زیر نظر مضمون انتھونی ڈی سٹیپانو کی کتاب
INSIDE THE ATHEIST MIND
کا اردو خلاصہ ہے۔
مصنف دعویٰ کرتا ہے کہ دنیا میں جتنے بھی کارنامے سرانجام دیے گئے ہیں وہ ملحدوں نے نہیں، بل کہ ان لوگوں نے سرانجام دیے ہیں جو خدا پر یقین رکھتے تھے۔ مصنف یہاں صرف سائنس دانوں کا ذکر کرتا ہے کہ ارسطو، فرانسس بیکن، لیونارڈو ڈیوانچی، آئزک نیوٹن، ڈینیل برنولی، رونٹجین، میکس پلانک، میکس بورن، کوپرنیکس، کیپلر، ٹرنر، انتھونی لیو زیر، فیراڈے، لوئس پاسچر، ویلیم ہاروی، جوزف مرے، ایرنیسٹ والٹن، مارکونی، ڈارون، گریگر مینڈل، جارج لیمیٹر اور دیگر کئی سائنس دان خدا پر یقین رکھتے تھے۔ اگر خدا پر یقین کرنے والے فاتحین، مؤرخین، مجسمہ ساز، ناول نگار، شعرا، جرنیل، سیاح اور ڈاکٹروں کا ذکر بھی کیا جائے تو یہ بحث بہت طویل بن سکتی ہے۔
مصنف لکھتا ہے کہ جدید دور کے ملحد کی سب سے بڑی پہچان غرور اور جہالت ہے۔ وہ اپنے والدین، اساتذہ، اسلاف اور ہم عمر لڑکوں کے لیے کوئی احترام نہیں رکھتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس بہت علم ہے، مگر سچ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ ان کو اپنی دولت، گھر، گاڑی، کپڑوں اور زیورات وغیرہ پر بہت ناز ہوتا ہے۔ ان کے پاس علم کے بجائے محض معلومات ہوا کرتے ہیں اور بے جا فخر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یوں وہ ہر جگہ فیصلہ سازی کے عمل پر بری طرح اثر انداز بھی ہو جاتے ہیں، جس کا نتیجہ لازماً خطرناک ہوتا ہے۔
ان کا گمان ہوتا ہے کہ خدا پر یقین رکھنا تہذیب کے لیے خطرناک ہے۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ ماضی میں ہونے والی تمام جنگوں، خون ریزیوں اور قتل و غارت کا ذمے دار عیسائی مذہب ہے۔ ملحدین عیسائیت کو پانچ وجوہات کی بنیاد پر مسترد کرتے ہیں:
1) خدا پر یقین ان کو تنقیدی سوچنے سے محروم کرتا ہے۔
2) مذہب دراصل آرٹ اور لٹریچر کا دشمن ہے۔
3) مذہب خودی سے محروم کرکے غیر مرئی قوت سے مدد طلب کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
4) آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے اکثر لوگ دنیا کی زندگی کو اچھی طرح نہیں بسر کر سکتے۔
5) مذہب زیادہ سے زیادہ قوت حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے، جس سے خون ریزی بڑھ جاتی ہے۔
مصنف لکھتا ہے کہ سماجی اصلاحات، حقوق نسواں، برائیوں کے خلاف قوانین اور غلامی کا خاتمہ مذہب نے کیا ہے، نہ کہ الحاد نے۔ دنیا میں صلہ رحمی، امن، محبت، باہمی تعاون و امداد کا درس بھی مذہب نے دیا ہے نہ کہ الحاد نے۔ مصنف کے نزدیک دنیا میں لڑائیوں کا ذمے دار مذہب نہیں، بل کہ معاشی مفادات اور زمین پر قبضہ ہے۔
مصنف کی تحقیق کے مطابق لادین آمروں نے لا تعداد معصوم شہریوں کا قتل عام کیا ہے۔ سٹالن نے 4 کروڑ 26 لاکھ 72 ہزار، ماؤزے تنگ نے 3 کروڑ 8 لاکھ 28 ہزار، ہٹلر نے 2 کروڑ 9 لاکھ 46 ہزار، شیانگ کی شیک نے 1 کروڑ 2 لاکھ 14 ہزار، لینن نے 40 لاکھ 17 ہزار، ہیڈیکی ٹوجو نے 40 لاکھ اور پول پوٹ نے 24 لاکھ لوگ قتل کیے ہیں۔ یہ سارے آمر کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتے تھے، یعنی ملحدین تھے۔ اور ان کی جنگوں کا مذہب سے کوئی تعلق نہ تھا۔ مصنف نے ان سب آمرین کو ٹھوس دلائل کے ساتھ لادین بھی ثابت کیا ہے۔
صلیبی جنگوں کے بارے میں وہ لکھتا ہے کہ یہ جنگیں 1095 سے 1272 تک اس وقت ہوئیں جب سقوط یروشلم کے بعد مسلمانوں نے 300 کلیساؤں کو تباہ کر دیا، عیسائی آبادی پر مظالم ڈھائے اور یورپ اور شمالی افریقہ میں ان کی زمینوں پر قبضہ کیا۔ تو بالآخر یہ 9 جنگیں عیسائیوں نے اپنے دفاع اور کھوئی ہوئی زمینوں کو واپس حاصل کرنے کے لیے لڑیں۔ ان 177 سالہ 9 جنگوں میں مصنف کے مطابق صرف 1 ملین لوگ مارے گئے۔ وہ نائن الیون یعنی وار آن ٹیرر کو بھی دفاعی جنگ تصور کرتا ہے اور کوئی مذہبی رنگ نہیں دیتا ہے۔ وہ صلیبی جنگوں اور نائن الیون دونوں جنگوں میں مسلمانوں کو قصور وار ٹھہراتا ہے۔
ملحدین کے ہاں برداشت، مذہبی رواداری اور اختلاف رائے نہیں پائی جاتی۔ وہ مذہب کو نجی معاملہ قرار دیتے ہیں اور بچوں سے مذہب کو دور رکھنے کے حق میں ہوتے ہیں۔ مصنف پوچھتا ہے کہ ملحدین سائنس اور سائنس دانوں پر اعتراض کیوں نہیں کرتے، جس نے ایٹم بم، کیمیائی ہتھیار اور بیلسٹک میزائل بنائے ہیں۔ جس طرح سائنس پر اعتراض مناسب نہیں، اسی طرح مذہب پر بھی اعتراض مناسب عمل نہیں ہے۔ ملحدین بعض اوقات نظریہ ارتقا کو مدنظر رکھتے ہوئے خدا کے منکر ہوتے ہیں، مگر مصنف جواب میں لکھتا ہے کہ نظریہ ارتقا طریقہ کار یعنی پروسیس سے سروکار رکھتا ہے، نہ کہ آغاز سے۔
ملحدین کا دعویٰ ہے کہ اگر خدا سائنس سے ثابت نہیں ہو سکتا، تو خدا وجود نہیں رکھتا۔ مصنف پوچھتا ہے کہ اگر خدا سائنس سے ثابت نہ ہوسکے، تو کیا خدا وجود نہیں رکھتا؟ مصنف پوچھتا ہے کہ کیا خدا کے ثبوت کے لیے صرف سائنس یا سائنسی صداقت کافی ہے؟ دنیا میں روحانی، قلبی اور ادبی صداقتیں بھی تو وجود رکھتی ہیں۔ درد، غم، خوشی، انبساط، محبت، نفرت اور دیگر احساسات کو سائنس کے کسی بھی پیمانے سے تولنا ممکن نہیں۔ اسی طرح خدا کے وجود کے ثبوت کے لیے سائنسی صداقت بھی لازمی نہیں۔ ملحدین پوچھتے ہیں کہ خدا کہاں ہے؟ مصنف جواب دیتا ہے کہ ضروری نہیں کہ خالق اپنی تخلیق کے ساتھ یا موجد اپنی ایجاد کے ساتھ چمٹا رہے یا اس کے اندر موجود رہے۔ وہ کہیں بھی کسی بھی صورت میں ہو سکتا ہے۔
ملحدین خود کو کسی خدا کے آگے جواب دہ نہیں ٹھہراتے، اس لیے ان سے نیکی، خیر اور اخلاقیات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ مصنف کو عیسائی ملحد مصنفین سے شکوہ ہے کہ وہ آخر عیسائی مذہب کو سرعام مذاق کا نشانہ کیوں بناتے ہیں، جب کہ مسلمانوں کے ہاں اپنے خدا اور پیغمبر کو سرعام مذاق کا نشانہ بنانے کا کوئی رواج نہیں ہے۔ مصنف سوال کرتا ہے کہ آخر مسلمانوں کی طرز پر ملحد عیسائی مصنفین کو سزائیں کیوں نہیں دی جاتیں؟ ان کو شکوہ ہے کہ یہ ملحد مصنفین اسلام کے خلاف کیوں نہیں لکھتے۔ مصنف خود جواب دیتا ہے کہ وہ مسلمانوں سے ڈرتے ہیں۔ ایک ملحد مصنف فل زکرمین نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف اس لیے نہیں لکھتا ہے کہ وہ مسلمانوں سے ڈرتا ہے۔
ملحدین موت کے ساتھ ساتھ زندگی سے بھی ڈرتے ہیں اور وہ زندگی کا سامنا بھی نہیں کر سکتے۔ دنیا میں سالانہ 12.5 ملین عورتیں اسقاط حمل کرتی ہیں، جن میں زیادہ تعداد ملحد عورتوں کی ہوتی ہیں۔ اسی طرح ملحدین میں خودکشیوں اور رضا کارانہ موت کا رجحان بھی زیادہ پایا جاتا ہے۔ مدلل اور سنجیدہ محفل میں ملحدین خدا کے پیروکاروں کا مذاق اڑاتے ہیں، ان پر طنز کرتے ہیں اور پھبتیاں اڑاتے ہیں۔ وہ اکثر اوقات مایوس رہتے ہیں اور امید ان کے لیے سراسر ایک اجنبی لفظ ہوتا ہے۔
یورپ میں لوگ عیسائیت کو چھوڑ کر جوق در جوق الحاد کی طرف آ رہے ہیں، اور الحاد عیسائیت کے بعد یورپ میں دوسرا بڑا طبقہ بنتا جا رہا ہے۔ جب کہ امریکہ کی ایک چوتھائی آبادی ملحد بن گئی ہے، اور ہر تین میں سے صرف ایک امریکی شہری خود کو خوش تصور کرتا ہے۔
آخر میں مصنف دعویٰ کرتا ہے کہ لوگوں کو عالمی سطح پر مختلف طریقوں سے الحاد پر مجبور کیا جائے گا، لیکن بعد میں وہ بغاوت پر اتر آئیں گے اور واپس اپنا عقیدہ اختیار کرلیں گے۔ کیوں کہ عقیدہ فولاد کی بنی ہوئی ربڑ بینڈ کی مانند ہے، ہمیشہ لچک دار رہتا ہے اور بار بار اپنی اصل حالت کی طرف لوٹ آتا ہے۔


