جو چاہئیے چین و قرار، تو چھوڑ دیں تکرار / محمد کوکب جمیل ہاشمی

” بھائی صاحب یہ ٹماٹر کیا بھاؤ دئیے ہیں؟” ایک گاہک نے سبزی فروش سے پوچھا۔
” 300 سو روپے کلو” ۔ سبزی والے نے جواب دیا۔ ” مگر کل تو ٹماٹر کا ریٹ 270 روپے کلو تھا”. “ہاں جی کل تھا! مگر آج کا ریٹ بڑھ گیا ہے۔ روزانہ قیمت بدلتی رہتی ہے۔” “کیون؟ یہ سونا تو نہیں جو ہر روز بھاؤ بدل جاتا ہے”. ” بھئی آپ بحث کیوں کرتے ہیں، آپ نے لینا ہے تو لیں ورنہ جائیں”. ” تم کیا بات کرتے ہو، میں بھی خریدنے کے لئۓ ہی آیا ہوں، شغل لگانے کے لئے نہیں”. خریدار نے دل پہ ھاتھ رکھ کر شاپر ہاتھ میں پکڑا اور چن چن کر ٹماٹر اس میں ڈالنے لگا۔ سبزی فروش نے جھلا کر گاہک کا ہاتھ پکڑا اور ٹماٹروں کو شاپر میں ڈالنے سے روک دیا۔ ” یہ کیا کر رہے ہو، تمیارے ٹماٹر ذیادہ تر گلے ہوئے ہیں۔۔۔ میں تو صاف صاف ٹماٹر لوں گا”. ” آپ چھوڑ دیں۔۔۔۔ سارے صاف ٹماٹر تمہیں دے دوں تو اوروں کو کیا دونگا؟”. ” بھئی میں منہ مانگے دام دے کر ٹماٹر خرید رہا ہوں، خراب والے کیوں لوں؟”. ” سب ہی گاہک پیسے دیکر سبزی خریدتے ہیں, فری میں کوئی نہیں لیتا، آپ میرا وقت ضائع نہ کریں”, سبزی والے نے سبزیوں پر پانی پر چھڑک کر اور خریدار کو قدرے جھڑک کر کہا۔ “تم کیسے لہجے میں بات کر رہے ہو؟ آرام سے بات کرو”. “میں کہتا ہوں تم بھی آرام سے بات کرو،” جاؤ بابا میرے متھے نہ لگو”. اس تو تو میں میں, میں دونوں کا وقت ضائع ہو رہا تھا۔ تکرار بڑھتی جا رہی تھی اور کوئی اپنی ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔ بڑی مشکل سے پاس کھڑے خریداروں نے بیچ بچاؤ کرایا اور معاملے کو رفع دفع کر دیا۔۔
عموماً اس طرح کی گفتگو ہر جگہ ہو رہی ہوتی ہے۔ جس میں فریقین کے درمیان ضد بحث اور تکرار طول پکڑتی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن بات بے نتیجہ رہتی ہے۔ قربانی ہمیشہ خریدار کو ہی دینی پڑتی ہے۔ خریدار ہو یا دکاندار، ہم کیوں اپنی بات پہ آڑے رہتے ہیں۔ بات بات پہ غصہ کیوں کرتے ہیں۔ آنکھوں سے ناراضی اور منہ سے نا روا گفتگو کا اظہار کیوں کرتے ہیں؟” کالج ہو یا کوئی آفس، یا کھیل کا میدان ہم ایک دوسرے سےتکرار کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ حالانکہ تکرار کرنا اپنا ماتھا پھوڑنے کے مترادف ہے۔ بات بڑھ جاے تو کوئی سر پھرا آپ کا سر بھی پھوڑ سکتا ہے۔ تکرار کرنے کا بھوت سر پر سوار ہو تو انجام یہی ہوتا ہے۔ بس کے اڈے پر جائیں تو مسافر اور ٹکٹ کاٹنے والے کے درمیان کرایہ بڑھ جانے پر تکرار ضرور ہوتی ہے۔ ریل کی بوگی میں بک کرائی ہوئی سیٹ پر زبردستی قبضہ جمانے والے کی بک بک سنتی پڑتی ہے۔ قبضہ کرنے والا غلطی پر ہوکر بھی دھونس جماتا ہے۔ قلی اور مسافر کے درمیان بھاؤ تاؤ پر ایسا بحث و مباحثہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ دیکھنے والوں کو بھی تاؤ آ جاتا ہے۔
تکرار ہوتی ہی اس وقت ہے جب کوئی دوسرے کی بات سننے کا روادار نہیں ہوتا۔ گھروں میں بھی آپس میں چھوٹی چھوٹی باتوں پہ نوک جھونک اور تکرار نزاع کا باعث بنتی ہیں۔ کوئی کسی عزیز کو بات بڑھا چڑھا کر بیان کرنے اور مبالغہ آرائی سے کام لینے والوں سے یہ کہہ کر الجھ رہا ہوتا ہے کہ “کوئی رائی کا پہاڑ بنانا تم سے سیکھے”. اس پر ‘ تم یہ اور تم وہ ‘ کی تکرار شروع ہو جاتی ہے۔ شکر ہے بات زبانی حد تک محدود رہتی ہے، جوتم پیزار کی نوبت نہیں آتی۔ پھر جھگڑوں کی نوبت بجنے لگتی ہے۔ کوئی دوسرے کو جھوٹا قرار دینے پر تلا ہوتا ہے۔ اور کوئی میں نہ مانوں کی گردان کر کے گردن اکڑا کر رعب جماتا ہے۔ کوئی طعنہ زنی کرکے خوامخواہ دوسروں کی ناراضی مول لیتا ہے۔ حالانکہ مہنگائی کے اس زمانے میں اپنے کام کی چیز بھی مول لینا دشوار ہوتی ہے۔۔ موڈ آف ہو یا طبیعت خراب ہو تو میاں بیوی کے درمیان جاری تکرار بھی گھر کے ماحول میں تلخی گھولنے لگتی ہے۔ پھر کیا ہوتا ہے، سب اچھی طرح جانتے ہیں۔
تکرار کی بری عادت پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ عادت مشاعرے کے مکرر ارشاد کی رٹ لگانے والے سامعین اور ان شاعر حضرات سے در آئی ہو جو مشاعرے میں اپنا کلام سناتے ہیں تو مطلع کو کئی کئی بار دوہراتے ہیں۔ ( ہم جانتے ہیں کہ سب سخن ور ایسا نہیں کرتے)کوئی ایک دفعہ مکرر کہہ دے تو سخنوری کے جوہر دکھاتے ہوئے مصرعے کی تکرار یوں شروع کر دیتے ہیں جیسے وہ کلام نہیں سنا رہے بلکہ قوالی میں جملوں کی گردان کر رہے ہیں۔ بہت سے سنجیدہ شعراء بناء مکرر ارشاد کی صداؤں کے، اس تکرار کو ذیادہ پسند نہیں کرتے۔ وہ اچھا کرتے ہیں۔ تاہم شاعر کا کلام شاہکار ہو تو داد و تحسین ضرور ملنی چاہئے۔
ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ٹریفک وارڈن کی جانب سے چالان کی پرچی کاٹنے پر ڈرائیور حضرات ناگواریت کے ساتھ تکرار شروع کر دیتے ہیں۔ ڈرائیونگ لائسنس یا شناختی کارڈ پاس نہ بھی ہو تب بھی پولیس والے کو برا بھلا کہنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اس معاملے میں ہمیں صبر و ضبط سے کام لینا چاہئے۔ یہی اچھے شہری ہونے کی علامت ہے۔ عموماً شادی کے موقع پر لڑکے اور لڑکی والے مہر کے رقم پہلے سے طے کر لیتے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے۔ مگر مہر کی رقم پہلے سے طے نہ ہو تو بوقت نکاح مہر کے مسئلے پر تکرار ضرور ہو جاتی ہے، جس سے فریقین کے درمیان تلخی پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی پر سکون اور پر امن گزرے تو ضروری ہے کہ ہم اپنے غصے پر قابو پائیں، ضد، بحث اور زبان درازی سے اجتناب کریں۔ اپنے اندر تحمل مزاجی اور برداشت پیدا کریں۔ یہ وصف پیدا ہو جائیں تو کبھی تکرار کی نوبت نہیں آئے گی۔ کچھ اور نصائح ملاحظہ ہوں۔
نہ کریں غصے کا اظہار لا محالہ ہو جائے گی تکرار۔ خاموش رہیں بیچ میں نہ بولیں بار بار، یہ عادت ختم ہو تو کم کم ہوگی تکرار۔ اپنی بات پر نہ کریں اصرار، ورنہ ہو جاۓ گی تکرار۔ نہ بد کلامی کریں نہ ترش گفتار، اس سے ہو جاتی ہے تکرار۔ مت باندھیں کسی پر طومار، اس سے ہوتی ہے ضد بحث اور تکرار۔ اگر ہو سکے تو اپنی باری کا کریں انتظار، کبھی نہ توڑیں اپنی قطار، تاکہ کبھی نہ ہو تکرار۔ کسی کو نہ سمجھیں حقیر، کمزور و نزار ، کہیں وہ بھی کرنے لگے تم سےبڑھ کر تکرار۔ کہہ کے دیکھو کسی کو “نو نقد نہ تیرہ ادھار”، کرنے أئے گا جھگڑا اور ہو جائےگی تکرار۔ اللہ تعالیٰ ایسی تکرار سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔ جو بلا وجہ کھینچ ڈالے نفرت کی دیوار۔ جو سب کر لیں یہ اقرار، سب پا لینگے سکھ چین اور قرار۔ ان شاء اللہ۔۔

اپنا تبصرہ لکھیں