بھارت میں ماہرین کے مطابق اگرچہ مردوں میں Type 2 Diabetes کے کیسز زیادہ دیکھے جاتے ہیں، لیکن خواتین میں یہ بیماری زیادہ سنگین پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ ذیابیطس خواتین میں دل کے امراض، گردوں کے مسائل، ڈپریشن اور ہارمونل خرابیوں کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ذیابیطس کی شکار خواتین میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہو سکتا ہے، جس کی بڑی وجہ ہارمونز میں بار بار آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ بلوغت، حمل اور مینوپاز جیسے مراحل خون میں شوگر کے توازن کو متاثر کرتے ہیں۔
خواتین میں اس بیماری کے بڑھنے کی دیگر وجوہات میں پیٹ کے گرد چربی، جسمانی سرگرمی کی کمی، ذہنی دباؤ، غیر متوازن خوراک اور خاندانی تاریخ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حمل کے دوران ہونے والی Gestational Diabetes بھی بعد کی زندگی میں مستقل ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔


