جنہوں نے اپنی جان پر ظلم کیا/ اورنگزیب اعظم

وسعتِ رحمت اور شفاعتُِ مصطفوی ﷺ

جس طرح کسی بھی اہم کتاب کا مقدمہ مصنف کے مقاصد کو بیان کرتا ہے، اسی طرح سورۃ الفاتحہ بندے اور خالق کے درمیان تعلق، دعا کے آداب اور زندگی کے درست راستے کا جامع نقشہ پیش کرتی ہے۔ اس کا آغاز “الحمد للہ رب العالمین” سے ہوتا ہے، جو کائنات کے پروردگار کی حمد اور اس کی ربوبیت کے آگے بندگی کے کامل اقرار کا اعلان ہے۔

اس سورہ کے اختتام پر ہدایت کے سیدھے راستے (صراطِ مستقیم) کے مقابلے میں انسانوں کے ان دو گروہوں کی نشان دہی کی گئی ہے جو ہدایت سے محروم رہے۔ المغضوب علیہم (غضب کیے گئے لوگ) یہ وہ لوگ ہیں جن تک سچائی اور حق پوری طرح واضح ہو کر پہنچ گیا، لیکن انہوں نے محض عناد، تکبر اور دانستہ سرکشی کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے باطل کا راستہ چنتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ بارگاہِ الٰہی کے غضب کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ الضالین (گمراہ لوگ) یہ وہ طبقہ ہے جو جہالت، بے خبری یا عدمِ علم کی وجہ سے سیدھے راستے سے بھٹک گیا اور تذبذب و اندھیرے میں مارا مارا پھر رہا ہے۔

“ظلمات” (تاریکیوں) کا اجتماع
جب یہ دونوں حالتیں یکجا ہوتی ہیں تو فکری اور عملی “ظلمات” (تاریکیوں) کا ایک مکمل اور ہولناک منظر سامنے آتا ہے:

راستے کی گمراہی (الضالین): انسان کا اپنے اصل مقصدِ حیات سے غافل ہو کر اندھیروں میں بھٹک جانا۔

دانستہ تاریکی کا انتخاب (المغضوب علیہم): نہ صرف اندھیروں کا مسافر بننا، بلکہ عناد اور نافرمانی کی اسی حالت میں زندگی گنوا دینا یا دانستہ طور پر اس تاریکی کو اپنا مقصدِ حیات بنا لینا۔

حقیقت یہ ہے کہ جب علم کی محرومی (گمراہی) اور عمل کا عناد (سرکشی) باہم ملتے ہیں، تو انسان علم و عمل دونوں اعتبار سے مکمل اندھیرے اور تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ ظلمات ہیں جن سے نکلنے کا واحد راستہ ربِ کریم کی ہدایت اور اس کی بے پناہ رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری اس مادی شکل کے اندر دو الگ حقیقتیں اکٹھی کر دی ہیں ۔ ایک ہمارا نفس ہے اور دوسری روح۔ اس دنیا کی آزمائش گاہ میں ہم سے جتنے بھی اچھے یا برے کام ہوتے ہیں، ان کے ظہور کا ذریعہ یہی ہمارا مادی جسم بنتا ہے۔ انسان کی روح کو معرفتِ الٰہی اور پاکیزگی کے لیے تخلیق کیا گیا ہے، لیکن جب مادی جسم کے ذریعے نفس غالب آ جائے اور روح کی بالادستی ختم ہو جائے، تو انسان اندھیروں (Dark Energies) کی دلدل میں جا گرتا ہے۔

اگر ظلم کے بنیادی مفہوم پر غور کریں تو ظلم کا مطلب یہی ہے کہ کسی چیز کو اس کے درست مقام سے ہٹا کر کسی غلط جگہ پر رکھ دیا جائے، اور “ظلمات” کا لفظ اندھیروں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب انسان نفسانی خواہشات کا اسیر ہو کر صراطِ مستقیم سے بھٹک جاتا ہے اور اپنے اندر کی روح کی آواز کو دبانے لگتا ہے، تو وہ رب کی حدود کو توڑتا ہے۔ لیکن اس المئے کے نتیجے میں حقیقت میں اللہ کا کچھ نہیں بگڑتا، بلکہ انسان صرف اور صرف اپنی ہی جان پر ظلم کر بیٹھتا ہے۔

انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری اس کمزوری اور خطاکاری کی داستان اتنی ہی پرانی ہے جتنا خود انسان۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک اور قیامت کے دن تک، انسان جب بھی اپنی حدوں سے تجاوز کرتا ہے، اس کے پاس سنبھلنے کا ایک ہی راستہ بچتا ہے، اور وہ وہی اعترافِ عاجزی ہے جو ہمارے جدِ امجد نے ہمیں سکھایا تھا:-

«رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ»
“اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم یقیناً خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔”

لیکن اس کہانی کا سب سے خوبصورت اور امید افزا رخ یہ ہے کہ ہمارے خالق نے ہمارے لیے توبہ اور رحمت کا در کبھی بند نہیں کیا۔ چاہے انسان اندھیروں کے کتنا ہی گہرے گھاٹ پر کیوں نہ پہنچ جائے، ربِ غفور کا پیغامِ امید ہر وقت اس کا منتظر رہتا ہے:-

«قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ…»
“آپ کہہ دیجیے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر حد سے زیادہ زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو…”

انسان کے اس ظلمِ نفس، گناہ کی تلافی اور وسعتِ رحمتِ الٰہی کے بیچ سب سے بڑا اور مضبوط وسیلہ شفاعتِ مصطفوی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے۔ شفاعت کے لغوی معنی ساتھ دینے کے ہیں، اور حقیقت بھی یہی ہے کہ حشر کے اس ہولناک دن میں، جب انسان اپنے ظلموں کے بوجھ تلے دبا ہوگا، تو اسے کسی اپنے کے ساتھ کی شدید ضرورت ہوگی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سورۃ بنی اسرائیل کا وہ عظیم الشان وعدہ “مقامِ محمود” جلوہ گر ہوگا۔ وہ مقامِ محمود جہاں تمام مخلوق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رفعت اور ان کے اذنِ شفاعت کی جلوہ گری دیکھے گی۔ یہی اذنِ شفاعتِ تام دراصل ہم جیسے ظلمِ نفس میں مبتلا گناہگاروں کے لیے رب کی رحمت کی سب سے بڑی عملی تجلی ہوگی۔

انسان کا سفر نافرمانی کی تاریکی یعنی ظلمِ نفس سے شروع تو ہوتا ہے، لیکن اگر سچی توبہ کی روشنی مل جائے تو وہ بارگاہِ الٰہی میں قبولیت پا لیتا ہے۔ اور قیامت کے دن شفاعتِ کبریٰ کا سایہ اس رحمت کو اپنے کمال تک پہنچا دیتا ہے۔ ضرورت بس اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ذات پر ظلم کا یہ سلسلہ بند کریں، سچے دل سے اپنے رب کے حضور لوٹ آئیں اور اس کی بے پناہ رحمت اور اپنے آقا ﷺ کی شفاعت کے سچے طلب گار بن جائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں