تحصیل تنگی کا نام میں نے پہلی بار سنا جو کہ ضلع چارسدہ میں واقع ہے۔ پانی کی فراوانی‘ نہری نظام‘ سر سبز و شاداب و فصلوں سے لہراتے کھیت‘ علاقے کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔ چارسدہ سے تنگی تک شاید ہی کہیں آپ کو کوڑے کرکٹ یا گندگی کے ڈھیر نظر آئیں۔ شہر سے دیہات تک بہترین شاہراؤں کا جال اور ہر جا خوبصورت و پکے مکانات‘ علاقے کی خوشحالی کی علامت ہیں۔ سڑک کنارے کرکٹ‘ کانچ کی گولیاں (بانٹے) و دیگر کھیل کھیلتے بچے آپ کو بڑی تعداد میں نظر آئیں گے۔ کہیں کہیں آپ کو بچے و نوجوان پتنگ اڑاتے بھی دکھائی دیں گے۔ کبھی آپ کو تنگی جانے کا اتفاق ہو تو یقیناََ اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوں گے۔ یہ سن کر حیرانگی ہوئی کہ کمرشل پاور تقریباَنہ ہونے کے برابر ہے اور لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت توانائی کے متبادل ذرائع کا نتظام کر رکھا ہے جس میں سر فہرست سولر سسٹم ہے۔
محمد اسلام کا تعلق تحصیل تنگی کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے جو سول انجنیئر اور ایک بلڈرز کمپنی کے مالک ہیں۔ ان کے پراجیکٹس زیادہ تر بڑے شہروں میں ہی ہوتے ہیں لیکن وہ آج بھی اپنے خاندان کے ہمراہ اپنے آبائی گاؤں میں ہی رہائش پذیر ہیں۔ اکثر یہی مشاہدہ ہے کہ کوئی کسی ادارے میں ہائی رینک آفیسر تک پہنچ جائے‘ کاروبار پھلنے پھولنے لگے‘ تو بچوں کی تعلیم و دوسری وجوہات کا بہانہ بنا کر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ گاؤں سے شہر کی طرف ہجرت کرنے لگتے ہیں۔ لیکن محمد اسلام کاروبار کی وسعت و رزق کی فراوانی کے باوجود مٹّی کا قرض اتارنے میں مصروف عمل ہیں۔ وہ اپنا ماضی نہیں بھولے جس پر وہ فخر کا اظہار کرتے ہیں۔ انہیں آج بھی یاد ہے کہ کمرشل پاور کے بغیر شدید ترین گرمی اور لالٹین کی روشنی میں انہوں نے کیسے اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھا۔
؎ اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
اپنے لیے تو سارے ہی جیتے ہیں لیکن محمد اسلام دوسروں کے لیے جینا چاہتے ہیں۔ انہیں بھی صرف جینے کے لیے جینا گوارہ نہیں۔ علاقہ مکینوں کی لیے کچھ بہتر کرنے کی تڑپ انہیں کچھ نہ کچھ نیا کرنے کی طرف مائل کرتی رہتی ہے۔ تعلیم کے حصول کے لیے جن مصائب و پریشانیوں کا سامنا انہوں نے کیا‘ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے گاؤں کے بچے بھی انہی کا سامنا کریں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے گاؤں میں ایک وسیع رقبہ پر لڑکے و لڑکیوں کے لیے ایک جدید ترین سکول قائم کیا ہوا ہے جو کہ عرصہ درا ز سے عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔ تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے لیے فیس کی کوئی قید نہیں‘ اگر کوئی دے سکتا ہے تو دے دے‘ نہیں دے سکتا تو اپنی تعلیم کو جاری رکھے۔ محمد اسلام کا ویژن ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کرتے رہیں جس سے ان کی کمیونٹی مستفید ہو۔اسی ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے اب انہوں نے شام کے اوقات میں نوجوانوں کے لیے اپنے سکول میں فنی تعلیم کا آغاز کیا ہے جس کے لیے جدید ترین لیبارٹریز کو یقینی بنایا گیا ہے۔ سکول کے معاملات کو دیکھنا‘ ایک بلڈرز کمپنی کو چلانا اور اس کے باوجود اس بات کو یقینی بنانا کہ کوئی فون کال مس نہ ہو اور ہر معاملے میں دوسروں کو راہنمائی مہیا کرنا‘ محمد اسلام کو باقی لوگوں سے ممتاز کرتا ہے۔
؎ ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
محمد اسلام جیسے لوگ ہی ہمارے معاشرے کے اصل ہیرو ہیں جو اپنے جیسے دوسرے انسانوں کا درد محسوس کرتے ہیں‘ ان کے لیے کچھ اچھا کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں‘ امارت و بڑے عہدہ کے باوجود اپنے آبائی علاقہ کو بھولتے نہیں اور مٹّی کا قرض اتارنے کو اپنا اولیں مقصد گردانتے ہیں۔ محمد اسلام کے ادارے میں کام کرنے والے انہیں اور وہ کام کرنے والوں کو اپنا ایک خاندان تصور کرتے ہیں جنہیں کسی بھی قسم کی مشکل میں ایکدوسرے سے دکھ بانٹتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ ہم اگر محمد اسلام جیسا نہیں بن سکتے تو کم ازکم اس جیسے لوگوں کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی تو کر سکتے ہیں۔ آئیے‘ خود کو یاد دلائیں کہ دوسروں سے لڑنا‘ چیخنا‘ اور ان پر سبقت لے جانے کی کوشش کتنی بے معنی ہے۔
؎ کام آؤ دوسروں کے مدد غیر کی کرو
یہ کر سکو اگر تو عبادت ہے زندگی۔ (سید معظم پاشا رضوی


