مظہر حسین سید کے شعری مجموعے ’’آواز‘‘ کا ادراکی تنقیدی جائزہ / ڈاکٹر فرحت عباس شاہ

مظہر حسین سید کا شعری مجموعہ ’’آواز‘‘ ایک ایسے تخلیقی شعور کی نشان دہی کرتا ہے جو انسانی احساس، سماجی رویوں، اخلاقی زوال، باطنی اضطراب اور زندگی کے متنوع تجربات کو شعری اظہار میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مظہر حسین سید کی شاعری کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش میں موجود انسانی رویوں کو محض دیکھ کر گزر نہیں جاتے بلکہ ان کے پس منظر میں کارفرما ذہنی کیفیات اور اخلاقی تضادات پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ ان کے ہاں بعض مقامات پر محبت اور نفرت، خود احتسابی اور اجتماعی بے حسی، انسانی احساس اور جذباتی محرومی کے مابین ایک ایسا معنوی تناؤ پیدا ہوتا ہے جو قاری کو اپنے تجربات اور سماجی رویوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ادراکی تنقید کی رو سے کسی شاعر کی تخلیقی اہمیت کا تعین صرف اس کے موضوعات یا زبان و بیان کی خوبیوں سے نہیں ہوتا بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ انسانی تجربے کو کس زاویے سے دیکھتا ہے، اس کے مفہوم کی تشکیل کیسے کرتا ہے اور اپنے شعری اظہار کے ذریعے قاری کے ادراک میں کس نوعیت کی تبدیلی یا وسعت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مظہر حسین سید کے مجموعے ’’آواز‘‘ کا مطالعہ اسی تناظر میں قابلِ توجہ ہے۔ ان کے منتخب اشعار میں انسانی رویوں کے تضادات، خود شناسی کے مسائل اور معاشرتی احساس کی کمزوریوں سے متعلق ایسے سوالات سامنے آتے ہیں جن کا تعلق محض کسی ایک فرد کی زندگی سے نہیں بلکہ اجتماعی انسانی تجربے سے بھی ہے۔

مظہر حسین سید کے ہاں سماجی رویوں پر تنقیدی نظر کی ایک نمایاں مثال یہ شعر ہے:

شعورِ حسن سے عاری ہیں، فطرت سے بھی نفرت ہے
یہ کیسے لوگ ہیں جن کو محبت سے بھی نفرت ہے

اس شعر میں شاعر نے حسن، فطرت اور محبت کو انسانی احساس کی بنیادی جہات کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہاں حسن کا مفہوم صرف ظاہری خوب صورتی تک محدود نہیں بلکہ اس میں جمالیاتی شعور، لطافتِ احساس اور زندگی کے حسن کو محسوس کرنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔ ادراکی اعتبار سے حسن کو محسوس کرنا محض آنکھ کا فعل نہیں بلکہ ذہن اور احساس کے باہمی تعامل کا نتیجہ ہے۔ انسان جب اپنے ماحول، فطرت اور دوسرے انسانوں کے ساتھ جذباتی تعلق قائم کرتا ہے تو اس کے اندر جمالیاتی اور اخلاقی شعور بھی نشوونما پاتا ہے۔ شاعر کا سوال ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کے رویوں میں محبت اور حسن کے لیے گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس شعر کی خوبی یہ ہے کہ شاعر ایک سماجی کیفیت کو محض بیان نہیں کرتا بلکہ سوالیہ انداز کے ذریعے قاری کو اس کے اسباب پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ تاہم ادراکی تنقید اس مقام پر یہ فرق بھی واضح کرتی ہے کہ محبت سے دوری ہمیشہ شعوری نفرت کا نتیجہ نہیں ہوتی؛ بعض اوقات سابقہ تلخ تجربات، جذباتی محرومیاں اور عدم تحفظ بھی انسان کے رویے کو متاثر کرتے ہیں۔ اس طرح شعر کا بنیادی سوال نفسیاتی مطالعے کے لیے بھی ایک اہم امکان پیدا کرتا ہے۔

اسی موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے شاعر روایت اور محبت کے تعلق کو یوں بیان کرتا ہے۔۔۔

روایت کا امیں سمجھے تھے ہم فرسودہ لوگوں کو
مگر ان کو محبت کی روایت سے بھی نفرت ہے

اس شعر میں ایک اہم فکری تضاد سامنے آتا ہے۔ شاعر کے مطابق بعض لوگ روایت کو فرسودہ قرار دیتے ہیں، لیکن ان کے رویوں میں محبت جیسی بنیادی انسانی قدر کے لیے بھی جگہ نہیں رہتی۔ اس طرح شعر میں روایت اور جدیدیت کے تعلق سے ایک ضمنی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی روایت کو مسترد کرنا لازماً فکری ترقی کی علامت ہے؟ ادراکی تنقید کی رو سے کسی تصور کو محض اس کے قدیم ہونے کی وجہ سے رد کرنا بھی اتنا ہی غیر تنقیدی رویہ ہو سکتا ہے جتنا کسی تصور کو صرف روایت سے تعلق رکھنے کی بنا پر قبول کر لینا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان کسی قدر کو کس بنیاد پر قبول یا مسترد کرتا ہے۔ مظہر حسین سید کا یہ شعر محبت کو ایک ایسی انسانی قدر کے طور پر سامنے لاتا ہے جو محض روایتی ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام نہیں بلکہ انسانی تعلقات اور جذباتی زندگی میں اپنی معنویت کے باعث اہم ہے۔ شعر میں طنز کی کیفیت بھی موجود ہے، کیونکہ شاعر ان لوگوں کے رویے میں تضاد محسوس کرتا ہے جو پرانی اقدار کو فرسودہ سمجھتے ہیں مگر اس کے متبادل کے طور پر زیادہ انسانی اور بامعنی رویے اختیار کرنے میں بھی ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ یہی تضاد شعر کو سماجی اور ادراکی دونوں سطحوں پر قابلِ مطالعہ بناتا ہے۔
مظہر حسین سید کے کلام میں اخلاقی خود احتسابی اور اجتماعی بے حسی کا موضوع بھی قابلِ توجہ ہے۔ اس ضمن میں یہ اشعار دیکھیے:

اس لیے اب گلہ تو ہے ہی نہیں
تم میں خوفِ خدا تو ہے ہی نہیں

رو رہا ہوں میں اپنی میت پر
کوئی میرے سوا تو ہے ہی نہیں

ان اشعار میں شاعر نے شکوے، اخلاقی بے حسی اور داخلی تنہائی کو ایک دوسرے سے مربوط کیا ہے۔ پہلے شعر میں شکایت کی نفی دراصل ایک گہری مایوسی کی علامت بن جاتی ہے۔ جب شاعر یہ کہتا ہے کہ اب گلہ ہی نہیں رہا تو اس کے بیان میں محض خاموشی نہیں بلکہ توقعات کے ٹوٹ جانے کا احساس بھی موجود ہے۔ ادراکی سطح پر شکایت اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کسی دوسرے شخص سے کسی اخلاقی ذمہ داری، تعلق یا رویے کی توقع رکھتا ہو۔ جب یہ توقع بار بار پوری نہ ہو تو انسان احتجاج سے دست بردار بھی ہو سکتا ہے۔ یوں گلہ نہ کرنا ہمیشہ اطمینان کی علامت نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات شدید مایوسی اور جذباتی تھکن کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ دوسرے شعر میں اپنی ہی میت پر رونے کی تصویر ایک مؤثر شعری پیکر ہے۔ شاعر نے اپنی ذات کو ایک ایسے شخص کی صورت میں دیکھا ہے جس کے دکھ کا گواہ بھی وہ خود ہے اور جس کے غم کو محسوس کرنے والا بھی کوئی دوسرا موجود نہیں۔ یہاں میت کو صرف جسمانی موت کے مفہوم تک محدود رکھنے کے بجائے داخلی شکست، تنہائی یا سماجی طور پر نظرانداز کیے جانے کی علامت کے طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ اس شعر کی قوت اسی معنوی امکان میں ہے کہ قاری اپنی زندگی کے ان تجربات کو اس کے ساتھ مربوط کر سکتا ہے جن میں اسے اپنی تکلیف کا بوجھ تنہا اٹھانا پڑا ہو۔
انسانی معاشرے میں خود شناسی اور خود احتسابی کی کمی کو شاعر ایک اور زاویے سے بھی سامنے لاتا ہے۔۔۔

