پاکستان کا سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر شدید تناؤ اور عدم استحکام کی زد میں نظر آ رہا ہے۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے اندر جاری قانونی و انتظامی امور اور قیدیوں کے حقوق پر بحث اب سڑکوں پر ایک بڑے سیاسی لانگ مارچ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ سہیل خاں آفریدی نے صوبائی قیادت، بالخصوص جنید اکبر اور عاطف خاں کے ساتھ طے شدہ حکمت عملی کے تحت لکی مروت کے مقام گنڈی چوک سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آج سے باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس احتجاجی کارواں میں ٹانک، ڈی آئی خان، بنوں اور شمالی و جنوبی وزیرستان کے لوگ شامل ہو رہے ہیں۔ اعلانات کے مطابق یہ قافلہ رات کو کرک کے قریب قیام کرے گا اور اگلے مرحلے میں 5 اکتوبر کو کرک سے مزید لوگوں کی شمولیت کے بعد اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کرے گا۔ یہ تمام سیاسی تحرک گزشتہ کچھ عرصے سے جاری حکومتی و اپوزیشن دباؤ کا ایک اہم اور حساس موڑ شمار کیا جا رہا ہے۔
۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسپیکر چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن کی اعلیٰ سطح کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان ہونے والی نشستیں بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی ہیں۔ مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا ہونے کے بعد دونوں فریقین اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ دوسری طرف وفاقی حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے اور دارالحکومت کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کی اہم شاہراہوں پر 24 ہزار سے زیادہ کنٹینرز، خاردار تاریں اور خندقیں قائم کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، ایف سی اور رینجرز کے 30 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار بھی 15 اکتوبر تک تعینات رکھے گئے ہیں، جس کے باعث جڑواں شہروں کا عام شہری نظام اور معاشی سرگرمیاں شدید متاثر نظر آتی ہیں۔
۔
خیبر پختونخوا حکومت اور اپوزیشن وفد نے مذاکرات کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور معالجے سے متعلق اہم مطالبات پیش کیے تھے۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے ایک ایسا خود مختار میڈیکل بورڈ بنایا جائے جس میں شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹر فیصل سلطان اور عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی لازماً شامل کیا جائے۔ مزید برآں، اپوزیشن کا کہنا تھا کہ اس بورڈ کو یہ اختیار بھی حاصل ہونا چاہیے کہ وہ یہ تجویز دے سکے کہ عمران خان جیل میں رہیں گے یا انہیں کسی پرائیویٹ ہسپتال مثلاً شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے وی وی آئی پی کمرے میں منتقل کیا جائے گا۔ تاہم، وفاقی حکومت اور اس کی مذاکراتی ٹیم کے لیے یہ مطالبات محض طبی نوعیت کے نہیں بلکہ انتظامی اور قانونی اصولوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں شامل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، مشیرِ وزیراعظم رانا ثناء اللہ، مرکزی راہنما انجینئیر امیر مقام، وزیر مملکت طلال چوہدری اور پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذاکرات میں تعطل کی اصل وجہ خیبر پختونخواہ حکومت کا سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر تعاون نہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسودے میں 4 مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں، لیکن صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی آئینی یقین دہانی کروانے سے ہچکچا رہی تھی۔ حکومتی مذاکرات کاروں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں اور علاج سے متعلق تحفظات پر جیل قوانین کے مطابق پیشرفت ہو سکتی تھی، لیکن ملکی سلامتی کے امور پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کے دائرے سے باہر نکل کر لانگ مارچ یا کسی قسم کا انتشار پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
۔
اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے متوازن ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ کو دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے صوبائی حکومت کو وفاق کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سیاسی بحران کی وجہ سے اسلام آباد پچھلے کئی دنوں سے بند پڑا ہے، جس سے عام شہریوں کو اذیت اور معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ احتجاج کی پالیسی کو ترک کر کے معاملات کا سیاسی اور آئینی حل تلاش کرے۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر سیکیورٹی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو ایمرجنسی کے نفاذ یا گورنر راج لگانے جیسے سخت مگر آئینی آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے۔
۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کے اراکین پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کی فراہمی پر حکومتی لچک نہ دکھانے کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی تک ان کے ذاتی معالج کی رسائی اور باقاعدہ ملاقات کا معاملہ حل نہیں ہو سکا، جبکہ بنوں اور متاثرہ علاقوں میں آپریشنز اور آئی ڈی پیز کے حوالے سے بھی تحفظات موجود تھے۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ لانگ مارچ ایک آئینی اور جمہوری طریقہ کار ہے اور سیاست میں مذاکرات کے راستے کبھی مکمل طور پر بند نہیں ہوتے، اس لیے امید ہے کہ آئندہ کوئی درمیانی راہ نکل سکے گی۔
۔
سیاسی اور انتظامی نقطہ نظر سے یہ پورا تنازع پاکستان پریزن رولز 1978 کے ضوابط کے گرد گھومتا ہے۔ قانون کے مطابق زیرِ سماعت قیدی اور سزا یافتہ قیدی کے حقوق اور ملاقاتوں کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ عام قوانین کے تحت ایک زیرِ سماعت قیدی ہفتے میں ایک بار اپنے اہلخانہ سے مل سکتا ہے، جبکہ سزا یافتہ قیدی کے لیے پندرہ دن میں ایک بار ملاقات کی حد مقرر ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے کیس میں توشہ خانہ، سائفر اور دیگر مقدمات کی سماعتوں کے دوران اعلیٰ عدالتوں نے خصوصی احکامات دیے تھے۔ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور چیف جسٹس عامر فاروق کی ہدایت پر عمران خان کو ہفتے میں دو دن یعنی منگل اور جمعرات کو اہلخانہ، وکلاء اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔
۔
تاہم جیل انتظامیہ کا موقف ہے کہ سیکیورٹی حالات اور جیل مینوئل کی شقوں، بالخصوص رول 541 اور 547 کے تحت نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اسد جاوید وڑائچ سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دے کر وقتاً فوقتاً ملاقاتوں کو ملتوی یا منسوخ کرتے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم اس روئیے کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرتی رہتی ہے، جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایچ آر سی پی جیسی تنظیمیں بھی جیلوں میں قیدیوں کے حقوق کی فراہمی پر زور دیتی رہی ہیں۔
۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور تحقیقی جریدے، جیسے رائٹرز، بی بی سی، الجزیرہ، دی گارڈین، ٹائم میگزین اور دی اکانومسٹ، پاکستان کے اس سیاسی تعطل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت معاشی چیلنجز اور 130 ارب ڈالرز کے بھاری بھرکم قرضوں کے دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں مسلسل سیاسی عدم استحکام اور سڑکوں کی بندش ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ پچھلے 1,100 سے زائد دنوں سے قید بانی پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت اور حکومت کی انتظامی حکمت عملی کے درمیان یہ تناؤ ملک کو ایک بار پھر مفاہمت کی ضرورت کا احساس دلا رہا ہے۔ اگر دونوں فریقین نے سیاسی بصیرت اور لچک کا مظاہرہ نہ کیا تو اس تعطل کے اثرات ملکی معیشت اور آئینی نظام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ دونوں فریقین ایک ایک قدم پیچھے ہٹیں اور مذاکرات کو اپنی سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنے کی بجائے ملکی مفادات کے تحت کامیاب کروانے کی کوشش کریں۔


