لیمفوما (Lymphoma) کی تشخیص اور کیمو تھراپی کا آغاز (1) -وحید مراد

اب تک کہانی ایک معمولی سی cyst کی سرجری کے گرد گھوم رہی تھی۔ کئی سال تک وہ گلٹی اپنی جگہ موجود رہی، کبھی بڑھی، کبھی تکلیف دی اور بالآخر سرجری کے بعد جب اس کا بائیوپسی سیمپل، پیتھالوجی لیبارٹری پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ معاملہ محض ایک سسٹ کا نہیں۔رپورٹ نے تصدیق کردی کہ اس میں ایسے خلیات موجود ہیں جو ایک قسم کے Lymphoma سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر ہمدان پاشا نے مزید علاج اور تشخیص کے لیے آغا خان میں ایک معروف اسپیشلسٹ سے ملنے کا مشورہ دیا لیکن وہاں ملاقات کے لیے تقریباً ایک ماہ انتظار کرنا پڑتا۔اتنے عرصے کا انتظار مناسب محسوس نہیں ہوا۔

ایک مہربان دوست ڈاکٹر لبنیٰ عباسی، جو انڈس ہسپتال میں کنسلٹنٹ ہیں، میری سرجری کی خبر ملنے کے بعد سے بائیوپسی رپورٹ کا انتظار کر رہی تھیں۔ وہ کئی مرتبہ کہہ چکی تھیں کہ رپورٹ آتے ہی انہیں دکھائی جائے تاکہ وہ اگلے مرحلے کے بارے میں رہنمائی کرسکیں۔رپورٹ آتے ہی انہیں بھیجی گئی۔ ان کا مشورہ تھا کہ پہلے PET Scan کرایا جائے اور پھر تمام رپورٹس کے ساتھ آغا خان میں ڈاکٹر دانش شکیل سے ملاقات کی جائے۔ اس طرح ایک طرف وقت بچے گا اور دوسری طرف صرف رپورٹس دکھانے کے لیے الگ الگ کئی ملاقاتیں کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

چنانچہ PET Scan مکمل ہوا اور اس کی رپورٹ کے ساتھ ڈاکٹر دانش شکیل سے ملاقات کی۔PET Scan کی رپورٹ میں ایک اہم بات لکھی ہوئی تھی کہ چونکہ اسکین سرجری کے صرف بیس دن بعد کیا گیا تھا، اس لیے آپریشن کے بعد healing tissues میں بھی FDG uptake آنا ممکن تھا۔ یہ امکان بھی تھا کہ آپریشن کے مقام پر کچھ residual lymphoma tissue موجود ہوں۔اسی لیے ریڈیالوجسٹ نے کوئی حتمی فیصلہ دینے کے بجائے لکھا(Post-operative changes vs residual disease) یعنی PET Scan میں جو سرگرمی نظر آرہی ہے وہ صرف زخم کے بھرنے کے عمل کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں lymphoma کے کچھ خلیات باقی ہوں۔

ایک لحاظ سے یہ بھی اطمینان بخش بات تھی کہ اگر واقعی lymphoma موجود تھا تو اس وقت تک PET Scan اسے گردن کے اسی محدود حصے تک دکھا رہا تھا جہاں سرجری ہوئی تھی۔ڈاکٹر دانش شکیل نے تفصیلی معائنہ اور تمام رپورٹس دیکھنے کے بعد بتایا کہ بیماری ابتدائی مرحلے اور local disease کی صورت میں نظر آرہی ہے اور اس کا علاج ممکن ہے۔ انہوں نے کچھ مزید ٹیسٹ لکھے اور پھر انڈس ہسپتال میں ڈاکٹر زنیرہ رفیق (Hematologist) سے ملاقات کا مشورہ دیا۔ ڈاکٹر زنیرہ، ڈاکٹر لبنیٰ عباسی کی کولیگ ہیں اور ڈاکٹر لبنیٰ پہلے ہی میرے بارے میں انہیں تفصیلات بتا چکی تھیں۔

ڈاکٹر دانش سے ملاقات کے دوران ایک اور سوال بھی ذہن میں آیا اور میں نے پوچھا کہ کیا آغا خان کی بائیوپسی رپورٹ کو سو فیصد حتمی سمجھا جائے؟ کیا اسے کسی دوسرے pathologist یا دوسری لیبارٹری سے ریویو نہیں کروایا جاسکتا؟انہوں نے جواب دیا کہ ایسا ممکن ہے لیکن اس میں وقت لگے گا اور ممکن ہے علاج شروع ہونے میں مزید تاخیر ہوجائے۔ان کا مؤقف یہ تھا کہ اگر موجودہ رپورٹ میں بیماری کے واضح آثار موجود ہیں تو علاج شروع کرنا زیادہ اہم ہے۔ بعد میں اگر دوسری رائے کچھ مختلف آتی ہے تو اس کے مطابق صورتِ حال کا دوبارہ جائزہ لیا جاسکتا ہے لیکن صرف دوسری رائے کے انتظار میں علاج مؤخر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔یہ بات سن کر مزید بحث کی گنجائش محسوس نہیں ہوئی اور میں نےخاموشی اختیار کرلی۔

علاج کے لیے ڈاکٹر دانش شکیل نے R-CHOP دوا تجویز کی۔ یہ نام بظاہر ایک دوا کا لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ پانچ ادویات (Rituximab، Cyclophosphamide، Doxorubicin، Vincristine اور Prednisolone) کا مجموعہ ہے۔ اور ان پانچ دواؤں کے علاوہ کیمو تھراپی سے پہلے اور دوران کئی معاون ادویات (pre-medication)بھی دی جاتی ہیں تاکہ جسم کیموتھراپی کو برداشت کرسکے۔ یوں ایک سائیکل میں تقریباً دس بارہ مختلف ادویات کا سلسلہ بن جاتا اوراس پورے عمل میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ انڈس ہسپتال، کورنگی میں اس مخصوص کیمو تھراپی پروٹوکول کا استعمال بنیادی طور پر بچوں کے کینسر ٹریٹمنٹ میں ہوتا تھا۔ چونکہ بیماری ابتدائی مرحلے میں تھی اور ڈاکٹر کے مطابق یہی طریقہ کارمیرے لیے موزوں تھا، اس لیے میں وہاں اس پروٹوکول کے تحت علاج لینے والا ایک نیا adult patient تھا۔ ڈاکٹر زنیرہ رفیق اس شعبے کی انچارج ہیں۔ ان کے مطابق ان کی پریکٹس میں مجھ سے پہلے اس نظام کارکے تحت تقریباً تمام مریض بچے ہی رہے تھے اور میں ان کے لیے دوسرا adult patient تھا۔یوں ایک ایسے سفر کا آغاز ہوا جس کا اندازہ شاید اس وقت کسی کو نہیں تھا۔

اگلے دن انڈس ہسپتال پہنچا تو ڈاکٹر لبنیٰ عباسی کا اسٹاف میرا انتظار کر رہا تھا۔ پہلے رجسٹریشن ، پھر لیبارٹری میں خون اور پیشاب کےسیمپلز ، وزن، بلڈ پریشر، بخاراور دوسرے ضروری assessments ہوئے۔ڈاکٹر زنیرہ سے ملاقات ہوئی اور مجھے دو دن کے لیے داخل کرلیا گیا۔ایک خصوصی کمرہ دیا گیا جو intensive care وارڈ کے اندر تھا۔ کمرے میں پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ضروری ادویات بھی آنا شروع ہوگئیں۔ پری میڈیکیشن کے باوجود جب پہلی کیموتھراپی شروع ہوئی تو جسم نے اسے آسانی سے قبول نہیں کیا۔

سر میں شدید درد، چکر، متلی اور نیم بے ہوشی جیسی کیفیت ہونے لگی۔پہلی دوا تقریباً 500 ملی لیٹر تھی اور عموماً اسے پانچ چھ گھنٹے میں دیا جاتا ہے۔ ابتدا صرف 30 ملی لیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوئی لیکن جسم کا ردعمل دیکھ کر رفتار کئی مرتبہ کم کی گئی، دوا روکی گئی، دوسری ادویات دی گئیں اور پھر دوبارہ شروع کی گئی۔جو دوا چند گھنٹوں میں ختم ہونی تھی وہ تقریباً بارہ سے چودہ گھنٹے میں مکمل ہوئی۔پوری رات یہ سلسلہ چلتا رہا۔ صبح تقریباً دس بجے پہلی دوا ختم ہوئی تو ایک عجیب سا اطمینان ہوا جیسے کوئی پہاڑ سر کرلیا ہو۔لیکن اصل کیموتھراپی ابھی باقی تھی۔ میرے ساتھ موجود attendants کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں کہ اب آگے کیا ہوگا؟