شرم آئے تجھے مگر کیسے
شہر میں آئینہ تو ہے ہی نہیں

یہ شعر مظہر حسین سید کی اظہار پر قدرت کی ایک عمدہ مثال ہے۔ آئینہ یہاں محض ایک مادی شے نہیں بلکہ خود شناسی، اپنے اعمال کا جائزہ لینے اور اپنی حقیقت کا سامنا کرنے کی علامت بن جاتا ہے۔ شاعر نے ایک سادہ سی شے کے ذریعے اخلاقی اور نفسیاتی مسئلے کو نمایاں کیا ہے۔ انسان دوسروں کے کردار، رویوں اور غلطیوں کا جائزہ لینے میں بسا اوقات بہت سرگرم ہوتا ہے، لیکن اپنی ذات کو تنقیدی نظر سے دیکھنے سے گریز کرتا ہے۔ خود احتسابی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی خواہشات، مفادات، تعصبات اور اعمال کے بارے میں بھی سوال اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ شعر میں شہر کو اجتماعی زندگی کی علامت سمجھا جائے تو آئینے کی عدم موجودگی پورے معاشرے میں خود احتسابی کے فقدان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ ایک مؤثر علامتی تشکیل ہے، کیونکہ شاعر نے اخلاقی زوال کو براہِ راست بیان کرنے کے بجائے ایک ایسی تصویر میں منتقل کر دیا ہے جو قاری کے ذہن میں دیر تک باقی رہ سکتی ہے۔ ادراکی تنقید کی رو سے یہ شعر اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ انسان کے لیے اپنے ادراک کا جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ کبھی کبھی مسئلہ حقیقت میں نہیں بلکہ حقیقت کو دیکھنے اور سمجھنے کے اپنے طریقے میں ہوتا ہے۔

مظہر حسین سید کے شعری تجربے میں مشاہدے اور داخلی حرکت کا تعلق بھی نمایاں ہے۔ اس کیفیت کو ان اشعار میں دیکھا جا سکتا ہے:

دل و نظر کو مناظر سے بھر رہا ہوں میں
قیام کر نہیں سکتا، گزر رہا ہوں میں

کھلا نہیں ہے ابھی مجھ پہ کائنات کا حسن
بشر کے شر پہ ابھی غور کر رہا ہوں میں

ان اشعار میں شاعر کی شخصیت ایک ایسے مشاہدہ کرنے والے انسان کے طور پر سامنے آتی ہے جو زندگی کو کسی ایک مقام یا ایک تجربے میں محدود نہیں کرنا چاہتا۔ پہلے شعر میں دل و نظر کو مناظر سے بھرنے کا عمل خارجی دنیا اور داخلی شعور کے تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انسان اپنے ماحول کو دیکھتا ہے، تجربات جمع کرتا ہے اور ان تجربات کو اپنے باطنی شعور کا حصہ بناتا ہے۔ لیکن شاعر کا یہ کہنا کہ وہ قیام نہیں کر سکتا، ایک مسلسل ذہنی اور وجودی حرکت کا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔ اسے محض مکانی سفر کے بجائے تجربے، مشاہدے اور فکری جستجو کے استعارے کے طور پر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ دوسرے شعر میں کائنات کے حسن اور انسان کے شر کو ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر شاعر نے انسانی حقیقت کی پیچیدگی کو نمایاں کیا ہے۔ ایک طرف کائنات کا حسن ہے، دوسری طرف انسانی رویوں میں موجود برائی۔ شاعر ابھی کائنات کے حسن کو پوری طرح دریافت نہیں کر سکا، کیونکہ اس کی توجہ انسان کے شر کو سمجھنے میں مصروف ہے۔ اس بیان میں ایک اہم ادراکی نکتہ پوشیدہ ہے: انسان کا موجودہ تجربہ اور اس کی توجہ اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ وہ حقیقت کے کن پہلوؤں کو زیادہ نمایاں طور پر دیکھتا ہے۔ اگر ذہن کسی ایک مسئلے میں الجھا ہوا ہو تو دوسرے امکانات اور تجربات پس منظر میں چلے جا سکتے ہیں۔ شاعر کا یہ اعتراف کہ وہ ابھی غور کر رہا ہے، اس کے فکری سفر کو حتمی فیصلے کے بجائے سوال اور جستجو کے عمل سے وابستہ کرتا ہے۔ یہی رویہ سنجیدہ تخلیقی شعور کی ایک اہم علامت ہے۔

مظہر حسین سید کی شاعری میں خود شناسی کا ایک اور پہلو بھی سامنے آتا ہے، جہاں انسان اپنی داخلی کیفیت سے پوری طرح مطمئن نہیں اور اپنے وجود کے بارے میں مسلسل سوالات سے دوچار ہے۔ ان کا یہ شعر دیکھیے:

