گیارہ اکتوبر 2026ء کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ ملکی تاریخ کے پیچیدہ سیاسی اور آئینی بحرانوں کا تسلسل ہے۔ اس صوبے میں ایک ایسی منتخب حکومت قائم تھی جس کا سیاسی سفر پہلے دن سے ہی غیر معمولی رکاوٹوں، انتخابی نشان سے محرومی اور مرکزی قیادت کے بغیر قید و بند کی صعوبتوں کے بیچ کٹھن آزمائشوں سے گزرا تھا۔ عام انتخابات کے دوران کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال سے لے کر انتخابی مہم چلانے تک، ہر موڑ پر بندشیں کھڑی کی گئیں اور پولنگ کے بعد فارم سنتالیس کے تنازع نے مینڈیٹ کے بحران کو گہرا کیا۔
مینڈیٹ کی بے توقیری کا یہ دائرہ صرف ایک جماعت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پورے ملک کے سیاسی نقشے پر دیکھے گئے۔ پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے دھاندلی کے الزامات سامنے آئے، جبکہ بلوچستان میں روایتی قوم پرست اور مذہبی قیادت کو سیاسی منظرنامے سے یکسر باہر دھکیل دیا گیا۔ وہاں کی پارلیمانی سیاست میں ایسے عناصر کو غیر معمولی فوقیت دی گئی جن پر ماورائے عدالت کارروائیوں اور ریاستی پراکسیز کے طور پر کام کرنے کے سنگین الزامات عائد رہے ہیں۔
گزشتہ ڈھائی برسوں میں بنیادی جمہوری حقوق، پارلیمان کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور آزاد صحافت جیسے ادارے بتدریج بے اثر ہو کر رہ گئے۔ چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی، ماورائے عدالت اقدامات اور قبائلی و بلوچ علاقوں میں عسکری کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کے متاثر ہونے کے واقعات نے عوامی بے چینی میں شدید اضافہ کیا۔ اس صورتحال نے نہ صرف شہریوں بلکہ ریاستی ڈھانچے کے اندر بھی بے چینی پیدا کی، جس کی واضح مثال خیبرپختونخوا پولیس کا وہ احتجاج تھا جس میں فرنٹ لائن پر قربانیاں دینے کے باوجود عدم تحفظ کا شکوہ کیا گیا۔
پشتون آبادی کی بڑی اکثریت مرکز کی روایتی تزویراتی پالیسیوں اور نئے عسکری آپریشنز کے حوالے سے گہرے شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ قبائلی اضلاع کے گرینڈ جرگوں میں عسکری آپریشنز اور زبردستی نقل مکانی کی تجاویز کو کھل کر مسترد کیا گیا۔ عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ خدشہ گہرا ہوتا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی کی آڑ میں دراصل قبائلی اضلاع کے غیر معمولی قدرتی اور معدنی وسائل پر تصرف حاصل کرنے کی راہیں ہموار کی جا رہی ہیں۔
وسائل کی اسی جنگ میں خیبرپختونخوا اسمبلی واحد ایوان تھا جس نے مرکز کے مجوزہ معدنیاتی قانون کی توثیق سے انکار کیا، جبکہ دیگر صوبوں اور خطوں میں یہ قانون سازی آسانی سے پاس کرا لی گئی۔ اس قانونی اور تزویراتی کشمکش نے مرکز اور صوبے کے تعلقات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا۔
اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کے بعد جب مذاکرات کا آغاز ہوا تو بنیادی اختلاف کا نقطہ خیبرپختونخوا میں نئے فوجی آپریشنز کی غیر مشروط منظوری ہی بنا۔ پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کا اصرار تھا کہ کسی بھی آپریشن کی حتمی پالیسی صوبائی اسمبلی کی باہمی مشاورت سے طے ہو، پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے، نقل مکانی اور بھاری اسلحے کے استعمال پر پابندی ہو اور کمانڈ صوبائی حکومت کے پاس رہے، جو مقتدر حلقوں کے لیے ناقابلِ قبول شرائط تھیں۔
مذاکراتی عمل کے پس پردہ معاملات اس وقت مزید واضح ہوئے جب مولانا فضل الرحمان نے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ سیاسی قیادت کے ساتھ ہونے والے وعدوں کے برعکس، بحران کے حل کا سیاسی میکانزم وضع کرنے کے بجائے یکطرفہ طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، جس سے ریاست کے سیاسی ڈائیلاگ پر اعتبار کو شدید دھچکا پہنچا۔
یہ سیاسی بساط ملکی خارجہ اور دفاعی پالیسی پر سویلین گرفت کے خاتمے کا بھی کھلا اعلان ہے۔ سہ ملکی دفاعی معاہدات میں شمولیت، یمن کے تنازع پر 2015ء کی متفقہ پارلیمانی قرارداد سے انحراف، اور بلوچستان و آزاد کشمیر میں غیر معمولی فورسز کی تعیناتی جیسے اہم ترین فیصلوں سے پارلیمان کو یکسر لاعلم رکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روایتی حکومتی جماعتیں تزویراتی امور میں محض دستخطی کردار تک محدود ہو چکی ہیں۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ٹیکنوکریٹ ایڈوائزری کونسل کے ذریعے معاملات چلانے کا ماڈل دراصل اس انتظامی طرزِ عمل کی توسیع ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان میں آزمایا جا رہا ہے۔ منتخب ایوان کو غیر فعال بنا کر بیوروکریٹک اور سیکیورٹی بیانیے کو نافذ کرنا بظاہر بحرانوں پر قابو پانے کا شارٹ کٹ دکھائی دیتا ہے، مگر عملاً یہ آئینی ڈھانچے کے بتدریج انہدام کا باعث بنتا ہے۔
موجودہ سیٹ اپ میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا کردار تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کڑے سوالات کی زد میں ہے۔ پی پی پی نے ماضی میں مشرقی پاکستان کے بحران اور 1974ء کے بلوچستان آپریشن کے دوران بھی متنازع کردار ادا کیا تھا، تاہم موجودہ دور میں مقتدرہ کی براہِ راست پراکسیز کے ساتھ اتحاد، پریس پر قدغنوں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں پر خاموشی نے اس کے جمہوری اور عوامی تشخص کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔
ملک کی نئی نسل، خاص طور پر باشعور نوجوان، اس روایتی سیاسی گٹھ جوڑ اور ریاستی پالیسیوں سے سخت نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے اندر متبادل سیاسی بیانیے کی مقبولیت کسی قیادت کے معجزے سے زیادہ روایتی جماعتوں کی بے اصولی، سمجھوتہ بازی اور عوامی حقوق سے روگردانی کا ردعمل ہے۔
وفاقِ پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں طاقت کے ارتکاز نے ریاستی ہم آہنگی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ بلوچستان کے عوام کا مرکز پر اعتماد پہلے ہی متزلزل ہو چکا ہے، اور اب خیبرپختونخوا کو اسی ڈگر پر دھکیلنا ایک خطرناک قومی المیے کو جنم دے سکتا ہے۔ وفاق کا استحکام بندوق اور ایمرجنسی کے زور پر نہیں بلکہ 1973ء کے آئین کی روح کی بحالی، صوبائی خود مختاری اور عوام کے حقِ حکمرانی کے احترام ہی میں مضمر ہے۔
#KPEmergency2026 #FederalCrisis #PakistanPolitics #ConstitutionalCrisis


