غریب ہیرو ،امیر ولن/ میاں عمر منظور

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دو
— علامہ اقبال

ہماری فلموں کا ایک پرانا اور بڑا دلچسپ فارمولا ہے: غربت دکھاؤ، ہیرو خود بن جائے گا۔ دولت دکھاؤ، ولن خود سمجھ آ جائے گا۔

ہیرو کی جیب خالی ہو، ماں بیمار ہو، گھر کی چھت ٹپکتی ہو تو اس کی شرافت پر کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ دوسری طرف کسی کردار کے پاس بنگلہ، لمبی گاڑی اور فیکٹری دکھا دیں تو کہانی شروع ہونے سے پہلے ہی اس کا جرم تقریباً ثابت ہو جاتا ہے۔

یوں برسوں سے پردے پر ایک عجیب عدالت لگتی آئی ہے، جہاں غربت کردار کی ضمانت اور دولت شک کی پہلی وجہ بن جاتی ہے۔

لیکن کہانی کا سب سے دلچسپ منظر پردے پر نہیں، پردے کے پیچھے ہے۔

بچپن سے فلمیں دیکھتے آئے ہیں۔ فلم شروع ہوتی تو زیادہ دیر یہ سمجھنے میں نہیں لگتی تھی کہ ہیرو کون ہے اور ولن کون۔
جس کے کپڑے سادہ، گھر چھوٹا، ماں بیمار اور جیب خالی ہوتی وہ عموماً ہیرو نکلتا اور جس کے پاس بڑا بنگلہ، لمبی گاڑی اور فیکٹری ہوتی ہمیں فوراً معلوم ہو جاتا کہ حضرت ولن ہیں۔
یوں فلموں نے ہمیں ایک آسان سا حساب سکھایا کہ غریب ہے تو اچھا ہوگا اور امیر ہے تو کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہو

اپنا تبصرہ لکھیں