مترجم نے فلسفیانہ مفہوم پر اپنی پسند کی روایتی ادبی چاشنی قربان کر دی۔
اس ناول کا اصل عنوان، اس کا تلفظ اور اس کی اصل روح کچھ یوں بنتی ہے:
اصل چیک عنوان

Nesnesitelná lehkost bytí
اردو تلفظ:
”نیس نیسیتیلنا لیہکوسٹ بیتی“
معیاری اردو ترجمہ
”ہستی کا ناقابلِ برداشت ہلکا پن“
یا
”وجود کی ناقابلِ برداشت سبکی“
عمر میمن کے ترجمے کی بنیادی خامی: ”لطافت“ کا فکری بگاڑ
عمر میمن صاحب نے چیک لفظ
lehkost
(انگریزی: Lightness)
کا ترجمہ ”لطافت“ کر کے ناول کے پورے فلسفے کا رخ ہی موڑ دیا۔ اس انتخاب میں دو بنیادی خامیاں ہیں
1. جمالیاتی صفت بمقابلہ مادی و فلسفیانہ ضد
اردو اور فارسی میں لفظ ”لطافت“ ہمیشہ ایک مثبت، پاکیزہ اور نازک مفہوم رکھتا ہے۔ لطافت کا تعلق نزاکت، خوبصورتی، نفاست اور روحانی پاکیزگی سے ہے (جیسے ہوا کی لطافت، مزاج کی لطافت، یا شعر کی لطافت)۔ جب قاری لفظ ”لطافت“ سنتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک خوشگوار اور دلکش احساس ابھرتا ہے۔
حالانکہ کنڈیرا کے ہاں اس لفظ کا حسن یا نزاکت سے کوئی لینا دینا نہیں۔
کنڈیرا نے یہ تصور قدیم یونانی فلسفی پارمینائیڈز (Parmenides) سے لیا تھا، جہاں کائنات دو متضاد جوڑوں پر کھڑی ہے: ”بھاری پن بمقابلہ ہلکا پن“
Weight
vs Lightness
ثقل بمقابلہ سبکی
کنڈیرا پوچھتا ہے کہ بوجھ اچھا ہے یا ہلکا پن؟
2. بے وزنی کا خوف، نہ کہ نزاکت کا احساس
کنڈیرا کا پورا المیہ یہ ہے کہ اگر انسانی زندگی میں کوئی ابدی مقصد، کوئی بوجھ اور کوئی ذمہ داری نہ ہو، تو انسان بے وزن ہو کر ہوا میں اڑنے لگتا ہے۔ اعمال کا کوئی وزن نہیں رہتا، سب کچھ لایعنی اور بے وقعت ہو جاتا ہے۔
یہ آزادی انسان کو خوشی نہیں دیتی بلکہ ایک ہولناک چکر
(Vertigo)
میں مبتلا کر دیتی ہے۔
یہی وہ ”ہلکا پن“ (سبکی) ہے جو کرداروں کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتا ہے۔
جب عمر میمن اسے ”لطافت“ کہتے ہیں تو لگتا ہے کہ جیسے وجود اتنا نازک، نفیس اور حسین ہو گیا ہے کہ سہا نہیں جا رہا۔ یہ تصوف اور شاعری کی زبان تو ہو سکتی ہے، مگر کنڈیرا کا تیکھا اور بے رحم وجودی طنز نہیں ہو سکتی۔
اگر وہ یہاں روایتی لفاظی کے بجائے روزمرہ کا سادہ لفظ ”ہلکا پن“ یا کلاسیکی مگر سائنسی لفظ ”سبکی“ استعمال کرتے، تو قاری فوراً سمجھ جاتا کہ بات وزن، بوجھ اور بے وقعتی کی ہو رہی ہے، کسی شاعرانہ نزاکت کی نہیں۔

میں جب اس جملے کو پڑھتا ہوں، تو مجھے صاف نظر آتا ہے کہ یہ میلان کنڈیرا کے ناول
”L’Identité“
(انگریزی: Identity / اردو: شناخت)
کا ایک انتہائی اہم نفسیاتی لمحہ ہے، مگر یہ جملہ انگریزی نحو کے بوجھ تلے دب کر اپنی روانی کھو بیٹھا ہے۔
کنڈیرا نے یہ ناول اپنی مادری زبان چیک کے بجائے براہِ راست فرانسیسی زبان میں لکھا تھا۔ ناول کا مرکزی کردار ژاں مارک (Jean-Marc)
جب اپنی محبوبہ شانتال
(Chantal)
کو خفیہ نام سے عشقیہ خطوط لکھنا شروع کرتا ہے، تو وہ فرانسیسی ڈراما نگار ایڈمنڈ روسٹاں کے مشہور کردار سیرانو دی برژراک
(Cyrano de Bergerac)
کی نفسیات پر غور کرتا ہے۔ سیرانو اپنی بدہیئت لمبی ناک کی وجہ سے روکسان کے سامنے آنے سے ڈرتا تھا، اس لیے اس نے خوبرو کرسچن کی اوٹ لے کر اپنے دل کی بات کہی تھی۔
اصل فرانسیسی متن میں یہ جملہ کچھ یوں بنتا ہے:
اصل فرانسیسی متن:
Cyrano, cet homme qui aime une femme, lui déclare son amour derrière le masque d’un autre homme, et qui, délivré de la prison de son nom, voit se libérer soudain son éloquence et son ardeur.
فرانسیسی تلفظ (اردو رسم الخط میں):
”سی-را-نو، سیت اوم کی ایم اون فام، لوئی دیکلار سوں امور دیریئر لے ماسک دَن اوترے اوم، اے کی، دیلیورے دُو لا پریزوں دُو سوں نوں، ووا سے لیبیرے سوداں سوں اے-لو-کونس اے سوں آردیر۔“
اس کے اہم فرانسیسی الفاظ اور ان کے معیاری مفاہیم یہ ہیں:
Déclare son amour
(دیکلار سوں امور):
اپنے عشق کا اعتراف کرتا ہے / دل کا حال کہتا ہے (محض ’اظہار‘ نہیں، بلکہ باقاعدہ اقرار)۔
Derrière le masque
(دیریئر لے ماسک)
نقاب کے پیچھے سے / کسی کی اوٹ لے کر۔
Prison de son nom
پریزوں دُو سوں نوں
اپنے نام کا قید خانہ۔
Éloquence
(اے-لو-کونس)
گویائی، فصاحت، بات کرنے کا سلیقہ۔
Ardeur / Fougue
(آردیر / فوگ)
جذبے کی تپش، ولولہ یا وارفتگی۔
تقابلی جائزہ اور ترجمے کے نقائص
پیش کردہ اردو جملے کو جب اصل فرانسیسی اور اس کے انگریزی واسطے کے سامنے رکھیں، تو تین بڑی اسلوبیاتی خامیاں کھل کر سامنے آتی ہیں:
1. ضمائر کی الجھن اور بے تکا پن
اردو جملے کی بناوٹ دیکھیے:
”عورت سے محبت کرتا ہے، اس سے اس کا اظہار کسی اور آدمی کے نقاب کے پیچھے سے کرتا ہے…“
یہاں ”اس سے اس کا اظہار“ انگریزی ترکیب (expresses it to her)
کا لفظی چربہ ہے۔
اردو میں پے در پے ضمائر کا یہ ٹکراؤ کانوں کو کھٹکتا ہے۔
اصل فرانسیسی میں یہ الجھن نہیں ہے، وہاں سیدھی بات ہے کہ وہ نقاب کی اوٹ میں رہ کر اپنا عشق ظاہر کرتا ہے۔
2. مرجعِ ضمیر کا جھول (گرائمر کی غلطی)
جملے کا اگلا ٹکڑا ہے:
”…کسی اور آدمی کے نقاب کے پیچھے سے کرتا ہے، جو اپنے نام کی قید و بند سے آزاد ہو کر…“
اردو قواعد کی رو سے لفظ ”جو“ اپنے سے فوراً پہلے آنے والے اسم یعنی ”کسی اور آدمی“ سے جڑ جاتا ہے۔
اس سے قاری کو لگتا ہے کہ شاید وہ ”دوسرا آدمی“ اپنے نام کی قید سے آزاد ہوا ہے!
حالانکہ اصل متن میں آزاد وہ دوسرا آدمی نہیں بلکہ خود سیرانو ہوا ہے، جس نے دوسرے کے نقاب کے پیچھے چھپ کر اپنے اندر کی جھجھک توڑی تھی۔
انگریزی اور فرانسیسی میں تو یہ بات واضح رہتی ہے، مگر اردو میں لفظی ترجمے نے فاعل اور مفعول کو گڈمڈ کر دیا۔
3. ”رہا شدہ“ کی بد اسلوبی
”اپنی اچانک رہا شدہ فصاحت…“
یہ انگریزی اصطلاح
suddenly
liberated eloquence
کا بے حد خشک اور مشینی ترجمہ ہے۔ ”رہا شدہ“ کا لفظ اردو میں قیدیوں یا حوالاتیوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ فصاحت، گویائی یا جذبے کے لیے اردو میں ”رہا شدہ“ نہیں کہا جاتا۔ فرانسیسی میں اس کا مطلب ہے وہ گویائی جو جھجھک کی زنجیریں ٹوٹنے کے بعد اچانک کھل گئی ہو، یا امڈ آئی ہو۔
اسی طرح لفظ ”وفور“ کو جس طرح اکیلا لٹکا دیا گیا ہے، وہ جملے کو غیر فطری بناتا ہے۔
اصل میں یہ اس کے جذبے کی تپش، ولولہ یا وارفتگی تھی۔
معیاری اور فطری اردو متبادل
اگر انگریزی کی نحو سے پیچھا چھڑا کر، فرانسیسی متن کی نفسیاتی باریکی کو سامنے رکھا جائے، تو یہ جملہ اردو میں یوں ڈھلنا چاہیے:

”سیرانو، جو ایک عورت کے عشق میں گرفتار ہے، اپنے دل کا حال کسی دوسرے شخص کے نقاب کی اوٹ سے کہتا ہے؛ اور اپنے نام کے قید خانے سے چھوٹتے ہی، اس پر اپنی گویائی اور جذبے کا وہ وفور کھلتا ہے جو اچانک بے باک ہو چکا تھا۔“

اس صورت میں جملہ بغیر کسی گرائمری الجھن کے سیدھا دل میں اترتا ہے اور کنڈیرا کی کہی ہوئی اصل نفسیاتی حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔

میں جب کنڈیرا کے ناول
”شناخت“
(L’Identité)

میں ژاں مارک اور شانتال کے اس المیے کو دیکھتا ہوں، تو مجھے لگتا ہے کہ یہ محض دو محبت کرنے والوں کی کہانی نہیں ہے، بلکہ محبت کے اندر چھپے اس شدید خوف کی داستان ہے جہاں انسان اپنے سب سے قریبی شخص کے چہرے میں اچانک ایک اجنبی کو دیکھنے لگتا ہے۔
اس پورے بحران کی چنگاری ساحل کے ایک چھوٹے سے قصبے میں سلگتی ہے۔ شانتال معمول کے انداز میں، قدرے اداسی سے ژاں مارک سے ایک جملہ کہتی ہے:

