نئے صوبوں کا قیام: انتظامی ضرورت یا گورننس کا نیا چیلنج؟- سید حسیب شاہ

ملک میں اس وقت 28 ویں آئینی ترمیم لائے جانےکی بحث چل رہی ہے اس میں ملک کے آئین کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے والے وسیع پیمانے پہ تبدیلیاں شامل ہیں یہ تبدیلیاں کرنے کی ضرورت کیوں پڑی اس کی وجہ ملک کے اصل حکمران ایلیںٹ کا اس نتیجے پہ پہنچننا کہ موجودہ نظام مکلمل طور پہ ناکام ہوچکا ہے اور مزید یہ نظام لوگوں کے مسائل حل کرنے سے رہا اس لئے اس کو کسی متبادل نظام کے ساتھ تبدیل کیا جائے اس نئے نظام کے اندر نئے صوبوں کے قیام کے لئے آئین میں ترمیم کی شق بھی شامل ہے جس پہ ملک کے سیاست دانوں اورعوام الناس میں بحث و مباحثہ جاری ہے لیکن اس بحث کو صرف نئے صوبوں کے قیام تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کو بہتر گورننس کی فراہمی اور سیاسی اور مالی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے مربوط کرنا چاہیے ناک صرف مسافت کی کمی اور علاقائ مطالبات کی منظوری _ اصل مسئلہ زیادہ صوبوں کے قیام کا نہیں بلکہ اختیارات، وسائل اور احتساب شہریوں کی دہلیز تک پہنچاننا ہے اور بغیر بہتر گورننس کے نئے صوبوں کا قیام اخراجات میں اضافے کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا کیونکہ اگر پندرہ یا بیس نئے صوبے بنتے ہیں تو اس کا مطلب ہے پندرہ بیس وزراء اعلی، گورنرز، وزراء اعلی سیکریٹیریٹس،گورنر ہاوسسز،صوبائ سیکریٹریٹس، اسمبلیز، ایم پیز ایم این ایز یہ سب کچھ ملک پہ بھاری بھر کم اخراجات کی صورت میں برآمد ہوں گے اگرچہ ملک کی موجودہ آبادی ،علاقائ تنوع ،جغرافیائ اور انتظامی تضادات اور خطے کے دیگر ممالک سے اس کا موازانہ کرتے ہوئے موجودہ انتظامی بندوبست ناکافی لگتا ہے امریکہ کی اس وقت 34 لاکھ 90 کروڑ آبادی پہ 50 ،انڈونشیا کی 28 کروڑ 80 لاکھ پہ 38، نائجیریا کی24 کروڑ 20 لاکھ پہ 36 ریاستیں ہیں براذیل کی 21 کروڑ 30 لاکھ پہ 26 رشیا کی14 کروڑ پہ 89 وفاقی سبجیکٹس ہیں میسیکو کی 13 کروڑ 30 لاکھ پہ 31 فلپائن کی 11 کروڑ 70 لاکھ پہ 82 صوبے مصر کی 12 کروڑ پہ 27 گورنیٹس ترکی کی 8 کروڑ 60 لاکھ پہ 81 صوبے جبکہ ایران کی 9 کروڑ 20 لاکھ پہ 31 صوبے ہیں اس لحاظ سے پاکستان کی 26 کروڑ 20 لاکھ پہ 4 صوبے بالکل بھی ناکافی لگتے ہیں اس لئے نئے صوبوں کا قیام ضروری ہیں لیکن اس کے لئے اس حد تک کی عجلت سمجھ سے بالاتر ہے ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک یہ ایک انتظامی مسئلہ ہے اس لئے نئے صوبوں کا قیام محض انتظامی بنیادوں پہ ہونا چاہیے نہ کہ لسانی اور نسلی بنیادوں پہ حالانکہ عرصہ دراز سے جتنے صوبوں کے مطالبات ہیں وہ پنجاب میں ساوتھ پنجاب،پوٹھوار ،بلوجستان میں جنوبی پشتونخوا، خیبر پختون خوا میں ہزارہ اور سندھ میں مہاجر صوبے کی جو ڈیمانڈز ہیں وہ نسلی لسانی بنیادوں پہ ہیں نہ کہ انتظامی بنیادوں پہ اور اس کے ساتھ سیاسی نمائندگی،شناخت، وسائل تک رسائ اور غیر ہموار ترقی کی وجوہات بھی شامل ہیں اس لئے نئے صوبوں کے قیام کی بات کو مطلقا رد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کچھ صوبوں کی موجودہ انتظامی ساخت اتنی بڑی ہیں کہ اس کا موثر انتظام چلانا ریاست کے بس کی بات نہیں رہی ملک کا اکیلا پنجاب صوبہ اس وقت دنیا کے 195 میں سے 183 ممالک سے آبادی کے لحاظ سے بڑا ہے اور اگر پنجاب ایک الگ ملک ہوتا تو انڈیا، چائنا، امریکہ، براذیل، نائجیریا، انڈونشیا ،رشیا، بنگلہ دیش، ایتھوپیا اور خود پاکستان کے بعد دنیا کا بارواں بڑا ملک ہوتا نئے صوبوں کے قیام کی بحث میں لازما استدلال ہے کیونکہ چھوٹے صوبے یقینا انتظامی مسافت میں کمی، اور علاقائ نمائندگی میں بہتری کا باعث بن سکتے ہیں لیکن سوال یی ہے کہ کیا نئے صوبوں کا قیام خود بخود حکومتی انتظام و انصرام کو بہتر بنائے گی؟ اس لئے اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ پاکستان کے کتنے صوبے ہونے چاہیے بلکہ یہ ہے کہ کس طرح طاقت، وسائل اور احتسابی عمل عوام کی دسترس میں ہو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کا ارتکاز صوبائ دارلحکومتوں میں نہ ہو جیسے اب ہے _جب تک اختیارات نچلی سطح پہ منتقل نہیں ہوتے شہریوں کی زندگیوں پہ کوئ جوہری اثرات مرتب ہونے سے رہے صرف چھوٹے صوبے ہی تمام مسائل کا ممکنہ حل ہوتے تو پھر پنجاب کا حجم کے لحاظ سے سے سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود کئ ترقیاتی اعشارئیے دوسرے صوبوں کی نسبت بہتر نہ ہوتے چھوٹے صوبے چلانا آسان ہوں گے لیکن اگر اس کے ادارے کمزور ہوں گے تو یہ کسی صورت میں بھی موجودہ صوبوں سے کارکردگی کی بنیاد پہ بہتر نہیں ہوں گے _ اب دو ممکنہ رستے ہو سکتے ہیں پہلا رستہ یہ پے کہ صوبوں کے موجودہ ماڈل کو برقرار رکھ کے نئے صوبے بنائے جائے _ لیکن یہ مسئلے کا کوئ حل نہیں ہوگا بلکہ یہ گورننس میں بہتری لائے بغیر موجودہ اخراجات میں مزید اضافے کا باعث ہوگا اس طرح اختیارات کے انھی ہاتھوں میں ارتکاز کے ساتھ یہ مزید دارلحکومتوں میں اضافے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہوگا دوسرا رستہ ایسا ہے جس کے تحت نئے صوبوں کا قیام معاشی اور اقتصادی طور پہ قابل جواز ہوسکتا ہے وہ ہے تین سطحی حکومتی نظام جس کے اندر وفاقی، صوبائ اور مقامی حکومتوں کی ذمہ داریاں واضح طور پہ متعین کر دئ گئ ہو آئین کے آرٹیکل-140A کے تحت سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کی نچلی سطح پہ منتخب مقامی حکومتوں کو منتقلی کا میکانزم مجود ہو لیکن اصل مسئلہ نفاذ کا ہے اس لئے پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام نہ تو تمام مسائل کا خودکار حل ہے اور نہ اسے کسی قسم کے مسئلے میں رکاوٹ قرار دے کر مسترد کیا جانا چاہیے_ کچھ مزید صوبوں کا قیام سیاسی، انتظامی اور معاشی اعتبار سے ملک کے کچھ مسائل کا حل ہو سکتے ہیں ۔ لیکن دیکھنا یہ چاہیے کہ آیا یہ نئے انتظامی یونٹس سرکاری وسائل کے بہتر استعمال، جواب دہی، معاشی مواقع اور عوامی خدمات کی فراہمی کے نظام میں بھی بہتری لا سکتے ہیں یا نہیں_.

اپنا تبصرہ لکھیں