تین چار گھنٹے کے وقفے کے بعد کیمو تھراپی کی مزید چار دوائیں ملنی تھیں۔ ان سے پہلے پھر کئی معاون ادویات دی گئیں اور دوپہر بارہ بجے اصل کیموتھراپی کا اگلا مرحلہ شروع ہوا۔ایک بازو میں کیموتھراپی چل رہی تھی، دوسرے بازو میں ہائیڈریشن کے لیے ڈرپ اورساتھ بلڈ پریشر اور مانیٹرنگ کے آلات بھی لگے ہوئے تھے۔ ہر گھنٹے بعد بخار،شوگر وغیرہ چیک ہورہی تھی اور لیبارٹری کے لیے بلڈ سیمپلزبھی لیے جارہے تھے۔ جسم تقریبا مشینوں کا حصہ بن چکا تھا۔ دواؤں کی ٹیوبز، ڈرپس، مانیٹرنگ کی تاریں اور مشینوں کے درمیان اپنی مرضی کی حرکت محدود ہوچکی تھی۔ بس سانس آرہی تھی اور انتظار تھا کہ دوا کب ختم ہوگی۔

شام چھ بجے کیمو تھراپی مکمل ہوئی۔ اس کے بعد تقریباً دو گھنٹے observation میں رکھا گیا اور پھر ڈسچارج کردیا گیا۔رات ساڑھے نو، دس بجے گھر پہنچا۔گھر میں سب لوگ بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ سب کو فکر تھی کہ کیموتھراپی کے بعد معلوم نہیں میری کیا حالت ہوگی۔ گھر پہنچتے ہی سب کو تسلی دی کہ کچھ نہیں ہوا، سب ٹھیک ہے۔فون مسلسل آ رہے تھے، ہر شخص کو یہی جواب دیا کہ طبیعت ٹھیک ہے۔اگلی صبح معمول کے مطابق آفس پہنچ گیا۔

اس پورے علاج کے دوران کام سےکوئی چھٹی نہیں کی ۔سرجری کے دوسرے ہی دن آفس چلا گیا تھا۔ چہرے پر ماسک، گردن پر پٹی اور کام معمول کے مطابق۔ کیمو تھراپی کے دوران بھی صرف اتنی چھٹیاں کیں جتنے دن ہسپتال میں رہنا ضروری تھا۔ ایک مرتبہ انڈس ہسپتال سے جلدی ڈسچارج ہوا تو سیدھا آفس چلا گیا اور شام تک کام کیا۔چکر آتے تھے، متلی رہتی تھی۔ کئی مرتبہ دیکھنے ،ملنے والوں نے کہا کہ چھٹیاں کر لو اور گھر جاکر آرام کرو لیکن ذہن میں ایک بات طے تھی کہ جب تک نڈھال ہوکر گر نہ پڑوں، کام کرتا رہوں گا۔اللہ کا شکر ہے، گرنے کی نوبت نہیں آئی اور کام چلتا رہا۔

پہلی کیموتھراپی کے تقریباً ایک ہفتے بعد CBC کرایا گیا۔ سفید خون کے خلیات اورneutrophils کم ہوچکے تھے، جو کیموتھراپی کا ایک معروف اثر ہے۔ لیکن ڈاکٹرز کے مطابق ابھی یہ اتنے کم نہیں ہوئے تھے کہ (G-CSF /Filjen) دینا ضروری سمجھا جائے۔مجھے اس وقت اس دوا کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں، اس لیے خاموش رہا۔کچھ دن بعد دوبارہ CBC کروانے کا کہا گیا۔دوسرا ٹسٹ کیموتھراپی کے پندرہویں دن ہوا۔شام کو رپورٹ آئی۔ اس وقت میں آفس سے گھر آرہا تھا اور راستے میں تھا کہ ڈاکٹر لبنیٰ عباسی کا فون آیا کہ گھر مت جائیں، سیدھا انڈس ہسپتال کی ایمرجنسی پہنچیں۔وجہ یہ تھی کہ میرے وائیٹ بلڈ سیلز اور neutrophils تقریباً صفر کے قریب پہنچ چکے تھے۔ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ایمرجنسی پہنچا اور بیڈ ملتے ملتے تقریباً دس بج گئے۔

رات ایک بجے تک ایمرجنسی میں رکھا گیا۔ اس دوران ہائی لیول اینٹی بائیوٹکس شروع ہوئیں، جن میں(Tazobactam, Piperacillin اور Vancomycin) شامل تھیں۔وینکو مائی سین شروع ہوتے ہی جسم اور دماغ کی عجیب کیفیت ہوگئی ۔ میں نے ڈاکٹر کو بتایا کہ ری ایکشن ہورہا ہے چنانچہ دوا روکی گئی۔ پھر دوبارہ چلائی گئی۔ دوبارہ وہی ری ایکشن ہوا، پھر روکی گئی۔ تیسری مرتبہ شروع کی گئی اور جب ایک بار پھر یہی شکایت ہوئی تو بالآخر اسے مستقل روک دیا گیا۔

اس کے بعد مجھے intensive care کے special room میں منتقل کردیا گیا جہاں نرسنگ اسٹاف بھی ڈبل ماسک پہن کر آرہے تھے اور مجھے بھی مستقل طورپر ماسک پہننے کی ہدایت تھی اور اٹینڈنٹس کو ساتھ رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ اینٹی بائیوٹکس کے چار ڈوز کا سلسلہ دو دن تک چلتا رہا۔اس دوران بھوک مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ہسپتال کا کھانا چھوڑ دیا۔ باہر سے کھانا، ادویات یا دوسری چیزیں اندر لانے کی اجازت نہیں تھی۔ یوں جسم کا سہارا زیادہ تر ڈرپس ہی رہ گئیں۔اسی دوران سفید خون کے خلیات بڑھانے کے لیے(Filjen injections)بھی دیے گئے۔

ان ٹیکوں کے بعد کولہوں، رانوں اور ریڑھ کی ہڈی میں شدید درد شروع ہوگیا۔ ڈیوٹی ڈاکٹر کو بتایا تو انہیں لگا کہ شاید مسلسل بستر پر لیٹے رہنے کی وجہ سے درد ہورہا ہے۔ وضاحت کی کہ یہ درد انجکشن کے بعد شروع ہوا ہے اور اس کا سائیڈ افیکٹ ہوسکتا ہے۔جواب ملا:کیا آپ ڈاکٹر ہیں؟مسکرا کر بات ختم کردی گئی۔پھر ڈاکٹر لبنیٰ عباسی کو بتایا۔ ان کے مشورے پر درد کی دوا دی گئی اور درد کچھ دیر میں کم ہوگیا۔لیکن اصل مسئلہ برقرار تھا یعنی بھوک بالکل نہیں تھی۔

دو دن بعد رات کو ڈسچارج کردیا گیا۔ گھر پہنچتے پہنچتے اتنی کمزوری تھی کہ بات کرنے کی بھی ہمت نہیں تھی۔کمرے میں گیا، شاور لیا، کپڑے بدلے، اندر سے دروازہ بند کیا اور اٹینڈنٹ سے کہا کہ گھر میں سب کو کہہ دو صبح ملوں گا، ابھی آرام کرنا ہے۔گھر والوں کی پریشانی اور بڑھ گئی۔آدھی رات کے قریب آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ سب ابھی تک میرے جاگنے اور ملنے کے انتظار میں تھے۔ دروازہ کھولا، سب سے ملا اور بتایا کہ ہسپتال میں مشینوں کی آوازیں،ڈاکٹرز اور نرسوں کی مسلسل آمدورفت اور بات چیت کی وجہ سے کئی راتوں سے مناسب نیند نہیں ہوئی تھی۔سب کو کچھ تسلی ہوئی۔لیکن کھانے کا مسئلہ اپنی جگہ موجود تھا۔تھوڑا بہت فروٹ، ڈرائی فروٹ یا یخنی کے علاوہ کچھ کھانے کو دل نہیں چاہتا تھا۔اگلی صبح پھر آفس چلا گیا۔

دو دن گزرے،پھر تین،چار،پانچ روز لیکن بھوک واپس نہیں آئی۔ ڈاکٹر لبنیٰ عباسی کو تمام صورتحال بتائی۔ انہوں نے appetite بڑھانے کی دوا تجویز کی، لیکن اس سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔پھر انہوں نے CBC کے ساتھ creatinine test کروانے کا کہا۔رپورٹ آئی تو ایک اور مسئلہ سامنے تھا یعنیCreatinine 0.8 سے بڑھ کر 3.4 تک پہنچ چکا تھا۔اب ایک بار پھر ہسپتال جانا پڑا۔ایک ہی مہینے میں یہ تیسرا ایڈمشن تھا۔اس مرتبہ ملاقات ڈاکٹر سلیمان امتیاز(Nephrologist) سے ہوئی۔ انہوں نے اپنے اسسٹنٹ کے ساتھ تقریباً آدھے گھنٹے تک تفصیلی معائنہ کیا، سوالات کیے، میڈیکل ہسٹری دیکھی، مزید ٹسٹ کروائے اور پوری صورتحال کا جائزہ لیا۔

طویل میٹنگ اور غوروخوض کے بعد وہ جزوی طورپر اس بات کے قائل ہوئے کہ شدید اینٹی بائیوٹکس، بالخصوص Vancomycin، نے گردوں پر اثر ڈالا اور اس کے نتیجے میں creatinine خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا۔انکے خیال میں اسکا حل ہائیڈریشن تھی لیکن یہ کوئی سادہ اور بہت آسان بات نہیں تھی۔چوبیس گھنٹے ہسپتال میں رکھا گیا، کئی ڈرپس لگیں۔ پھر دوبارہ ٹسٹ ہوئے تو creatinine کم ہوکر تقریباً 1.5 تک آگیا۔ڈسچارج کرتے ہوئے ہدایت ملی کہ ہر بارہ گھنٹے میں تقریباً ڈیڑھ لیٹر پانی پینا ہے۔کئی دن اس ہدایت پر سختی سے عمل کیا۔آہستہ آہستہ creatinine بھی معمول پر آگیا اور بھوک کی صورتحال بھی بہتر ہوگئی۔

ایک ہی ماہ میں تین مرتبہ ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد جب گھر واپس آیا تو جسم میں توانائی نام کی کوئی چیز باقی نہیں تھی۔چہرہ اور جسم دونوں کمزور دکھائی دے رہے تھے۔ کئی دنوں سے نیند پوری نہیں ہوئی تھی۔ کھانا معمول کے مطابق نہیں تھا۔کیمو تھراپی، اینٹی بائیوٹکس، انجکشنز، ڈرپس، مشینوں کی آوازیں، مانیٹرنگ کےآلات، دونوں ہاتھوں پر کینولا اورباربار کے بلڈ ٹسٹوں نے جسم کو تھکا کر رکھ دیا تھا۔ دونوں بازئووں پر انگلیوں سے لےکرکہنی تک کوئی جگہ ایسی نہیں بچی تھی جس کو بار بارچھیدا نہ گیا ہو۔گھر پہنچتے ہی سو گیااور نیند سے پہلے نیم خوابی میں ایک ہی خیال بار بار ذہن میں گردش کر رہا تھا کہ اللہ اللہ کرکے کیمو تھراپی کا ایک سائیکل مکمل ہوگیا ہے اور اگر باقی علاج کا مطلب یہی اذیت ہے تو پھر یہ زندگی کس کام کی؟ اب مزید کیمو تھراپی نہیں کروانی خواہ نتیجہ جو بھی ہو،بیماری رہے یا ختم ہو۔اس اذیت ناک علاج سے بہتر ہے انسان بیماری سہتے ہوئے ہی مر جائے۔ (جاری)

اپنا تبصرہ لکھیں