”مرد اب مجھے مڑ کر نہیں دیکھتے۔“

شانتال کے لیے یہ محض ڈھلتی عمر کا ایک دکھ تھا، لیکن ژاں مارک کے دل پر یہ جملہ ہتھوڑے کی طرح لگتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کی محبوبہ اندر سے اداس ہے، اس کے اندر کی عورت مر رہی ہے، اور خود اس کی اپنی محبت شانتال کو وہ تسلی نہیں دے پا رہی جو باہر کی دنیا کی نظریں دیتی تھیں۔
یہیں سے ژاں مارک وہ خطرناک کھیل شروع کرتا ہے جس کی بنیاد سیرانو کی نفسیات پر تھی۔ وہ اپنا نام چھپا کر، ایک گمنام عاشق کے روپ میں شانتال کو باقاعدگی سے خطوط بھیجنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ اس کے جسم، اس کی چال اور اس کے وجود کی ایسی تعریفیں کرتا ہے جو وہ سامنے بیٹھ کر شاید کبھی نہ کر پاتا۔ نقاب کی اوٹ ملتے ہی اس کا جھجھکتا ہوا قلم اچانک کھل جاتا ہے۔
اسے گمان تھا کہ یہ خطوط شانتال کا کھویا ہوا اعتماد لوٹا دیں گے، لیکن یہیں سے کنڈیرا اپنے مخصوص وجودی موڑ کو سامنے لاتا ہے۔
شانتال ان خطوط کو پڑھ کر خوش تو ہوتی ہے، اس کی نسوانی انا جاگ اٹھتی ہے، لیکن وہ یہ بات ژاں مارک سے چھپا لیتی ہے۔ وہ ان خطوط کو اپنی الماری میں، اپنے کپڑوں کے نیچے چھپا کر رکھتی ہے۔ ژاں مارک جب یہ چوری پکڑتا ہے تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل جاتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ شانتال نے مجھ سے بے وفائی کی، اس نے ایک غیر مرد کی تحریروں کو اپنے دل میں پناہ دی حالانکہ لکھنے والا وہ خود تھا۔
دوسری طرف شانتال کے لیے یہ خطوط ایک بھیانک تانک جھانک بن جاتے ہیں۔ وہ ہر راہ چلتے مرد کو، دفتر کے ساتھیوں کو، اور اجنبیوں کو اس شبہے سے دیکھنے لگتی ہے کہ شاید ان میں سے کوئی ہے جو اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ اس کی اپنی ذات تقسیم ہو جاتی ہے؛ ایک وہ شانتال جو ژاں مارک کے ساتھ جی رہی ہے، اور ایک وہ شانتال جو اس پوشیدہ نظر کے کینوس پر سانس لے رہی ہے۔
کنڈیرا یہاں ایک بہت گہرا سوال اٹھاتا ہے:

”ہمیں زندہ رکھنے کے لیے کس کی نظر درکار ہے؟“
کیا ہمیں اس شخص کی نظر چاہیے جو ہم سے روزمرہ زندگی میں محبت کرتا ہے، یا ہمیں اس سماج اور اجنبی دنیا کی تصدیق چاہیے جو ہمیں مڑ کر دیکھتی ہے؟
ژاں مارک نے نقاب اوڑھ کر یہ ثابت کرنا چاہا کہ وہ شانتال کو بچا رہا ہے، لیکن حقیقت میں اس نے ان دونوں کے درمیان جو اعتماد کا نازک پل تھا، اسی کو بارود سے اڑا دیا۔
ناول کے آخری حصے میں جا کر تو یہ کھیل اتنا الجھ جاتا ہے کہ حقیقت اور ڈراؤنے خواب کی سرحد ہی مٹ جاتی ہے۔ شانتال لندن چلی جاتی ہے، ژاں مارک اس کے پیچھے بھاگتا ہے، اور قاری کو یہ سمجھنا محال ہو جاتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سچ ہے یا دونوں میں سے کسی ایک کا ہذیان۔
مجھے لگتا ہے کہ کنڈیرا نے اس ناول میں محبت کا سب سے بڑا المیہ کھول کر رکھ دیا: ہم جس چہرے کو سالہا سال سے جانتے ہیں، کیا وہ واقعی وہی چہرہ ہے؟ یا ایک ذرا سا نقاب، ایک جھوٹا خط، یا ایک لمحے کا تذبذب اس چہرے کو ہمیشہ کے لیے ایک بے نام بھیڑ میں تبدیل کر دیتا ہے؟ یہی وہ شناخت کی گمشدگی ہے جس نے اس ناول کو محبت کا ایک تاریک اور لرزا دینے والا فلسفہ بنا دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں