بدقسمتی سے ہماری سیاست میں اصول اکثر اقتدار کے تابع ہو جاتے ہیں۔ حکومت میں بیٹھے لوگ اپنے فیصلوں کو قومی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین انہیں سیاسی انتقام سمجھتے ہیں۔ خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا معاملہ اسی سیاسی تضاد کی عکاسی کرتا ہے، جہاں دہشت گردی، آئینی اختیارات اور جماعتی مفادات ایک دوسرے سے الجھ گئے ہیں۔طاقت کے اس کھیل میں مہرے بھی بدلتے ہیں اور چالیں بھی، مگر عام آدمی کی بے بسی نہیں بدلتی۔وفاقی حکومت نے خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے اور صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون کو غیر معمولی اقدامات کی بنیاد بنایا ہے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کسی سیاسی جماعت کی مرضی کا محتاج نہیں۔ لیکن یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ غیر معمولی آئینی اختیارات استعمال کرنے کی ضرورت، قانونی بنیاد اور متوقع نتائج واضح ہوں۔ کسی حکومت کو معطل کر دینا انتظامی اختیار کا مظاہرہ تو ہو سکتا ہے، مگر اس سے امن قائم ہونے کی ضمانت نہیں ملتی۔ وفاقی حکومت کو اب اپنے فیصلے کی افادیت عملی نتائج سے ثابت کرنا ہو گی، محض مخالف جماعت کی ناکامیوں کا حوالہ دے کر نہیں۔
دہشت گردی کا مسئلہ اتنا سنگین ہے کہ اسے سیاسی الزام تراشی کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے تدارک کے لیے مؤثر حکمت عملی، متعلقہ اداروں میں رابطہ، مقامی آبادی کا اعتماد اور مسلسل نگرانی درکار ہے۔ اگر صوبے کے انتظامی معاملات وفاق کے ہاتھ میں آ جاتے ہیں تو ذمہ داری بھی اسی تناسب سے بڑھ جاتی ہے۔ بدامنی برقرار رہنے کی صورت میں وفاق یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتا کہ پہلے صوبائی حکومت تعاون نہیں کرتی تھی۔ اختیار حاصل کرنے کے بعد نتائج کی جواب دہی سے انکار ممکن نہیں رہتا۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس اقدام سے ان کی زندگی کتنی محفوظ ہوئی، دہشت گردی روکنے کے لیے کیا عملی تبدیلیاں آئیں اور معمول کا آئینی نظام کب بحال ہو گا۔تاہم وفاقی حکومت کی حکمت عملی پر تنقید کا مطلب یہ نہیں کہ صوبائی قیادت کو ہر معاملے میں درست تسلیم کر لیا جائے۔ تحریک انصاف کے لیے بھی ضروری تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف تعاون کو اپنے سیاسی مطالبات سے الگ رکھتی۔ عمران خان سے ملاقات، علاج اور قانونی سہولتوں کا معاملہ اپنی جگہ اہم ہے۔ کسی سیاسی رہنما کو قانون کے تحت حاصل حقوق سے محروم کرنا قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے، لیکن ان حقوق کے حصول کو قومی سلامتی کے معاملے سے جوڑنا بھی دانش مندی نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی پر اتفاق کسی سیاسی رعایت کے بدلے نہیں ہونا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے کسی قیدی کے قانونی حقوق کی فراہمی کو حکومت کی مرضی یا سیاسی تعاون سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں دونوں سیاسی فریقوں کے رویوں میں ایک بنیادی کمزوری دکھائی دیتی ہے۔ وفاقی حکومت پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا سیاسی مفاہمت کے ذریعے بحران سے بچنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی، یا مخالف جماعت پر دباؤ بڑھانے کو ترجیح دی گئی؟ دوسری طرف تحریک انصاف کو بھی بتانا ہو گا کہ کیا اس کی حکمت عملی صوبے کے عوام کے تحفظ کو مقدم رکھتی ہے یا سیاسی قیادت کے مطالبات کو۔ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی سودے بازی کا ذریعہ بنانا نقصان دہ ہے، مگر ریاستی طاقت کو سیاسی مخالفین پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کا تاثر بھی جمہوری نظام کو کمزور کرتا ہے۔ اصولوں کی اہمیت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب ان کا اطلاق اپنے اور مخالف دونوں پر یکساں ہو۔ہماری سیاست کا ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ رہنماؤں کے سیاسی حقوق پر بڑے بڑے احتجاج ہوتے ہیں، لیکن عام شہری کے بنیادی مسائل اکثر ایسی توجہ حاصل نہیں کر پاتے۔ دہشت گردی سے متاثر ہونے والے خاندان، خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے والے بچے، غیر یقینی حالات میں کاروبار کرنے والے لوگ اور روزگار کے لیے پریشان مزدور سیاسی بیانات سے مطمئن نہیں ہو سکتے۔ انہیں امن چاہیے، جس کے لیے حکومت کی کارکردگی اور سیاسی جماعتوں کا تعاون دونوں ضروری ہیں۔ اگر شہریوں کی مشکلات صرف تقریروں میں یاد کی جائیں اور عملی فیصلوں میں نظر انداز ہوں تو سیاست عوامی خدمت کے بجائے اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
تحریک انصاف کو اپنی احتجاجی سیاست کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ عوامی حمایت کا دعویٰ ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ لانگ مارچ میں لوگوں کی تعداد کسی جماعت کی مقبولیت کا قطعی پیمانہ نہیں، کیونکہ شہری مختلف وجوہ کی بنا پر احتجاج میں شریک نہیں ہوتے۔ اسی طرح بڑے اجتماعات بھی ہر سیاسی مؤقف کی غیر مشروط تائید ثابت نہیں کرتے۔ قیادت کی اصل صلاحیت یہ ہے کہ وہ عوامی جذبات کو واضح مقاصد، منظم جدوجہد اور قابلِ عمل سیاسی حکمت عملی میں تبدیل کرے۔ مسلسل تصادم اور سخت بیانات وقتی طور پر کارکنوں کو متحرک کر سکتے ہیں، مگر ان سے انتظامی مسائل حل نہیں ہوتے۔ مذاکرات کو کمزوری سمجھنا بھی غلط ہے اور اپنے اصول چھوڑ کر سمجھوتہ کرنا بھی ضروری نہیں۔ سنجیدہ سیاست ان دونوں انتہاؤں کے درمیان راستہ نکالنے کا نام ہے۔وفاقی حکومت کے لیے بھی یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی منتخب جماعت کو سیاسی طور پر محدود کرنے سے اس کے حامیوں کے تحفظات ختم نہیں ہو جاتے۔ جمہوریت میں مخالف جماعت کا وجود کسی حکومت پر احسان نہیں بلکہ سیاسی نظام کا بنیادی تقاضا ہے۔ آئینی اختیارات کا استعمال قانونی حدود، شفافیت اور جواب دہی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اگر ایمرجنسی اور گورنر راج کے ذریعے امن قائم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے تو اس کی کامیابی کا معیار دہشت گردی میں کمی، شہریوں کے تحفظ اور انتظامی بہتری کو ہونا چاہیے۔ اگر مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں تو پالیسی پر نظرثانی کی گنجائش موجود رہنی چاہیے۔ غیر معمولی اقدامات کو مستقل سیاسی بندوبست بنانے کے بجائے معمول کے جمہوری نظام کی بحالی کو واضح ہدف بنانا ضروری ہے۔
اس بحران سے نکلنے کے لیے دونوں فریقوں کو اپنی ترجیحات درست کرنا ہوں گی۔ وفاق کو صوبے کے تحفظ کے لیے قابلِ عمل منصوبہ، واضح جواب دہی اور سیاسی مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ تحریک انصاف کو بھی دہشت گردی کے خلاف تعاون، قانونی حقوق اور صوبائی خودمختاری کے معاملات پر واضح مؤقف اپناتے ہوئے تصادم کے بجائے مؤثر سیاسی جدوجہد کو ترجیح دینی چاہیے۔ اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن جب اختلاف کے باعث عوامی تحفظ خطرے میں پڑنے لگے تو قیادت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ اقتدار کی کامیابی مخالف کو کمزور کرنے میں نہیں، عوام کی زندگی بہتر بنانے میں ہے۔ اگر حکومت بدلنے یا اختیار منتقل کرنے کے باوجود شہری خوف میں رہیں، دہشت گردی کا خطرہ برقرار رہے اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتی رہیں تو ایسے فیصلوں کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ خیبر پختون خوا کے عوام کو سیاسی فتح کے دعوے نہیں، محفوظ زندگی اور جواب دہ حکمرانی چاہیےکیا ہمارے سیاسی رہنما کبھی جماعتی مفادات سے بلند ہو کر یہ حقیقت تسلیم کریں گے کہ ریاست کسی کی جاگیر نہیں، عوام کسی کے سیاسی اقتدار کی قیمت ادا کرنے کے پابند نہیں، اور سیاست اگر شہریوں کی زندگی آسان نہیں بنا سکتی تو اس کی ساری کشمکش کا جواز کیا ہے؟ جب تک اس سوال کا جواب عملی فیصلوں میں نظر نہیں آتا، اقتدار کی ہر نئی کشمکش جمہوریت کے نام پر عوام سے ایک نئی قیمت وصول کرتی رہے گی۔


