افسانے,حقیقت اور دکھ زندگی کے / مہ ناز رحمن

ہم تو سمجھتے تھے کہ ہم ہی ذرا ہٹ کے کام کرنے کے شوقین ہیں لیکن شیر شاہ اور گوہر تاج نے تو کتابوں کی دنیا میں ایک ایسا انوکھا اور خوب صورت تجربہ کیا کہ ہم تو حیران رہ گئے۔ان کی نئی کتاب میں ایک افسانہ شیر شاہ کا ہے تو اگلا،مضمون اسی موضوع اور مسئلے سے متعلق گوہر تاج کا ہے۔ واہ کیا خوبصورت آئیڈیا ہے۔یہاں میں یہ بتاتی چلوں کہ شیر شاہ کے افسانوں نے اکثر مجھے رلایا ہے کیونکہ ان کی کہانیاں زندگی کی سچی اور تکلیف دہ حقیقتوں کو سامنے لاتی ہیں۔اسی طرح گوہر تاج بھی اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے مسائل پر خوب ریسرچ کرتی ہیں اور پھر ان پر قلم اٹھاتی ہیں۔اس کتاب میں ان دونوں نے ہمارے ارد گرد پھیلے ہوئے سماجی اور نفسیاتی مسائل کو اپنا موضوع بنایاہے۔ شیرشاہ نے اگر ایک ایسی خوبصورت لڑکی کے ٹراما کا ذکر کیا جسے بچپن میں اس کے سگے چچا نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تو اس کے ساتھ ہی گوہر تاج نے اپنے مضمون” بائی پولر ڈس آرڈر اور مزاج کے بدلتے موسم “پر ایک تفصیلی تحقیقی مضمون لکھا ہے۔میرا مشورہ تو یہ ہے کہ اس آگاہی کےنتیجے میں ہمیں یہ مطالبہ کرنا چاہئیے کہ شادی سے پہلے ہر نوجوان جوڑے کا طبی اور نفسیاتی معائنہ ضرور کرایاجائے۔جہاں شیر شاہ نے اپنے افسانے دختر فرعون میں چونکا دینے والے انداز میں نسوانی ختنہ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔وہیں گوہر نے کم عمر لڑکیوں کے جنسی اعضا کاٹنے کی بہیمانہ رسم ۔ایف جی ایم پر ایک تحقیقی مضمون لکھا ہے۔میں صرف یہی کہوں گی کہ یہ پدر سری نظام کی ایک مکروہ اور ظالمانہ شکل ہے جہاں مرد عورت کی sexuality سے خوف زدہ ہو کر بچپن میں ہی اس کے جنسی اعضا کو کاٹنے کی رسم کو فروغ دیتا ہے۔ شیر شاہ کا افسانہ خالی سیٹ ہمیں اس زمانے کی یاد دلاتا ہے کراچی میں شیعہ ڈاکٹروں کا قتل عام ہو رہا تھا اور ہم پی ایم اے کے ساتھ مل کر پریس کلب کے سامنے مظاہرے کیا کرتے تھے۔ شیر شاہ اور گوہر کے لئے میری ایک تجویز ہے کہ اس زمانے میں قتل ہونے والے ڈاکٹروں کے لواحقین کے بارے میں بھی ریسرچ کی جائے کہ بعد میں ان پر کیا گزری۔ظاہر ہے وہ ڈاکٹرز اپنے خاندانوں کے کفیل بھی ہوں گے۔بوڑھے والدین، بہن بھائی اور بیوی بچے کیسے در بدر ہوئے ہوں گے۔کتنے ظالم لوگ تھے جنہوں نے ان کی جان لی۔ اسی طرح شیر شاہ کی کہانی ” زلزلہ” پاکستان کے 2005 کے زلزلے میں لندن سے رضاکارانہ کام کے لئے آنے والے ایک ڈاکٹر کے بارے میں ہے جس کی حالت کو سمجھنے کے لئے ہمارا باشعور اور حساس ہونا ضروری ہے۔ان افسانوں کے ساتھ شامل گوہر کے مضامین صوفیہ کی کہانی بائی پولر ڈس آرڈر کے بارے میں ہے۔اسی طرح ذہنی دبائو انسانوں کو خاموشی سے قتل کرتا ہے۔بھی ایک معلوماتی مضمون ہے۔ 60 کے عشرے کی ویت نام کی جنگ کے اثرات سے امریکی معاشرہ آج تک باہر نہیں نکل پایا۔ریمبو جیسی کتنی فلمیں بنیں۔کتنا کچھ لکھا گیا۔ شیر شاہ کی کہانی ” ڈونگ ڈیانگ فونگ” ایسے ہی ایک امریکی کی کہانی ہے ۔کتاب میں شامل گوہر کے مضامین بے حد معلوماتی ہیں۔شیر شاہ اپنی کہانیوں میں معاشرے کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھتے ہیں تو گوہر تاج ان ہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ۔مسائل کے بارے میں معلومات اور آگاہی فراہم کرتی ہیں۔دونوں مجھے بہت پیارے ہیں۔اللہ دونوں کو سلامت رکھے

اپنا تبصرہ لکھیں