گزرتی ہے مرے قصبے سے ریل کی پٹری
بچائے کون مجھے خود سے، ڈر رہا ہوں میں

اس شعر میں خارجی منظر اور داخلی اضطراب کے درمیان ایک بامعنی تعلق قائم ہوتا ہے۔ ریل کی پٹری ایک ایسی شے ہے جو حرکت، سفر اور گزرنے کے تصور کو ابھارتی ہے، جب کہ دوسرے مصرعے میں شاعر اپنے آپ سے خوف زدہ ہونے کا اظہار کرتا ہے۔ اس طرح شعر کا مرکز محض بیرونی دنیا نہیں رہتا بلکہ انسان کی اپنی ذات بن جاتا ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے انسان کا اپنے آپ سے خوف زدہ ہونا کئی طرح کی داخلی کیفیات کی طرف اشارہ کر سکتا ہے، مثلاً اپنے فیصلوں کے نتائج کا اندیشہ، ماضی کے تجربات کا دباؤ، مستقبل کے بارے میں غیر یقینی یا اپنے اندر موجود تضادات کا احساس۔ تاہم شعر کی معنوی وسعت کو کسی ایک نفسیاتی کیفیت تک محدود کرنا مناسب نہیں۔ اس کا اصل حسن یہ ہے کہ شاعر نے ایک مختصر منظر کے ذریعے انسانی وجود کے اس پیچیدہ مسئلے کو سامنے لایا ہے جس میں انسان کے لیے بیرونی خطرات سے زیادہ اپنی داخلی دنیا کا سامنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ادراکی تنقید کی رو سے خود شناسی صرف اپنی خوبیوں کو پہچاننے کا نام نہیں بلکہ اپنے خوف، کمزوریوں اور تضادات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی ہے۔ اس اعتبار سے یہ شعر مجموعے کے اہم اشعار میں شمار ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مظہر حسین سید کے شعری مجموعے ’’آواز‘‘ کا مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی شاعری میں انسانی احساس، سماجی مشاہدے اور داخلی سوالات کے درمیان ایک قابلِ توجہ رشتہ موجود ہے۔ ان کے بعض اشعار میں طنز کی قوت نمایاں ہے، بعض میں تنہائی اور مایوسی کی کیفیت، جب کہ بعض اشعار انسانی شعور اور خود احتسابی کے سوالات کو سامنے لاتے ہیں۔ ان کے ہاں روزمرہ زندگی سے اخذ کی گئی اشیا، مثلاً آئینہ، شہر، میت اور ریل کی پٹری، اپنے ابتدائی مادی مفہوم سے آگے بڑھ کر علامتی معنویت اختیار کر لیتی ہیں۔ یہی عمل شاعری کو محض بیان سے تخلیقی اظہار میں تبدیل کرتا ہے۔ شاعر کی کامیابی اس بات میں ہے کہ وہ ایک مانوس شے کو اس انداز سے پیش کرے کہ قاری اس کے اندر کوئی نیا مفہوم دریافت کر سکے۔ مظہر حسین سید کے منتخب اشعار میں یہ تخلیقی امکان موجود ہے اور یہی ان کے شعری اظہار کی ایک قابلِ تحسین جہت ہے۔
مظہر حسین سید کے لیے میری طرف سے حوصلہ افزائی کا بنیادی سبب ان کا انسانی رویوں کو موضوع بنانے اور مانوس تجربات میں معنوی امکانات تلاش کرنے کی تخلیقی کوشش ہے۔ ان کے ہاں بعض مقامات پر خیال کو سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت نظر آتی ہے، جب کہ بعض اشعار میں علامتی اظہار ان کے احساس کو زیادہ گہرا بنا دیتا ہے۔ یہ دونوں خوبیاں شاعری کے لیے اہم ہیں، کیونکہ تخلیقی اظہار میں خیال کی معنویت اور اس کی فنی پیش کش ایک دوسرے سے جدا نہیں کی جا سکتیں۔ میں مظہر حسین سید کو اس شعری کاوش پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے مشاہدے کو مزید وسعت، اپنے فکری سوالات کو مزید گہرائی اور اپنے شعری اظہار کو مزید فنی پختگی عطا کریں گے۔ ایک اچھا شاعر وہی ہے جو اپنے تجربے کو دوسروں تک منتقل کرنے کے ساتھ انہیں اپنی زندگی، اپنے معاشرے اور اپنی داخلی دنیا پر نئے سرے سے غور کرنے کی تحریک بھی دے۔ ان کی شاعری میں اس تخلیقی امکان کی موجودگی ان کے ہاں ارتقائی امکانات کی نشان دہی کرتی۔ ان کا مجموعہ ’’آواز‘‘ اس اعتبار سے قابلِ توجہ ہے کہ اس میں انسانی احساس اور سماجی مشاہدے کو شعری اظہار دینے کی کوشش موجود ہے، ان کے اگلے تخلیقی پڑاؤ میں اس کوشش کو مزید فکری اور فنی ارتقا کے ذریعے ایک زیادہ نمایاں تخلیقی شناخت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں